مڈل اسٹینڈرڈ کی امتحانی ڈیوٹی کے معاوضہ میں اضافہ اور امتحانی میٹریل کی کوالٹی کو بہتر بنا یا جائے ،حاجی حمید اللہ زڑسواند 90

مڈل اسٹینڈرڈ کی امتحانی ڈیوٹی کے معاوضہ میں اضافہ اور امتحانی میٹریل کی کوالٹی کو بہتر بنا یا جائے ،حاجی حمید اللہ زڑسواند

مڈل اسٹینڈرڈ کی امتحانی ڈیوٹی کے معاوضہ میں اضافہ اور امتحانی میٹریل کی کوالٹی کو بہتر بنا یا جائے ،حاجی حمید اللہ زڑسواند

کوئٹہ ( پ ر) اساتذہ کے مسائل کے حل اور سرکاری سکولوں کی بہتری کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرئے گا ریٹائر ڈ ہورہے سینئر اساتذہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اگر ویری فیکیشن کے نام پر اساتذہ کو اُلجھانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف بھر پور لائحہ عمل اپنائیں گے ان خیالات کا اظہارگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کوئٹہ ڈویژن کی کابینہ کے اراکین نے کیا ہے گزشتہ روز صدر حاجی حمید اللہ زڑسواند، جنرل سیکریٹری عظمت اللہ رئیسانی ، میڈیا سیکریٹری خالدحسین ، سیف الرحمن فنانس سیکریٹری ،علی محمد اچکزئی اور غلام مصطفی کے درمیان ملاقات میں کوئٹہ ڈویژن کے اساتذہ اور سرکاری سکولوں کے مسائل اور اُن کے حل پر بات چیت کرتے ہوئے

اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ریٹائرڈ ہورہے سینئر اور سفید ریش اساتذہ کو پہلی تقرری کے احکامات کی ویری فیکیشن کے نام پر کئی کئی ماہ محکمہ تعلیم کے دفاتر میں چکر لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے جب کہ حیر ت کی بات تو یہ ہے کہ ساٹھ سال کی عمر تک سروس کرنے والوں کو یہی افسران ماہانہ تنخواہیں بھی ادا کرتے رہتے ہیں اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے وقت اُنہیں کہا جاتا ہے کہ آپ کی پہلی تقرری کے احکامات کی تصدیق کی جائے گی کہ جعلی تو نہیں ہیں اُنہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے

کہ بھرتی ہونے سے ریٹائرمنٹ تک کا عرصہ تقریباً پچیس سے تیس سال بلکہ بعض کیسز میں اس سے بھی زیادہ بنتا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ سروس کے آخری ایام میں محض اساتذہ کو پریشان کرنے کے لیے ایسی بلاجواز اور مذاق پر مبنی اقدامات اُٹھائے جاتے ہیں اُنہوں نے مزید کہا کہ کسی دیگر صوبائی محکمہ میں ایسی کوئی بھی بلاجواز اور مذاق پر مبنی پابندی نہیں ہے اُنہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حالیہ مڈل اسٹینڈرڈ کے سالانہ امتخانات میں امتحانی سازوسامان اور جوابی کاپیوں کی کوالٹی میں بہتری لائی جائے اور امتحانی عملہ اور جوابی کاپیوں کی جانچ پڑتال کے ریٹ میں اضافہ کیا جائے

اُنہوں نے کہا کہ صرف ضلع کوئٹہ میں بائیس سے چوبیس ہزار طلباء و طالبات امتحان میں شرکت کرتے ہیں اور فیسوں کی مد میں ایک بڑی رقم حاصل ہوتی ہے مگر اس کے باوجود بھی جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ بہت ہی کم اور اساتذہ کے شایان شان نہیں ہے اور اساتذہ کو قابل قبول بھی نہیں ہے اور خاص طور پر خواتین اساتذہ کو ان امتحانات میں ڈیوٹی انجام دینے میں کافی دشواری پیش آتی ہے اُنہوں نے مزید کہا کہ خواتین اساتذہ کے مسائل میں روز بروز اضافہ قابل تشویش ہے اور اُن کے بلاجواز تبادلے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کئے جائیں گے خواتین اساتذہ کو ٹرانسفرز کے معاملات میں الجھا یا جارہا ہے جس سے اُنہیں ذہنی کوفت کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں