ملک کو بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے کنگال کردیا،چیئر مین ایم کے پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی 95

ملک کو بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے کنگال کردیا،چیئر مین ایم کے پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی

ملک کو بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے کنگال کردیا،چیئر مین ایم کے پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی

ملک کو بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے کنگال کردیا قومی مفاد کی خاطر ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں اسی پراجیکٹ کے تحت عالمی معیار اور تقاضوں سے ہم آہنگ گڈانی فش ہاربر کے آپریشنل ہونے سے ہزاروں ماہی گیروں سمیت ایک لاکھ سے زائد روزگار اور سی فوڈ ایکسپورٹ سے سالانہ کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا

اسلام آباد(ایف ایس میڈیا نیٹ ورک)ایم کے پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکمپنی کے چیئر مین ملک محمد خان نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں گڈانی فش ہاربرپراجیکٹ سے متعلق سفارشات سپریم کورٹ نے سینیٹ آف پاکستان بھیج دیئے تھے سینیٹ میں 14سینیٹرز پر مشتمل فنکشنل کمیٹی ان ڈیولیوشن کی 22فروری 2018کو ہونے والے اجلاس کی سفارشات پر حکومتی اور بیورکریسی نمائندوں نے ہاتھ اوپر کردیئے۔رشوت کی عرض سے سمری وزیر اعظم شاہدخان عباسی تک نہیں پہنچائی جارہی ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ ملک کو بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے کنگال کردیا قومی مفاد کی خاطر ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں اسی پراجیکٹ کے تحت عالمی معیار اور تقاضو ں سے ہم آہنگ گڈانی فش ہاربر کے آپریشنل ہونے سے ہزاروں ماہی گیروں سمیت ایک لاکھ سے زائد روزگار اور سی فوڈ ایکسپورٹ سے سالانہ کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ پاکستان میں ایک بھی فش ہاربر ایسا نہیں جو یورپ یونین کے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہو۔

ملک کو بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے کنگال کردیا،چیئر مین ایم کے پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی
ملک کو بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے کنگال کردیا،چیئر مین ایم کے پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی

یورپی یونین کے ڈپٹی ہیڈنے گڈانی فش ہاربر کا 2013 دورہ میں کیا ان کو گڈانی فش ہاربر کا ماحول بہت پسند آیاتھا کراچی فش ہاربر پر گندگی کی وجہ سے یورپ یونین نے پاکستان سے مچھلی کی درآمد پر پہلی پابندی 1998 میں لگائی دوسری پابندی 2005 اور تیسری 2007 میں لگائی کراچی فش ہاربر کی گنجائش 700کشتیوں تک ہے جبکہ یہاں 3000سے زائد کشتیاں مچھلی اتارتی ہیں بلوچستان کی کشتیاں آئے دن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جو بلوچستان کے غریب ماہی گیروں کیلئے ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔

ان کا کہناتھا کہ کراچی ہاربر سے اضافی کشتیوں کا بوجھ کم کردیاجائے تاکہ حفظان صحت کے اصولوں کو اپنایا جاسکے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ گڈانی فش ہاربر جنگی بنیادوں پر حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق بنایا اور چلایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ فیکٹریوں کو”ای یو“ کی منظور شدہ لسٹ میں شامل کیا جا سکے۔گڈانی فش ہاربر کی 172 ایکڑ اراضی پی ٹی ڈی سی کی ملکیت ہے اور انہیں قانون کے مطابق زمین بیچنے یا خریدنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔2014 میں پی ٹی ڈی سی نے زمین کی فروخت یا لیز کا اشتہار دیا۔

ایم کے پاکستان کی تجویز برائے خریداری 2015 میں منظور ہوئی۔پی ٹی ڈی سی نے پھر اس کی منظوری کے لئے وزیر اعظم اپیل کر دی۔2015 میں ہی کیبنٹ سیکرٹری نے وزیراعظم کیلئے سمری تیار کی اور کہا کہ سمری وزیراعظم سیکرٹیریٹ کی ہدایت کے مطابق رکی ہوئی ہے پی ٹی ڈی سی کو یہ زمین خریدے ہوئے 42 سال ہو گئے ہیں لیکن تاحال وہاں ایک پودہ تک نہیں لگایا گیا ہے۔

دوسرے ممالک میں سرمایہ کاروں کو ایسے پراجیکٹ بنانے کیلئے دعوت دی جاتی ہے لیکن مقامی سرمایہ کار اگر قومی مفاد کا کوئی پراجیکٹ بنائے تو بے شمار رکاوٹیں ڈال دی جاتی ہے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات ہوئی نواز شریف نے کیس کا مطالعہ کیا مطالعہ کے بعد پروجیکٹ کو سراہا، کیس کو قومی مسئلہ قرار دیاتھا اور معاملے کے حل کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔

نوازشریف نے کام کی ذمہ داری ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد کے ذمے لگائی تھی وزیر اعظم سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور فواد حسن فواد کی رکاوٹ کے حوالے سے بتایا فواد حسن فواد کام کیلئے ہم سے رشوت طلب کر رہے تھے۔

وزیراعظم شاہد خاکان عباسی نے بھی منظوری کا وعدہ کیا لیکن تاحال کوئی کاروائی نہیں ہوسکی

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مسئلے پر سو موٹو ایکشن لیں۔سینٹ کی کمیٹی کے فیصلے کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے پی ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی میٹنگ کے فیصلے پر عمل درآمد کرواتے ہوئے 172 ایکڑ زمین ایم کے پاکستان کو منتقل کی جائے گزشتہ تین سال میں کمپنی غریب ماہی گیروں کو جو نقصان ہوا ہے اسکا ازالہ کیا جائے اور ایم ڈی پی ٹی ڈی سی، سیکرٹری کیبنٹ، فواد حسن فواد، وزیر اعظم، نواز شریف کی جیبوں سے ادا کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں