بھٹکل بلاد ال عرب، ایک اچھا تعارف
بھٹکل بلاد ال عرب، ایک اچھا تعارف
نقاش نائطی
. +919448000010
اگست کا مہینہ بھارت والوں کے لئے، ایک خاص مقام رکھتا ہے لیکن اس سال اگست کا مہینہ شہر بھٹکل والوں کے لئے، ایک انمنٹ نشان چھوڑ گیا ہے۔ ویسے تو بھٹکل کے مرد آہن کی اکثریت حصول معاش کے سلسلہ میں، ریگزار عرب کے مختلف ممالک دوبئی، ابوظہبی،اومان، بحرین، قطر، اور کویت کے ساتھ ہی، بلاد حرمین شریفین، مملکت سعودی عرب کے مختلف شہروں میں بھی، بہت بڑی تعداد میں ہیں۔اور جولائی اگست خلیجی ممالک اسکولوں میں ایام تعطیل کا موسم رہنے ہی کی وجہ، جولائی اگست خلیجی ممالک میں مصروف تجارت، بھٹکلی آل، سفر بلاد پیدائش، بھٹکل میں آئے، اور شادی بیاہ کی محافل شریک ہوتے ہوتے، خانگی مصروفیات کے ساتھ، قوم و ملت کے ترقیاتی منصوبوں کی نشستوں کانفرنسوں کا بھی یہ موسم ہوا کرتا ہے۔ لیکن امسال کا اگست چونکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داروں کا پورے ساحلی علاقے، گوا،بھٹکل منگلور کا دور رس نتائج پر حامل منصوباتی سفر پہلے سے طہ تھا۔
\اسلئے بھٹکل والوں کو، ان عالمی سطح کے علماء کرام سے،فیض یابی کا موقع بھی خوب تر ملا تھا اور اس قیمتی وفد کے ساتھ چونکہ عوامی ربط بحالی کے ذمہ دار احباب بھی شریک سفر تھے، ان کے مشاہدے میں آئے نظریات پر مشتمل غالبا” ندوہ ہی سے نشر کی گئی بھٹکل، آل بھٹکل اہل نائطہ پر مشتمل معلوماتی تعارفی، بہت ہی خوبصورت ویڈیو کلپ دیکھ، کچھ تشکراتی کلمات لکھنے کی ہمت، ہم نے جٹائی ہے۔ وصف آل نائطہ بھٹکل، ہم احباب بھٹکل،جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں اپنے انمنٹ نقوش چھوڑنے کامیاب رہتے ہیں، احقر نقاش نائطی اور ابن بھٹکلی، جیسے اپنے قلمی ناموں کے ساتھ، اردو ادب دنیا، دہلی بہار کرناٹک کےمختلف اردو اخبارات میں، اپنے مطبوعہ ادارایاتی کالمز و مضامین سے، میڈیا لائیں، تین ایک دہوں سے متعارف ہیں۔
“بھٹکل اتنا خاص کیوں؟” تعارفی ویڈیو کلپ انتہائی معلوماتی ہے،جس کسی نے بنائی ہے،ہم انکے مشکور ہیں۔ بھارتی سنگھی مسلم منافرتی میڈیا نے، ایک منظم سازش کے تحت، بھٹکل والوں کا نام، اتنا داغ دار بنادیا ہے کہ سرکاری آفیسر بھٹکل پوسٹنگ ہونےپر، ابتداء بہت پریشان ہوتے ہوئے بھٹکل اپنی پوسٹنگ رکوانے کی تگ و دو کرتے پائے جاتے ہیں، لیکن حکم تبادلہ عمل آوری،بھٹکل آنے کے بعد، قریب سے اہل بھٹکل سے، انٹر ایکشن ایک دوسرے کو جاننے کے بعد، اتنے متاثر ہوتے ہیں،کہ کچھ سال بعد انکی پوسٹنگ کسی اور بلاد ہونے پر، واسطے وسیلے لگا، بھٹکل ہی میں رہنے کی تگ و دو کرتے پائے جاتے ہیں۔
حضرت مولانا ابوالحسن على ندوی علیہ الرحمہ کی دور رس نگاہ نے، اہل بھٹکل میں پتہ نہیں کیا خاص خوبیاں دیکھی تھیں؟ کہ انکے حیات رہتے وہ لکھنؤ سے، اتنی دور بھٹکل کا تکلیف دہ سفر کرتے تقریبا” 14 مرتبہ اپنے قدم رنجائی سے، اہل بھٹکل کو جو عزت بخشی تھی،اس کے لئے اللہ ہی سے دعاکرتے ہیں کہ وہ محترم شیخ ابولحسن علی ندوی المعروف،علی میاں علیہ الرحمہ کے، جنت کے درجات کو بلند تر کردے اور جو توقعات انہوں نے، اہل بھٹکل سے رکھی تھیں ان پر ہمیں پورا اترنے کی توفیق عطا کرے۔امین یا رب العالمین
چونکہ اہل بھٹکل کا آبائی تعلق آل عرب اقوام سے ہوتے، بغرض تجارت عرب سے، ھند وعالم میں گئے جیسا، بھٹکل میں بھی اسلامی صد شروعات، پہلے ہی سے آئے تھے اس لئے آل بھٹکل آل نائطہ کی رگوں میں دوڑتا عرب خون، اپنے میں وہی صدیوں سال پرانی تجارتی جبلت رکھتا ہے اور آل بھٹکل سابقہ ڈیڑھ ہزار صد سال دوران، نہ صرف ھند کے مختلف صوبوں شہروں میں، مختلف طرز تجارت میں یکتائیت پائےہوئے،مصروف تجارت ہیں، ویسے ہی بیرون ھند جہاں جہاں بھی حصول معاش کے لئے آل نائطہ کا جانا ہوتا، وہ وہاں کی مقامی تجارت میں بھی، ایک خاص مقام حاصل کرنے کامیاب رہتے ہیں۔ خلیج کے ممالک کی تجارت میں بھی آل نائطہ نے،اپنا ایک خاص مقام بنائے رکھا ہے۔
آل عرب تاجر قوم کے ماقبل رسالت محمد مصطفیﷺ سے قبل ہی، ھند سے تجارتی تعلقات تھے۔ عرب تجار یمنی قوم کو، ان ایام یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ ایشیائی ممالک، چین، انڈونیشیا، ملیشیا و ھند و یورپ و امریکہ کے درمیان،اپنی بادبانی کشتیوں سے، ایک پل کا کام کرتے تھے۔ عرب تجار کے قافلے بحیرہ خلیج سے ھند آتے ہوئے، ساحلی پٹی شہر مدراس کلیکیرے، کیرالہ کوچین، میسوربھٹکل، مہاراشٹرا کونکن اور گجرات احمدآباد کھمبات شہروں سے ہندوستانی کالی مرچ مختلف مصالحہ جات سوکھے لیموں چاول یہاں سے اپنی بادبانی کشتیوں میں لاد، اپنے ساتھ لے جاتے اور یمن کے ساحل عدن اور اومان کے ساحل صلالہ کی بندرگایوں کو ٹرانزٹ پورٹ کی طرح استعمال کئے، وہاں کے بازاروں میں یہ اشیاء بیچتے اور دوسرے بحری بادبانی کشیوں سے، آگے یورپ کے ممالک مختلف منڈیوں میں بیچنے بھیج دیا کرتے تھے۔
سقوط غرناطہ اسپین، بغداد عراق بعد، انگریز سامراج دوران، موٹر بوٹ کی ایجاد بعد،چاول نیز بھارات ھند والے، ھند کی تلاش میں نکلے جہاز، ھند سمجھ کر اترے سر زمین کو، ھند سمجھے وہاں کے مول نواسی امریکن کو ریڈ انڈین کے نام سے مخاطب کیا تھا۔اور ‘کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ’ امریکی سرزمین کو دنیا والوں سے متعارف کرنے کا سبب بنے تھے۔ عرب تجار جو ٹمل ناڈ کلیکیرے، کیرالہ کوچین, صوبہ میسور کے بھٹکل، مہاراشٹرا کے کونکن اور گجرات احمد کے کھمبات ساحلوں پر جو اترے تجارت میں مشغول تھے
گو وہ یہاں ھند میں،آپسی تعلقات نہ رکھ پائے ہوں، لیکن اپنے تجارتی مستقر یمن عدن اور اومان صلالہ میں، اپنے اپنے تجارتی رؤئیداد ضرور تبادلہ خیال کرتے رہے ہونگے۔ کیرالہ کوچین، کوڈنگلور چیرامن جمعہ مسجد 629 عیسویں میں تعمیر ہوئی تھی وہ تو سب جانتے ہیں لیکن ٹمل ناڈ کلیکیرے ساحل پر تعمیر پللیہ جمعہ مسجد 628 تا 630 عیسوی دوران تعمیر ہوئی تھی اسی طرز گجرات احمد آباد کھمبات گھوگا ساحل پر، جونی مسجد یا بر واڈا مسجد 24-622 عیسوی کے درمیان تعمیر کی گئی تھی۔ ظاہر ہے انہی ایام مہاراشٹرا کونکن اور میسور اسٹیٹ والے بھٹکل میں بھی،اسی طرز مساجد تعمیر کی گئی ہو! لیکن چونکہ، مہاراشٹرا کونکن اور کرناٹک بھٹکل میں پرانی مساجد کی کوئی تاریخ مرتب نہیں باقی بچی ہے،اس لئے ہمیں بھٹکل کس تاریخ سے آباد ہیں، اس کا صحیح علم نہیں ہے۔
ہم نے تاریخ بھٹکل پر لکھے متعدد مضامین میں، یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ چونکہ ٹمل ناڈ کلیکیرے، گجرات کھمبات گھوگا اور بھٹکل میں،مسلم آبادی انکے تین دیواروں پر دو گھروں والے سلسلہ وار طویل تر تعمیر گھر اور ان گھروں کی تعمیری ساخت، سر راہ کھلنے والے دروازے پر لٹکتی لکڑی کی پٹیوں پر مشتمل چلمن، گھر کا دروازہ کھلنے پر سر راہ چلنے والوں کی نظروں سے گھر کی نساء کو آمان رکھتی تھی تو پہلے استقبالیہ ھال ہی میں، داخلی دروازے سے باہر ڈیوڑھی تک نکلے پلنگ نما کونا، ایندلو، جہاں بیٹھ، گھر کی نساء دریچوں والے دروازے دار کھڑکی سے، خود کسی کی نظروں میں آئے بغیر، سر راہ آنے جانے والوں پر نظر بھی رکھ سکتی تھیں۔یہ طرز تعمیر کیلیرے ٹمل ناڈ گجرات اور بھٹکل میں مشترک پایا جانا، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ بستیاں مختلف جگہوں پر، ایک ہی قبیلے کے،
مختلف تجار افراد کے ہاتھوں،کم و بیش ایک ہی زمانے میں تعمیر ہوئی ہیں۔ بھٹکل میں اب تک موجود سب سے پرانی مشما مسجد کے پچھواڑے ندی کنارے ایک کالا پھتر موجود ہے۔ جس کے بارے میں مشہور ہےکہ ہمارے جد امجد بھٹکل ساحل سمندر پر سموئے جانے والی شراوتی ندی سے داخل ہوئے، آبادی میں پہلی بار اترے تھے تو، اسی صاف پھتر پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی تھی۔ ویسے بھٹکل میں تعمیر پہلی مسجد اسی ندی کنارے غوثیہ مسجد ہے لیکن متعدد ادوار میں تعمیر نؤ نے،تاریخ کو باقی نہیں رکھا ہے، ہاں البتہ بھٹکل ساحل سمندر پر سموئے جانے والی ندی سے بڑے بادبانی جہاز لنگڑ انداز ہونے لائق، قدرتی بندرگاہ موجود تھی اور یہاں کرناٹک جنگلات سے سوکھے ناریل، کالی مرچ، چاول اور گھروں کی تعمیر چھت میں استعمال ہونے والے مٹی کے کھپریل، یہاں سے عرب تجار لے جاتے تھے
اور عرب سے تجارتی سامان کھجور زیتون و زیت زیتوں،گیہوں اور یورپ سے آئے کپڑے و دیگر سامان،عربی النسل گھوڑے لائے، یہاں بیچنے کچھ لوگ مستقل یہیں رہائش پذیر رہتے تھے، اور جین نساء سے شادیاں کئے، ایک نئی نسل یہاں آباد ہوگئی تھی تو، اپنے معاشرتی تجارتی تنازعات حل کے لئے اور شادی بیاہ و اختلافی طلاق ہونے پر، اختلافی مسائل حل کے لئے، اسلامی شرعی عدالت محکمہ شرعیہ کا نظام بھی قائم کئے ہوئے تھے۔ بھٹکل محکمہ شرعیہ کے پاس موجود تحریری بوسیدہ کاغذی خزانے میں،ہزار بارہ سو سال قبل والے، مختلف معاشرتی خانگی و وراثتی تنازعات تصفيات،
تحریری کچھ دستاویزات ملی ہیں جو ماقبل اردو ایجاد زمانے میں بھی، عربی فارسی اور مقامی کونکنی مراٹھی مشکل بھاشا پر مشتمل ہزار ڈیڑھ ہزار سال قبل نائطی زبان،جو ایجاد ہوئی تھی، وہ عربی رسم الخط میں لکھی پائی گئی ہیں۔جس کی بنیاد پر اہل بھٹکل نے، دو سال قبل، بھٹکل اپنی مستقل رہائش تاسیس پر ہزار سال پورے ہونے کی خوشی کا اظہار کرتے، ہزار سالہ یوم تاسیس مختلف پروگرام جماعت المسلمین بھٹکل نے منعقد بھی کئے تھے۔الحمد اللہ بھٹکل کے مسلمانوں کو یہ اعزاز حاصل ہے سابقہ دیڑھ ہزار سال سے، اس پرفتن سنگھی دور میں تک، الحمد للہ بھٹکلی مسلمان، اپنے تمام تر ازدواجی معاشرتی، وراثتی، تقریبا” صد فیصد تنازعات، حکومتی عدلیہ و محکمہ پولیس کو ماورا رکھے،
اپنے اسلامی محکمہ شرعیہ ہی میں، اپنے تنازعات، اسلامی قانون ہی کے زیر سایہ، پرامن حل کروائے، ایک اعتبار، مقامی عدلیہ پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کرتے،ملکی عدلیہ کی گویا مدد کرتے آئے ہیں ۔ بارہ پندرہ سال قبل بھٹکل دورے پر آئے وفد، مسلم پرسنل بورڈ کے سابق معاون سکریٹری خصوصی مرحوم عبد الرحیم قریشی علیہ الرحمہ پر مشتمل وفد نے، ہزار سالہ محکمہ شرعیہ عدالتی نظام کو دیکھ، اسے متحدہ ھند و پاک بنگلہ دیش کا اکلوتا, سب سے پرانا محکمہ شرعیہ قرار دیا تھا اور ہندوستان کے مختلف مسلم اکثریتی ابادیوں میں، بھٹکل ہی کے طرز پر، اسلامی نظام عدلیہ محکمہ شرعیہ کا قیام عمل میں لائے جاتے، 25 کروڑ مسلم ابادی کے، آپسی تنازعات کا بوجھ، حکومتی نظام عدلیہ پر نہ ڈالتے ہوئے، حکومتی محکمہ عدل و انصاف کے ساتھ تعاون کرنے کی بات کہی تھی۔کاش کے مسلم اکثریتی علاقوں کے ہم مسلمان، اس سمت اپنے اپنے علاقوں میں، محکمہ شرعیہ کا نظام قائم کئے، حکومتی نظام عدل و قانون کے ممد و مددگار بنتے پائے جاتے!
ہزار ڈیڑھ ہزار سال, ال عرب تجار، یہاں بھٹکل میں قیام پزیر رہنے کے باوجود، اپنے اصل مستقر عرب ممالک اور ان ایام قائم مختلف خلافتوں سے، باہم ربط قائم رکھے ہوئے تھے۔ اس کا ثبوت بیسویں صدی کی ابتداء میں عالمی یہود و نصاری مشترکہ حربی فرنگی افواج سے ہوئی 1912 بلقان جنگ میں، خلافت عثمانیہ کے شکست کھاتے پس منظر میں، شکست خوردہ بلقان مسلم علاقوں میں، باز اباد کاری کے لئے، آج کے ہوائی سفر کم و بیش پانچ ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر دور ،ان ایام شہر بھٹکل میں عام اصولی کئے،
ایک خطیر رقم استنبول ترکیہ خلافت عثمانیہ تک پہنچانے کا بندوبست کیا تھا۔ ان ایام کتنے ہزار لاکھ روپئے جمع کئے ترکیہ بھیجے گئے تھے یہ تو خالق کائینات اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن ایام حج،حجاج قافلوں کے ساتھ بھیجی گئی رقم ،انکی روانگی کے بعد، کچھ جمع رقم ان ایام ذمہ داروں کے پاس باقی بچی جو رہ گئی تھی اس وقت کے ذمہ داران آل عرب ال نائطہ نے، اس رقم کے بہتر مصرف کے لئے، جو رفاعی امدادی ادارہ قائم کیاتھا وہ 1914 میں مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل نام سے علاقے میں مشہور و معروف ہوا تھا اور اسکے دو سال بعد شمالی ھند میں اٹھی سرسید احمد خان کی مسلم عصری تعلیم بیداری علیگڑھ سے متاثر ہوئے
1916 میں شہر بھٹکل میں انجمن حامی المسلمین کے نام نامی سے عصری علوم ادارہ قائم کئے، اینگلو اردو ہائی اسکول کی شروعات کی گئی تھی۔اور اسی انجمن حامی المسلمین کے بطن سے 1964 میں، دینی تعلیم ادارہ جامعہ اسلامیہ وجود میں لایا گیا تھا۔ اسی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کے پاس اس ابتدائی فنڈ کا ایک حصہ اسی کے دہے تک موجود تھا جو ان ایام سالانہ آمد و خرچ بجٹ خسارہ،استعمال میں لایا جاتا تھا۔الحمد للہ آج سے 12سال قبل 2014 میں مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل نے،بہت بڑے پیمانے پر،صد سالہ تقریبات منائی تھی اور انجمن حامی المسلمین نے بھی 2019 انجمن تعلیمی ادارے کے تاسیس صد سالہ پروگرام منائے تھے۔
ہمارے جد امجد عرب تجار ہمارے اسلاف کے خلوص کا ہی نتیجہ اور علی میاں علیہ الرحمہ جیسے علماء و مشائخ کی دعاؤں کے صدقہ و طفیل میں آل عرب ال نائطہ ہم بھٹکلی مسلمانوں نے،اپنے مسلم معاشرہ میں ایک حد تک اسلامی اقدار و تعلیمات کو پیش پیش رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہوئی ہے،اور اپنی بہن بیٹیوں کی شادیاں، اپنے آل عرب آل نائطہ مختلف خاندانوں میں ہی کئے جاتے، اپنے آل عرب خون اور مہمان نوازی سمیت بہت سارے افکار و اخلاق کو اپنے میں ایک حد تک باقی رکھنے میں کامیابی پائی ہے۔
دعا ہے کہ مستقبل کی ہماری آل بھی، تاقیامت اپنے اسلامی معاشرے کو،سلف و صالحین کے اعلی اخلاق و اقدار مطابق قائم دائم رکھے۔ وما التوفیق الا باللہ نوٹ:- کسی بھی نئی جگہ کسی بھی قوم و فرقے کے لوگ، کسی بھی مقصد سے مستقل سکونت اختیار کرلیتے ہیں تو، ایک خاصی اچھی تعداد مستقل رہائش پزیر ہونے کے کچھ سال بعد ہی، پہلی مرتبہ اپنے لئے اپنے دینی اقدار عبادت کرنے، عبادت گاہ یا مسجد تعمیر کرتے پائے جاتے ہیں، گجرات کھمبات گھوگا تعمیر جونی مسجد ابتداء میں مکی زندگی والے قبلہ اولی مسجد اقصی فلسطین کی طرف رخ کئے تعمیر کی گئی تھی۔ ظاہر ہے اس مکی زندگی والے اسلام سے پہلے ہی سے عرب تجار کا ان علاقوں میں تجارت کی غرض سے، نہ صرف انا جانا تھا
بالکہ کافی تعداد میں، کافی سالوں سے وہ وہاں مستقل سکونت پذیر تھے اور ابتدائی مکی بتوں کی پوجا والی زندگی بھارتیہ مشرکانہ مورتی پوجا سے مماثلت رکھتی تھی تو کوئی مسئلہ نہ تھا لیکن بعثت رسول مکی ﷺ بعد، جب عرب تجار، اپنے ساتھ دین اسلام لے آئے تو یہاں کے عرب تجار بھی مشرف بالسلام ہوتے ہوئے، انہیں مسجد تعمیر کی ضرورت محسوس ہوئی تھی اور ان ایام انہوں نے اپنی مسجد، قبلہ اولی کی طرف رخ کئے تعمیر کی تھی۔ بعد کے دنوں میں آنے والے عرب قافلون کی معرفت 624 عیسوی سال قبلہ رخ مسجد حرم کی طرف کئے نماز پڑھنے کا حکم جب آیا تب ،آنے والے قافلوں کی معرفت معلوم ہونے کے بعد، قبلہ رخ تبدیل کرتے وقت چونکہ پرانی مسجد بڑھتی مسلم آبادی کے لئے تنگ پڑتی تھی اور نئی مسجد کچھ بڑی تعمیر کرنی تھی اسی لئے پرانی مسجد ڈھانچہ ویسے ہی چھوڑ، پاس ہی میں نئی مسجد تفمیر کئے جانے سے،قبلہ اول کی طرف رخ کئے ابتدائی مکی دور 22-620
دوران تعمیرپرانی مسجد
کا پتہ چلا تھا۔ ظاہر ہے بھٹکل میں بھی پہلے سے مشرک عرب رہے ہوں اور اسلام کے بعد، انہوں نے بھی مسجدیں تعمیر کی ہوں لیکن بڑھتی آبادی کے ساتھ، مساجد تعمیر نؤ میں پرانی مسجد شہید کئے جانے سے،پہلی مسجد تعمیر تاریخ یاد نہیں رہی ہو۔ واللہ اعلم