کیا کوئی بھی مسلم حکمران، انکی سازشانہ لغزشوں حماقتوں کے لئے، عام مسلمین کی طرف سے لائق جواب طلب نہیں ہے؟

کیا کوئی بھی مسلم حکمران، انکی سازشانہ لغزشوں حماقتوں کے لئے، عام مسلمین کی طرف سے لائق جواب طلب نہیں ہے؟

ابن بھٹکلی
۔ 9448000010

ممب رسولﷺ سےدورانِ خطبہ جب حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ “میری بات سنو اور اطاعت کرو”، تو محفل سے(کسی بوڑھی نساء کی) آواز آئی کہ “ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے اور نہ اطاعت کریں گے، کیونکہ آپ نے اپنے حصے سے زیادہ کپڑا لے کر یہ کرتا بنوایا ہے جسے پہن آج آپ ہم سے مخاطب ہیں”۔

اس عوامی اعتراض کی وجہ، بحرین سے مالِ غنیمت میں نازک ترین قیمتی کرتے کا کپڑا تھا جو تمام مسلمانوں میں برابر تقسیم کیا گیا تھا۔ وہ کپڑا اتنے کم سائز کا تھا کہ کسی ایک عام قد کے شخص کا پورا کرتا اس سے نہیں بن سکتا تھا۔ لیکن جب حضرت عمرؓ منبر پر تشریف لائے، تو انہوں نے اسی کپڑے کا پورا کرتا پہنا ہوا تھا۔
حضرت عمرؓ کا مصلحت آمیز جواب:-حضرت عمر فاروقؓ نے، دوران خطبہ عوامی محفل ان پر الزام خیانت لگانے والی پر غصہ ہونے کے بجائے، انتہائی نرمی سے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو آواز دی۔اور صفائی پیش کرنے کو کہا۔ حضرت عبداللہؓ بن عمر نے کھڑے ہو کر گواہی دی کہ “میرے والد کا قد لمبا تھا اور مال غنینت میں ملے سوتی کپڑے سے ان کا کرتا پورا نہیں ہو رہا تھا، اور چونکہ میں بھی والد محترم کی طرح قد کانٹھ میں ان جیسا لمبا ہوں اور اس کپڑے سے استفادہ حاصل نہیں کرسکتا، اسی لئے، میں نے اپنے حصے کا کپڑا بھی اپنے والد محترم کو ھدیہ کردیا تھا تاکہ ان کا کرتا تو پورا ہو سکے”
• نتیجہ:- یہ سن کرسائل مطمئن ہو گیا اور کہا:-“اب فرمائیے، اب ہم آپ کی بات سنیں گے بھی، اور اطاعت بھی کریں گے”۔کیا اب بھی علماء کرام،اپنی مسلم عوام کو، اپنے حکمرانوں سے، امت مسلمہ کو خطرے سے دو چار کرنے کروانے والی، انکی سازشانہ لغزشوں پر باز پرس کرنے سے منع کرتے انہیں روکتے پائے جائیں گے؟ اس پس منظر میں، خود کو سعودی حکمران کے طور نازل کرنے کروانے والے حکمرانوں سے بھی، امت مسلمہ کو, ان حکمرانوں کی دانستہ لغزشوں سے، مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والی مصیبتوں کے سلسلے میں، جواب طلبی سے، کس چالاکی سے محروم کرتے دیکھا جاسکتا ہے؟

*پہلے اپنے گھر کا ماحول برابر کرو*
*پھر محمد بن سلمان کو %مشورہ دو ؟
حالیہ مکہ ایگریمنٹ کے پس منظر میں اور پاک و ترکی و سعودی افواج کے یمنی حوثی اور سعودی جنگ تناظر میں، یہود و اسرائیل سازشی ذہن، مسلمانوں کو آپس میں لڑواتے ہوئے، مسلم قوت کو ختم کئے، عرب علاقے میں،نازی دہشت گرد اسرائیل کو محفوظ تر رکھنا ہے اور اس کے لئے اسرائیل و امریکہ کے سازشانہ اشارے ہی پر، سعودی سربراہان کا 2022یمن سعودیہ جنگ بندی معاہدے کے خلاف، ایرانی مذہبی رہنما کے جنازے سے واپس لوٹتی،پوری حوثی یمنی قیادت کو ہوائی حملوں سے ختم کرنے کی سازشاںہ کوشش کرتا سعودی حکمرانوں کا ناعاقبت اندیش اقدام، اور اس کے اثرات بد سے، مسلم امہ کو ہونے والے نقصان عظیم سے بھی، کیا سعودی حکمرانوں کو جواب دہی سے مبراء رکھ سکتا ہے؟
اللہ رب العزت کی طرف سے عطا، پٹرول ڈالر من و سلوی کو،
جس معشیتی مجبوری کا فائیدہ اٹھا پاک و ترکیہ افواج کو، سعودی حکمرانوں نے،انہیں یمن پر حملہ آوری افواج کا حصہ بننے مجبور کیا ہے، وہی معشیتی مجبوریاں، علماء حق کو بھی انکی بیجا ہمنوائی رطب اللسانی پر مجبور کرتی نظر آتی ہیں۔ اللہ ہی امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔ ابن بھٹکلی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *