8 اکتوبر 2005 — وہ دن جو کبھی نہیں بھولے گا

8 اکتوبر 2005 — وہ دن جو کبھی نہیں بھولے گا

کالم: جاوید اقبال بٹ
کچھ تاریخیں صرف کیلنڈر کا حصہ نہیں ہوتیں، بلکہ قوموں کے حافظے میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہیں۔ 8 اکتوبر 2005 بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔ وہ صبح جو معمول کے مطابق طلوع ہوئی تھی، چند ہی لمحوں بعد قیامت خیز منظر میں تبدیل ہوگئی۔ زمین لرزی تو صرف عمارتیں نہیں گریں، ہزاروں خاندانوں کے خواب، خوشیاں اور سہارے بھی ملبے تلے دب گئے۔
آزاد کشمیر، بالخصوص مظفرآباد، باغ اور ملحقہ علاقوں میں تباہی کا منظر ایسا تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا آج بھی مشکل ہے۔ کہیں ماں اپنے بچے کو تلاش کر رہی تھی، کہیں بیٹا اپنے والدین کو آوازیں دے رہا تھا اور کہیں پورا خاندان ہی بچھڑ گیا۔ گھر اجڑ گئے، بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور ہزاروں افراد اپنے پیاروں سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئے۔
سب سے زیادہ دل دہلا دینے والے مناظر ان معصوم بچوں کے تھے جو صبح اپنے اسکول گئے تھے، مگر واپس گھروں کو نہ لوٹ سکے۔ والدین اپنے بچوں کی راہ دیکھتے رہے اور کئی گھروں میں یہ انتظار کبھی ختم نہ ہوا۔
یہ سانحہ صرف آزاد کشمیر اور پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگ اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے پہنچے۔ نوجوانوں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالا، زخمیوں کو اسپتال پہنچایا، مخیر حضرات نے امدادی سامان فراہم کیا اور پوری قوم نے متاثرین کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا۔
زلزلے نے تباہی ضرور مچائی، مگر اس مشکل گھڑی میں انسانیت، بھائی چارے اور اتحاد کی ایسی مثال بھی قائم ہوئی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
آج 21 برس بعد بھی 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کی یاد دلوں کو سوگوار کر دیتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، شہر دوبارہ آباد ہو جاتے ہیں، عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو جاتی ہیں، مگر اپنوں کی جدائی کا خلا کبھی پُر نہیں ہوتا۔

آج بھی بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے لیے 8 اکتوبر محض ایک تاریخ نہیں بلکہ اپنے پیاروں کی یاد کا دن ہے۔ کسی کو اپنے والد یاد آتے ہیں، کسی کو ماں، کسی کو بھائی، بہن یا اولاد۔ وقت زخموں کی شدت کم ضرور کر دیتا ہے، لیکن یادیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔
یہ دن ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صرف امداد کافی نہیں، بلکہ محفوظ تعمیرات، مؤثر ریسکیو نظام، ہنگامی منصوبہ بندی، عوامی آگاہی اور اداروں کی بروقت تیاری بھی انتہائی ضروری ہے۔ زلزلہ آنے سے پہلے احتیاط اور تیاری ہی بڑے نقصان کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ہمیں 8 اکتوبر کے شہداء کو صرف ایک دن یاد نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی قربانیوں کو قومی حافظے کا مستقل حصہ بنانا چاہیے۔ نئی نسل کو بتایا جائے کہ اس دن کیا ہوا، لوگوں نے کیسے مشکلات کا سامنا کیا اور کس طرح پوری قوم نے متاثرین کا ساتھ دیا۔
آج 8 اکتوبر 2026 کو ہم ان تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو 8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے میں ہم سے بچھڑ گئے۔
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، متاثرہ خاندانوں کو صبر و حوصلہ عطا کرے اور آزاد کشمیر سمیت پوری دنیا کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔
کچھ زخم وقت کے ساتھ مندمل نہیں ہوتے، انسان صرف ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔
8 اکتوبر 2005 — ہم تمہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *