قتل فلسطین اصل میں مرگ یہود ہے
قتل فلسطین اصل میں مرگ یہود ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
۔ نقاش نائطی
۔ +919448000010
پچھتر سال قبل ہٹلر و یورپین اقوام کے ہاتھوں ستائے، بے گھر کئے، ان مجبور بدحال یہودیوں کو اپنے وطن فلسطین میں پناہ دئیے، ان محسن و مددگار فلسطینیوں کو، خود انکے ہی وطن کے ایک حصہ غازہ میں، بیسیوں سال سے،عالم کی سب سے بڑی کھلی جیل کی طرح مقید کئے رکھے، موجودہ ترقی پزیر جمہوری دور میں بھی،
انہیں تمام تر حقوق انسانی سے محروم رکھے، مجبور و بدحال فلسطینیوں کی طرف سے، انکے اپنوں کی آزادی کی جنگ لڑ رہے، حماس کے حملوں کی سزا کے طور پر، غاصب اسرائیلی افواج کی طرف سے انسانی حقوق و عالمی جنگی اوصول کے خلاف، عوامی بستیوں اسکول و ہاسپٹل پر، بے تحاشہ، بے دردانہ بمباری کرتے ہوئے، اس دو سال دوران، 21 ہزار معصوم، کم سن بچوں سمیت، منجملہ پچھتر ہزار 225معصوم فلسطینی نساء بچے بوڑھے جوان انسانیت کا قتل عام کئے جاتے پس منظر میں بھی، حقیقی آزادی حق رائے دہی اور حقوق جانور تک کا ہمہ وقت نعرہ بلند کرنے والے، اعلی تعلیم یافتہ، ترقی پزیر امریکی و یورپی اقوام کے ساتھ ہی ساتھ، عالمی معشیت پیٹرو ڈالر پر مالکانہ حق رکھنے والے، 200 ملکی اقوام متحدہ کے 25% فیصد سے زآید، پچاس پچپن سے زیادہ خود مختار مسلم و عرب ممالک کی مجرمانہ خاموشی پر، بھارت بنگلور کی ایک نساء کا یہ مضمون، “روح پر طمانچہ”
ہم جیسوں کو بھی جھنجوڑ، ہمارے قلب و اذہان کو، خون کے آنسو رلاچکا ہے۔کاش کے دو ڈھائی سو سال قبل شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید علیہ الرحمہ کا وہ معرکہ الآراء جملہ، “ہزار سالہ گیڈر کی غلامانہ زندگی پر،ایک دن کی آزاد شیر کی زندگی جینا وہ پسند کرتے ہیں” یہ کہتے ہوئے بھارت پر تجارت کے بہانے آئے، فرنگی انگریز افواج اور اس وقت، انکے شریک حرب و جنگ، حیدر آباد نواب اور شیواجی مہاراج کی منافقانہ افواج سے لڑتے ہوئے، 1799میں حضرت ٹیپو سلطان علیہ الرحمہ شہید ہوتے ہوئے
، موجودہ دور کے ہٹلر نواز یہود و ہنود و نصاری مشترکہ ظلم و انبساط پر، خود خاموش رہتے یا درپردہ ان ظالموں کی مدد کرتے، عرب و مسلم شاہان، خصوصا، عالم کی پانچویں بڑی حربی طاقت، اور عالم کی اکلوتی مسلم مملکت اسلامیہ پاکستان کی مجرمانہ خاموشی، اور فلسطینیوں کی حق خوداریت و آزادی کی آواز، عالمی سطح اقوام متحدہ میں اٹھاتے رہنے والے، جمہوری طرز منتخب عوامی نمائندے، سابق پرائم منسٹر پاکستان جناب عمران خان مدظلہ کے، تین سال قبل، اقتدار سے بے دخل کئے جاتے،
انہیں جیل کی کال کوٹھری میں قیدو بند کئے، یہود و ہنود و نصاری کے اشاروں پر،قوم و ملت کےمفاد کاخون کرنے والے، محافظان قوم وطن کی، چار سال قبل کی سازش کے تانے بانے کی کڑیاں، ارض فلسطین کو فلسطینیوں سے خالی کرانے کے، یہود و نصاری کی سازشوں میں، محافظان قوم وطن مسلم مملکت پاکستان کے در پردہ شریک جرم ہونے کے اشارے دیتا ہےاگست 1945 ھیروشیما ناگا ساکی پر ایٹم بم برسا، لاکھوں معصوم جاپانیوں کے قتل عام بعد، اپنی چودراہٹ عالم پر قائم کرنے والے، صاحب امریکہ نے،حقوق انسانیت و حقوق جانوروں کے پرفریب نام پر، عالم انسانیت پر ظلم و انبساط کی جو نازی حکومت قائم کی ہوئی ہے
آج 79 لمبےسال بعد بھی، وہ پچھتر ہزار معصوم فلسطینیوں کے قتل عام باوجود، نازی یہود کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے، اپنے مکروہ چہرے سے، عالم انسانیت کو، اسلام دشمن یہود ونصاری سازشوں سے ختم کئے گئے، خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت بنو عباسیہ اور آخر میں خلافت عثمانیہ کے تیرہ سو لمبےاسلامی حکومتی، پر امن دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ عالم پر انسانیت نوازی کے نام پر، انسانیت کو شرمسار کرتی یہ صیہونی مسیحی سو سالہ حکومت، یقیناً خلافت عثمانیہ نشاط ثانیہ ہی کی شروعات سے، ختم ہوتے ہوئے، عالم انسانیت کو پرامن اسلامی دور حکومت فراہم کرسکتی ہے۔
قتل فلسطین اصل میں مرگ یہود ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
زمانہ شاہد ہے، ہیرو شیما ناگاساکی پر، ایٹم بم برساتے ہوئے، لاکھوں جاپانیوں کے قتل عام بعد جاپانی قوم، علامہ اقبال علیہ الرحمہ کے اس شعر کے مصداق،اس وقت کے معشیتی ترقیات کے اسباب فن زراعت کوانکے لئے جلا دئیے جانے کے بعد بھی، اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ فن صنعت کے ذریعہ عالم پر چھاگئے تھے۔
اسلام زمانے میں،دبنے کو نہیں آیا
تاریخ سے یہ مضمون،ہم تم کو دکھادیں گے
اسلام کی فطرت میں قدرت نے یہ لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے
انیسوس ویں صدی کی دوسرے دہے ہی سے جرمن نازی حکمران ہٹلر کے ہاتھوں لٹے لٹائے، تباہ حال یہودیوں کو جب یورپین ممالک سمیت امریکہ تک، اپنے یہاں مستقل قیام کی اجازت نہیں دے رہے تھے قوم فلسطین نے، ان کی حالت زار پر رحم کھاکر، اپنی سرزمین فلسطین پر ان یہودیوں کو پناہ کیا دی؟ نصف عالم پر اپنی حکمرانی کے نشہ میں سرشار برٹش حکمرانوں کو، 1923 سقوط استنبول ترکیہ کے بعد، خلافت عثمانیہ کے خلاف اس کے اتحادی فرانس و امریکہ تسلط میں،خلافت عثمانیہ کے ماتحت رہے مسلم اکثریتی عرب و آفریقن خطے کا بٹوارہ کرتے ہوئے، ارض فلسطین کو اپنی ماتحتی میں رکھتے ہوئے،
مسلم علاقوں کو اس وقت کے طاقتور ترین مسیحی ملکوں میں تقسیم جوکردیا تھا، جو بعد کے دنوں میں حریت پسندوں کی کوششوں سے آزاد مملکتیں قائم ہوتی رہیں اور یوں، مسلم اکثریتی عرب و افریقن ممالک کے بیچوں بیچ، اس یہودی فتنے کی جڑ 1945 میں رکھتے ہوئے، عرب و افریقن مسلمانوں کے ناک میں نکیل ڈالنے کے مصداق، ارض فلسطین کو یہودی ریاست میں تبدیل کرتے ہوئے، گویا ارض فلسطین کو یہودی ریاست کے طور، مسیحی حربی اڈے کی شکل اسرائیل کاقیام وجود میں لایا گیا تھا۔
نئی نئی معرض وجود میں آئی عرب و افریقن مملکتیں، جہادی جذبات سے عاری، عیش و عشرت میں مںست پڑے رہنے کی وجہ سے، 1967 کی عرب اسرائیل جنگ بعد، فلسطینیوں کے ارض مقدس کو پوری طرح سے یہودی تسلط میں قرار دیتے ہوئے، پڑوسی ریاستیں جارڈن شام و لبنان و مصر کے مقبوضہ علاقوں پر مشتمل، عرب و افریقن مسلمانوں کے قلب و اذہان پر دندناتے روندتے ہوئے، ان پچھتر سالوں میں عالم انسانیت نےجو نظارہ کیا تھا، وہیں پر علامہ اقبال کے اسی شعر ہی پر کھرا اترتے ہوئے، سابقہ پچھتر سالوں کے قوم یہود کے ظلم و انبساط کی جہادی بھٹی میں جلے تپے، صحیح معنوں اللہ کے شیر خود کو ثابت کئے،
عالم کی چوتھی طاقت ور ترین حربی قوت اسرائیل سے، کل کے اپنے دست سے غلیل و پھتروں سے رائفل بردار فوجیوں اور ٹینکوں پر حملہ آور فلسطینی نوجوان، اپنے فلسطینی میزائل میں ڈاکٹر جمال مرحوم شہید کے بنائے میزائل وڈرون سے سابقہ 2 سالوں سے لوہا لئے، عالم حرب کے ترقی پزیر 140 اسرائیلی ٹینکوں اور اس میں موجود اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ تباہ و برباد کئے، عالم کو متحیر العقل کئے ہوئے ہیں۔ کاش کہ ارض فلسطین کے آس پڑوس کی مسلم مملکتیں، کھل کر ان فلسطینی مجاہدین کا ساتھ دی ہوتیں تو، مسلم اکثریتی عرب و افریقی علاقوں کے درمیان سنپولے کی طرح تربیت و پرورش پارہے،
اسرائیل کے وجود ہی کو ختم کیا جا سکتا تھا۔ لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور ہے اور اسی لئے تو اس بہترین موقع کا فائیدہ اٹھاتے،ان فلسطینی جانبازوں کا پوری دلجمعی کے ساتھ، ساتھ دیتے ہوئے، اسرائیلی فتنے کو ختم کرنے کے بجائے، اسلامک ممالک، ڈرے ڈرے سہمے اسرائیل و امریکہ سے خائف، اپنا دامن بچاتے، دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف روس و چائینا ایران کو آگے کر، اس پورے خطہ مشرق وسطی سے،امریکی حربی دباؤ کو ختم کرنے کے درپے پائے جاتے ہیں، اپنے اسی ایجنڈے کو سامنے رکھ، کئی دہائیوں سے ایران و عرب کے درمیان طویل ترین جنگ لڑے دونوں فریق کے درمیان، چائینا کےمصالحت کئے،
موقع سے، اسرائیل کے فتنہ کو صدا ختم کئے جانے کے لئے یہ صحیح موقع تھا۔ لیکن عرب حکمران اس موقع پر بھی، اپنے مملکتی معشیتی فوائد دیکھتے ہوئے، فلسطینی مجاہدین کے خوف سے،اسرائیل سے بھاگے، یو اے ای کی گذشتہ چند سالوں سے مستقل سکونت اختیار کرنے آرہے دشمن اسلام یہودیوں کا، اپنی مملکت یواے ای میں استقبال کرنے میں ہی منہمک لگتے ہیں۔ جبکہ چاہئیے تو یہ تھا کہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں امریکہ کی طرف سے، اسرائیل کی فوجی مدد کرنے پر، اس وقت کے سعودی شاہ فیصل علیہ الرحمہ نے، یورپ و امریکہ کو پیٹرول کی ترسیل بند کرنے کی دھمکی جو دی تھی
اور امریکہ کے سعودی عرب کے تیل کنوئیں بلاسٹ کر برباد کرنے کی دھمکی دینے پر، شاہ فیصل مرحوم نے کیا خوب جواب امریکہ کو دیا تھا کہ ہم عرب اونٹ و بکریوں کا دودھ پئے اور اسکا گوشت کھائے ، ریگستانی خیموں میں زندہ رہ لیں گے، لیکن یورپ و امریکہ کی صنعتیں، پیٹرول کے بغیر بھی، کیا چل پائیں گے؟اللہ ہی سے دعا ہے کہ وہ شاہ فیصل مرحوم کی قبر اطہر کو، اپنے نور سے بھردے اور جنت میں انکے درجات کو بلند کردے۔اور موجودہ عرب حکمرانوں کو، حق خود دارئیت سے جینے کا ہنر عطا کردے
۔ کاش یہ پیٹرول سے مالا مال عرب حکمران،غزہ کے 20 لاکھ، بےکس فلسطینی مسلمانوں کا غذا پانی بند کرنے والے، اسرائیل اور اس کی بربریت باوجود اس کی مدد کرنے والے یورپ و امریکہ کو پیٹرول ترسیل بند کرنے کی دھمکی دیتے ، لیکن معمولی فلسطینی مجاہدین کےہاتھوں شکست کھاتے اسرائیل کو، آنکھ دکھانے کی ہمت تک یہ عرب حکمران اپنے میں نہیں پاتے ہیں۔ اللہ ہی سے دعا کہ پورے عالم میں سابقہ پچھتر سالوں سے جہادی جذبات کو، اپنے گلو میں لئے،غزوہ بدر و احد و غزوہ خندق کی یاد تازہ کرنے والے، مجاہدین غازہ فلسطین کی آبرو و لاج رکھ لے۔ اور انہیں حق خودارادیت کے ساتھ آزاد مملکت فلسطین قائم کئے، قبلہ اول بیت المقدس کو آزاد رکھے، عزت و شان و شوکت سے رہنے لائق چھوڑ دے۔
یہ مضمون آج سے تین سال قبل 7 اکتوبر2023 کے حماس حملوں کے بعد ان حماس جہادیوں کی جانبازی دیکھ لکھا گیاتھا اور مختلف اخبارات میں طبع بھی کیا جاچکا تھا لیکن دو دن قبل 6 اکتوبر 2026 بروز منگل کرناٹک شیموگا سے شائع ہونے والے روزنامہ آج کا انقلاب اخبار نے،موجود عالم عرب حربی پس منظر، تین سال قبل فلسطینی حماس مجاہدین کی کھل کر حربی مدد کرتے ہوئے، حماس فلسطینیوں پر،یہود و نصاری ہوائی بمباری رکوانے، بحراحمر سے گزرتے یہود و امریکہ کے بحری جہازوں پر براہ راست ڈروں میزائیل حملہ آوری سے فسلطینوں پر مسلسل ہونے والی یہود و امریکہ بمباری رکوانے والے دلیر حوثی یمن کے خلاف حرمین شرفین کے والی مملکت سعودیہ عربیہ، والی خلافت عثمانیہ مملکت ترکیہ اور اسلام کے نام معرض وجود میں آنے والی عالم اسلام کی سب سے پہلی مملکت پاکستان یہ تینوں معشیتی و حربی طور مضبوط مملکتین مکہ ایگریمنٹ کے تحت عقد بند ہوئے،قبلہ اول پر غاصبانہ قبضہ جمائے،
ارض فلسطین کے پچھتر ہزار معصوم فلسطینیوں کو شہید کرنے والے یہودی نازی حکومت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کیطرح کھڑا رہنے کے بجائے دو ڈھائی سال قبل یہود و نصاری کے خلاف سینہ سپرد ہوئے، یہودی بمباری سےفلسطینیوں کو بے وجہ شہید کئے جانے سے بچانے والے حوثی یمنیوں کے خلاف ہی مورچہ زن اپنے ہی یمنی بھائیوں کو شہید کرتے پائے جاتے پس منظر میں آج کا انقلاب روزنامہ نے وہی مضمون عام مسلمین کی یاد دہانی کے لئے دوبارہ طبع کیا یےآج سے تین سال قبل فلسطینی جانباز حماس کی جہادانہ سرگرمیوں کے خلاف یہود و امریکہ کی طرف سے ارض فلسطین غازہ پر جنونی بمباری کئے
معصوم مرد و نساء بچے بوڑھے بےقصورفلسطینیوں کے، یہودیوی کی بمباری سے شہید کئے جاتے، پس منظر باوجود، پیٹرو ڈالر سے مالا مال، کسی بھی عرب ممالک کی طرف سے، یہود و نصاری کے خلاف لب کشائی سے ڈرتے تلماتے پس منظر میں بھی، امت مسلمہ عالم کے اٹوٹ انگ اکلوتے ایرانیوں نے ہی درپردہ اسرائیل و امریکہ کے خلاف فلسطینی جانبازوں کی مدد کی تھی اور ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوتیوں نے اور لبنانی حزب اللہ نے، ایک حد تک فلسطینی جانباز حماس کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے پائے گئے تھے۔ بالکہ انتہائی غریب مفلوک الحال یمنی حوتیوں نے بحر احمر سے اسرائیل و امریکہ کے گزرتے تجارتی و تیل بردار جہازوں پر اپنے ڈرون و میزائیلوں سے مسلسل حملے کئے،
ارض فلسطین غازہ پر یہودی بمباری روکنے یا رکوانے کا سبب بنے تھے۔ اولا” امریکہ اسرائیل کے دفاع میں یمنی حوثیوں پر بمباری کئے حوثیوں کو دبانے کی ناکام کوشش بعد،حوثیوں سے مفاہمت کئے،اپنی ساکھ بچالی تھی۔ لیکن یہود و نصاری عالمی قوتوں کے، فلسطین حماس و یمنی حوثی اور لبنانی حزب اللہ کی درپردہ حربی ممد کرنے والے ایران پر کاری ضرب کئے، حماس، حوتی، حزب اللہ کی حربی ممد و نصرت سے ایران کو باز رکھنے کی کوشش ہی کی صورت 28فروری اچانک یکطرفہ ہوائی بمباری سے ایرانی سیاسی و حربی قیادت کو شہید کئے ایرانی حکومت ہی کو فارغ کئے، اپنے اشاروں پر ناچنے والی ایرانی شاہی حکومت کو واپس لانے کی پوری کوشش کی تھی، لیکن یہاں اس عالم انسانیت میں ہر کوئی،اپنے اپنے مفاد کی خاطر، ایک دوسرے کے خلاف سینہ سپرد پایا جاتا ہے۔عالم انسانیت کی چودراہٹ پر اپنا قبضہ جمائے رکھنے کی جہاں صاحب امریکہ، اپنے عرب غلام عرب شاہان کے پیٹرو ڈالر معشیت کے سہارے پوری کوشش کررہا ہے، وہیں امریکی سازشوں کے شکار، اپنی سابقہ عالمی چودراہٹ سے پیچھے ہٹائے گئیے
روس، امریکہ کے دشمنوں کی ہر محاذ پر حربی مدد و نصرت کئے، صاحب امریکہ کو صدا زک پہنچانے کی تگ و دو میں مصروف و مگن رہتا ہے وہیں معشیتی وحربی نقطہ نظرسے،عالم انسانیت کی چودراہٹ میں،سب سے تیز رفتار اگے بڑھنے والے اشتراکی چائینا کو، اسکے اپنے اٹوٹ انگ، مملکت تائیوان کی حربی مدد کئے، صاحب امریکہ چین کو وہیں چینی پانیوں میں مصروف و مگن رکھنا چاہتا ہے، وہیں لال سلام ملک چین اپنی بے تحاشا مستحکم معشیت کا استعمال کئے،صرف اپنے تجارتی معشیتی منصوبوں سے، امریکہ مخالف عرب ممالک کی مدد کئے، پیٹرو ڈالر من و سلوی کثرت استعمال سے، صاحب امریکہ کو باز رکھے،
اسے معشیتی کاری ضرب سے نڈھال کئے، اسکی عالمی چودراہت غلبہ کو چیلنچ دینے کی سازشوں میں منہمک لگتا ہے۔ اسی لئے روس و چین پوری طرح سے امریکہ کے خلاف اسکے حریف ایران کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے پائے جاتے ہیں۔ افوس صدفسوس،صداعقل کے کورے مشہور عرب شاہان، جوسابقہ 54 سالوں سے، امریکی پیٹرو ڈالر میں جکڑے رکھے گئے، اپنی خداداد پیٹرول من وسلوی کو انسانیت کی بھلائی پر خرچ کرنے کے بجائے، عالم انسانیت کے سب سے بڑے دشمن، کروڑوں عرب و عجم مسلمانوں کو شہید کرنے کروانے والے یہود و امریکہ کی اسلام دشمن عالمی جنگ کے،
بےجا اخراجات، بے بسی سے ادا کئے جارہے ہیں۔ ابھی ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ کی حربی یلغار کے خلاف جب ایران نے، ان عرب ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے، تہس نہس کیا تھا تو، ان عرب شاہوں کی حفاظت کے لئے ،سالانہ اربوں کھربوں ڈالر بلیک میل کئے، ان عربوں سے لوٹنے کے باوجود ، امریکہ نے ان عرب ملکوں کو ایرانی حملوں سے بچانے کے بچائے، ایک حد تک ان ایرانی حملوں سے اسرائیل کو بچاتے ہوئے، ایرانی میزائیلوں سے، اپنے ہوائی و بحری جہاز بچائے،
میدان جنگ چھوڑ بھاگنے کو فوقیت دی تھی، ایسے میں چاہئیے تو یہ تھا اونٹ کو کس کروٹ بیٹھتے،دیکھتے پس منظر بعدتو،یہ عرب شاہان، روس و چائینا پاکستان و ترکیہ کو درمیان میں ڈالے، انکی ضمانت کے چلتے، اپنے ایمانی بھائی ایران سے حربی عقد و پیمان کئے، امریکہ روس سے کنی کاٹے،اپنی وفاداری امریکہ و اسرائیل سے پالا بدلے ایران چین روس کی طرف گئے ہوتے تو، ان کا مستقبل نہ صرف تابناک ہوتا
بالکہ عالم بھر میں صاحب امریکہ عالم کے انیک ملکوں والے اپنے 750 سے 800 ملٹری بیسز کے جملہ اخراجات کا زیادہ تر حصہ جو ان عرب شاہان سے زبردستی لیا جارہا ہے وہ سرمایہ،ان عرب ملکوں کو صاحب امریکہ کو دینا نہ پڑتا ۔ سب سے اہم جس پیٹرو ڈالر زنجیروں میں یہ عرب شاہان عقد بن ہیں ان عرب ملکوں کےعالمی سطح بیچے ہوئے پیٹرول کی کل قیمت، امریکی بنکوں میں ڈالر کی شکل یرغمال رکھی جاتی ہے ان ملکوں کو ایک مخصوص تناسب رقم انکے ملکی اخراجات کےلئے،ان امریکی بنکوں سے نکالنے کی اجازت ہوتی ہے ایک مخصوص تناسب رقم سے وہ امریکہ سے اپنے تعیش ہسندانہ یا ملکی مفاد دفاعی ہتھیار خرید سکتے ہیں
وہ بھی اسرائیل کے خلاف استعمال نہ کرنے کی شرط پر، باقی پیٹرول بیچی رقم بظاہر امریکی ٹریزری میں محفوظ رکھے جاتے، اس رقم کےبدلے میں امریکی ٹریزری سے بونڈس دئیے، اس رقم کو اپنی ضرورت کے اعتبار سےخرچ کرنے کا استحقاق، صاحب امریکہ کو حاصل رہتا ہے۔ اگر کوئی عرب ملک امریکہ کے خلاف جاتا ہے تو امریکی ٹریزی میں جمع اس ملک کی جملہ کھربوں کی رقم کو صاحب امریکہ محروم بھی کر سکتا ہے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے امریکی بنکوں میں سابقہ 48 سالوں سے ایرانی شاہ حکومت سے منجمد رقم جو موجود ہے جس کا مطالبہ ایران بار بار امریکہ سے کرتا پایا جاتا یے۔ اور روس کے پیٹرول بیچی قیمت امریکی و یورپی بنکوں میں منجمد جوہے جسے یورپ و امریکہ روس کے خلاف استعمال ہونے روس کے دشمن یوکرین کو ہتھیار خریدنے دینے کی دھمکی بار بار روس کو دیتے پائےجاتے ہیں اور روس اتنا طاقتور تر رہتے ہوئے بھی، امریکہ سے اپنی رقم حاصل نہیں کرپایا ہے
پھر کیسے یہ ڈرپوک عرب حکمران امریکی حکومت کے خلاف گئے، امریکہ سے اپنی منجمد رقم حاصل کرسکتے ہیں؟ شاید اسی لئے یہ عرب حکمران ،امریکہ و اسرائیل کے اشاروں پر صدا ناچتے پائے جاتے ہیں۔ اگر عرب حکمران ایران چین روس کے پالے میں کھل کرجا، امریکہ کے خلاف یو این او میں، مشترکہ لاحیہ عمل اپنائیں تو بھلے ہی صاحب امریکہ خود کو بینکرپٹ ڈکلیر کرے، اسے اپنے حکومتی بونڈ کی قیمت برابر سونا چاندی ان عرب ملکوں کو دینا ہی پڑیگا۔
عالم اسلام مخالف،یہود ونصاری سازش کنان کے لئے، یہ عرب شاہان حکومتیں اور نام نہاد جمہوری ملک پاکستان والی فوجی حکومت ، ایک ونڈو حکم سے، اپنے مرضی سے دشمنان اسلام یہود و نصاری کے لئے، نعمت غیر مترقبہ(وردان) کی صورت ہیں۔اصلی باشندگان مملکت حرم مکی، حضرت اسماعیل علیہ السلام کے سسرالی یمنی قبائل پر، حرم مکی مدنی پر حملہ آوری کا بہتان لگانے والے، سلطنت عثمانیہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپے،اقتدار ممالک عربیہ ہتھیانے والے یہ شاہان عرب، جنہیں ایرانی شیعیت کے مقابلے، قول رسول ﷺ، کفار و مشرکین کے لااعتبار قرار دیئے، یہود و نصاری کتنے اعتباری لگتے ہیں،
انکے اخلاص آج نہیں تو کل جگ ظاہر ہوکر رہیں گے۔ عالم اسلام سربراہی سے، ان عربوں کی ماورائیت حصول کے لئے، انکے کردار کا کھل کر امت مسلمہ کے سامنے آنا جو باقی ہے۔اب یہ سعودی یمنی جنگ دوبارہ شروع کرنے کا اعزاز یمن کو نہیں بالکہ والی حرمین شریفین محمد بن سلمان ہی کو ہے۔ 2016 میں سعودی عرب اور یواے ای نے خود سے اگے بڑھ کر یمن کے حوثیوں پر حملہ کے 20% آبادی والے 70فیصد رقباتی یمن پر قبضہ جمائے یو این او سے اھازت نامہ حاصل کئے ویان سعودی حنایت یافتہ حکومت بنالی تھی اور 2022 میں حوثیوں سے امن عامہ معایدہ کئے
اپنے اہنے علاقوں میں اپنی دیڑھ انچ واکی مسجد مصداق حکومت چلارہے تھے۔ ایران سے شکشت کگائے مئدان جنگ سے بھاگے صاحب امریکہ کی ایماء اسرائیلیبنجامن نتنیاہو کےمنصوبے پر عمل پیرا سعودی محمد بن سلمان نے حوثی زیر نگرانی والے ہوائی اڈے پر ایران خامنائی کے جنازے سے ہوٹے ہوائی جہاز کو انکے اپنے یمن اترنے نہ دینے محمد بن سلمان کے حکم سے بمباری کئے حملے کے بعد یہسعودئ حوثی جنگ دوباری بھڑکی ہے
۔ اا یمن سعودی جنگ کے نتائج سے بے خبر ایک بات جو مسلم ہے کہ وہ یہ کہ یہودیوں کے خلاف مشترکہ مسلم افواج کٹھ جوڑ مکہ عقد کے تحت جو بنایا گیا تھا بنجامن نیتن یاہو کیسازش کا شکار بنے یمن ایران بمقابلہ سعودیہ ترکیہ پاکستان اسرائیل امریکہ برطانیہ فرانس جرمنی مشترکہ افواج مقابلہ ہوتے ایران یمن کے ساتھ سعودیہ کے معشیتی طور تباہ ق برباد ہوتے پاکستان و ترکیہ مسلم افواج ساکھ کے ساتھ مشترکہ ترک پاکستان سعودیہ مکہ
معاہدہ ساخت تک کو داؤ پر لگاتا سعودی عربیہ لا ایک بچکانہ عمل ہے ایسے موقع پر مشہور شاعر ھند یوپی مظفر بزمی کا وہ معرکہ الارا شعر گنگانے کو دل کرتا ہے۔
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ہے
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
ویسے بھی ہمارے پیشین گوئی کردہ، اسلامی خلافت، نشاط ثانیہ ظہور پزیری کے لئے، ابھی کم از کم نصف صد سال کا عرصہ باقی جو بچا ہے اگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا وما التوفیق الا باللہ