پا کستان خطے میں امن کا نیا ثالث بن رہا ہے!

     پا کستان خطے میں امن کا نیا ثالث بن رہا ہے!

دنیا مشرقِ وسطیٰ کے ایک ایسے بحران سے گزر رہی ہے کہ جس کے اثرات صرف ایران، امریکا اور خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہے ہیں،بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی، عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی تک پھیل چکے ہیں،اس نازک ماحول میں پاکستان کا ایک مرتبہ پھر سفارتی میدان میں متحرک ہونا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے،ایک بار پھر تہران میں پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقاتوں اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں نے سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا پاکستان خطے میں امن کا ایک نیا اور مؤثر ثالث بن کر ابھر رہا ہے؟
 پاکستان نے ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں،چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا ہنگامی دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے ،پاکستانی ترجمان کے مطابق تہران میں ہونے والی بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور مذاکرات کا مرکز جنگ بندی، کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور تنازع کے سیاسی حل کی طرف واپسی رہا ہے ،یہ پیش رفت اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس وقت دونوں فریقوں کے درمیان بداعتمادی انتہائی گہری ہے اور معمولی سی غلط فہمی بھی پورے خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے،اس لیے پاکستان علاقائی سلامتی اور بحری تجارتی گزرگاہوں کے تحفظ کیلئے اپنی بساط سے بڑھ کر کوششیں کر رہا ہے۔
یہ نیا ثالثی کا کردارپاکستان کے لیے اچانک پیدا نہیں ہواہے،اسلام آباد پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات پہنچانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتاآ رہا ہے ،رواں سال ہونے والی سفارتی سرگرمیوں میں پاکستان نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے ،جو کہ ایک طرف ایران کے ساتھ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی تعلقات رکھتا ہے اور دوسری طرف امریکا کے ساتھ اپنے سفارتی و اسٹریٹجک روابط بھی برقرار رکھتاہے ،یہ منفرد پوزیشن ہی پاکستان کو ایک ممکنہ ’’برج‘‘ بناتی ہے، اگر اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر اعتماد سازی کا کوئی قابلِ عمل راستہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے ،بلکہ پورے خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس بار اہم مسئلہ آبنائے ہرمز بنا ہوا ہے ،اس پر ایران کنٹرول ختم کر نے کیلئے تیار ہے نہ ہی امر یکہ پیچھے ہٹنے کیلئے تیار ہے ۔

 

اس امر یکہ ایران جنگ میں آبنائے ہر مز انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے ،یہ دنیا کی توانائی کی سپلائی کے لیے گزرگاہ انتہائی اہم ہو گئی ہے اور اس میں مسلسل کشیدگی عالمی منڈیوں کو براہِ راست متاثر کررہی ہے،گزشتہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک آئل ٹینکر کو نقصان پہنچنے کے واقعے نے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں، اگر اس راستے کی بندش یا غیر یقینی صورتحال طویل ہوتی گئی تو تیل کی قیمتیں، شپنگ کے اخراجات اور عالمی افراطِ زر دوبارہ شدید دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں،اس لیے پاکستان کی سفارتی کوشش کا اصل امتحان صرف ایران اور امریکا کو میز پر لانا نہیں، بلکہ ایسے قابلِ عمل فارمولے تک پہنچنا ہے کہ جس میں دونوں فریق اپنی بنیادی سلامتی اور سیاسی ترجیحات کے تحفظ کے ساتھ پیچھے ہٹنے کا راستہ تلاش کر سکیں،یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے اور ایک بڑا امتحان بھی ہے؟
کیا اس امتحان میں پا کستان کا میاب ہو پائے گا ؟ یہ ایک بڑاہی اہم سوال ہے اور اس کا جواب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ،لیکن ماضی میں پاکستان نے عالمی طاقتوں کے درمیان رابطے کا بڑاہی اہم کردار ادا کیا ہے، افغانستان کے معاملے پرپاکستان کی سفارتی اہمیت رہی ہے، امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بھی اسلام آباد نے سہولت کاری کی ہے، جبکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں بھی پاکستان نے اپنا کردار ادا کیاہے اورگر آج ا سلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک نئی شناخت مل سکتی ہے۔
اس صورتحال میں ایک بنیادی سوال ضرور اُٹھتاہے ، کیا پاکستان واقعی ثالث ہے یا صرف سہولت کار؟ کیو نکہ ثالث وہ ہوتا ہے کہ جس پر دونوں فریق اتنا اعتماد کریں کہ مذاکرات کی شرائط، تجاویز اور ممکنہ سمجھوتے پر اثرانداز ہوسکے، جبکہ سہولت کار کا کردار قدرے مختلف ہوتا ہے ،وہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا راستہ کھولتا ہے، پیغامات منتقل کرتا ہے اور مذاکرات کے لیے ماحول پیدا کرتا ہے، پاکستان کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ خود کو کسی ایک فریق کا نمائندہ بنانے کے بجائے غیر جانب دار سہولت کار کے طور پر پیش کرے، اگر پا کستان قریب ہونے کی وجہ سے صرف تہران کی بات کرے گا تو واشنگٹن کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے،اور اگر امریکا کے مفادات کو ترجیح دے گا تو اس کی ساکھ ایران کے لیے کمزور ہوجائے گی ،پاکستان کی کامیابی اسی میں ہے کہ دونوں فریقین کے ساتھ رابطہ رکھتے ہوئے ’’امن‘‘ کو ہی اپنا بنیادی ایجنڈا بنائے ،یہ ہی پاکستان کے قومی مفاد کا تقاضا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو آج پاکستان کے سامنے ایک منفرد موقع ہے اور اس موقع کا سہرا ایک بار پھر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سر ہے ، پا کستانی وفدکے تہران میں حالیہ رابطوں سے راستہ ضرور کھلا ہے، لیکن منزل ابھی دور ہے، پاکستان کو جذباتی نعروں کے بجائے خاموش، محتاط اور مسلسل سفارت کاری کی ضرورت ہے، کیو نکہ عالمی سفارت کاری میں کامیابی صرف ملاقاتوں یا بیانات سے نہیں ،بلکہ نتیجہ خیز معاہدوں سے ثابت ہوتی ہے، اگر اسلام آباد کسی ایسے فارمولے تک پہنچنے میں مدد کرتا ہے کہ جس کے نتیجے میں فریقین دوبارہ مذاکرات شروع کرتے ہیں، کشیدگی کم ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہوتی ہیں تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہوگی ،اس کے برعکس مذاکرات بار بار شروع ہو کر ناکام ہوتے رہے تو پاکستان کی سفارتی ساکھ نہ صرف متاثر ہوسکتی ہے، بلکہ یہ ثالثی گلے بھی پڑ سکتی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *