ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
-
جمہور کی آواز
ایم سرورصدیقی
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے کو تاریخ ساز کہاجائے تومبالغہ نہ ہوگا اس معاہدے نے ثابت کردیاہے کہ واقعی پاکستان اسلام کا مضبوط قلعہ ہے اب پاکستان کے دشمن برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ترکیہ کے دشمن تصور کئے جائیں گے اس کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ کا نام دیا گیا ہے بالآخر اس معاہدے سے علامہ اقبال ؒ کا یہ خواب پورا ہونے کی طرف پیش قدمی ہوئی ہے جس کااظہار انہوں نے اپنے ان جذبات و احساسات میں کیا تھا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابغر کاشغر
اس تاریخ ساز معاہدے سے بھارت ، اسرائیل اور ان کے ہم نوا ممالک کی نیندیں حرام ہوجائیں گی اور خطے کی سیاسی ، معاشرتی اور معاشی صورت ِ حال تبدیل ہونے سے ترقی کے نئے باب کھلیں گے اس تناظرمیں خطے کی موجودہ صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ کے تین ممالک کے درمیان دفاعی اتحاد کے معاملے پر عرب میڈیا نے ایک خصوصی رپورٹ میں بین الاقوامی ماہرین کی رائے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان نیا معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے بدلتے توازن اور ایک نئے علاقائی اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں پر تصور ہو گا معاہدے کے تحت تینوں ممالک کسی بھی رکن کو لاحق خطرے کی صورت میں مشترکہ دفاع کے عزم کا اظہار کریں گےتاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ کسی ایک ملک پر حملہ ہونے کی صورت میں باقی دونوں ممالک لازمی طور پر فوجی کارروائی کریں گے یا نہیں۔ رپورٹ میں تجزیہ کار ہارلن اولمین نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ معاہدے میں اگر یہ کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں ’تصور کیا جائے گا‘ کی شرط اہم ہے کیونکہ اس کا مطلب لازمی فوجی مداخلت نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک کو مختلف نوعیت کے سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان فروری سے افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں ہے جبکہ مئی 2025ء میں پاکستان کی بھارت کے ساتھ بھی کئی روز تک مسلح جھڑپیں جارہ رہیں۔ سعودی عرب کو ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ لاحق رہا ہے جبکہ ترکیہ طویل عرصے سے کرد مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے اور اسرائیل کے ساتھ اس کی کشیدگی بھی بڑھی ہے
۔ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان اور ترکیہ کیساتھ مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، سعودی عرب رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر یمن کے حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو کیا پاکستان اور ترکیہ بھی اس تنازعہ میں شامل ہوں گے؟ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ معاہدہ اس حوالے سے ابھی واضح جواب نہیں دیتا بہرحال خطے میں بدلتی صف بندیاں اور اس معاہدے کے پس منظرمیں اب مسلمانوںکی مقدس ترین سرزمین سعودی عرب کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرے گا کیونکہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے پاکستان کا بچہ بچہ کٹ مرنے کا جذبہ رکھتاہے
اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو احساس ہوتاہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے جاری محاذ آرائی بھی وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایسے نازک حالات میں خطے کے کئی ممالک پرانے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترکیہ اور سعودی عرب بھی ماضی میں شدید اختلافات کا شکار رہے ہیں
، 2018ء میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی تاہم 2022ء تک دونوں نے اختلافات کم کرکے تعلقات بہتر بنانے کی جانب پیش رفت شروع کر دی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کی جانب سے خطے میں بڑھتے دباؤ نے بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں کردار ادا کیا ہے تینوں ممالک کی مختلف دفاعی طاقت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی سیاسی، معاشی، دفاعی قوت کا ایک جائزہ معاہدے کے ذریعے تینوں ممالک اپنی مختلف دفاعی صلاحیتوں کو یکجا کر سکتے ہیں پاکستان کے پاس تجربہ کار مسلح افواج، دفاعی ساز و سامان اور جوہری صلاحیت موجود ہے، ترکیہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور جدید عسکری صلاحیتوں کے ساتھ نیٹو کا اہم رکن ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس مضبوط مالی وسائل موجود ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کے رائے کے مطابق ان صلاحیتوں کا امتزاج تینوں ممالک کو ایک دوسرے کے لیے اہم دفاعی شراکت دار بنا سکتا ہے۔ اس اتحاد کی اہمیت ایسے وقت میں مزید بڑھ گئی ہے جب امریکا کے علاقائی کردار اور اس کی قابلِ اعتماد سیکیورٹی شراکت داری پر سوالات اٹھ رہے ہیں سعودی عرب اور کسی حد تک ترکیہ طویل عرصے سے امریکا کو اہم سیکیورٹی شراکت دار سمجھتے رہے ہیں تاہم امریکی خارجہ پالیسی میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال کے باعث خطے کے ممالک متبادل دفاعی تعاون اور نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ واقعی ایک مؤثر علاقائی دفاعی اتحاد بنتا ہے یا صرف مشترکہ سیاسی اور دفاعی عزم تک محدود رہتا ہے، اس کا فیصلہ آنے والے حالات اور عملی اقدامات سے ہو گا لیکن یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ اس معاہدے مسلم ممالک کی تشکیل کی طرف ایک اہم پیش رفت سے مسلمانوں کی نشاط ِ ثانیہ کی بحالی میں معاونت ہوسکتی ہے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے سے تینوں اسلامی ممالک کے حکمران میاںشہبازشریف، فیلڈمارشل سیدعاصم منیر، پرنس سلمان بن محمد اور طیب اردگان بجاطور پر مبارک بادکے حقدارہیں اللہ کرے اس معاہدے میں مزید مسلم ممالک بھی شامل ہوجائیں تاکہ مشترکہ دفاع سے دور ِ حاضرکے چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے اورایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے کا خواب شرمندۂ تعبیرہوسکے۔