آزادیٔ اظہار اور ذمہ دار صحافت !
-
صحافت ایک مقدس، ذمہ دار اور باوقار پیشہ ہے، جبکہ جھوٹ اور پروپیگنڈا پھیلانے والا صحافی نہیں ہو سکتا،بیرون ملک فرار یوٹیوبرز ملک کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں، ملک دشمن بیانیہ پھیلانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی ،الزام لگانے والے کو اپنے دعوے کے ثبوت بھی دینا ہوں گے، یہ باتیں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے خطاب میں جہاں کہیں ،وہاں صحافت، ڈیجیٹل میڈیا، فیک نیوز، یوٹیوب جرنلزم اور آزادیٔ اظہار کے حوالے سے کچھ نکات بھی اٹھائے ہیں ، یہ محض ایک حکومتی مؤقف نہیں، بلکہ اس بحث کا حصہ ہیں ،جو کہ گزشتہ چند برسوں سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں شدت اختیار کر چکی ہے،، لیکن اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ صحافت کی تعریف کون کرے گا؟ اس کا معیار کیا ہوگا؟ اور آزادیٔ اظہار اور ذمہ دار صحافت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے گا؟
اگر دیکھا جائے توڈیجیٹل انقلاب نے اطلاعات کی دنیا کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے ،ماضی میں خبر صرف اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے عوام تک پہنچتی تھی، جہاں ادارتی نگرانی، خبر کی تصدیق اور متعدد مراحل سے گزرنے کے بعد ہی کوئی اطلاع نشر یا شائع ہوتی تھی، آج صورت حال مختلف ہے، اب ایک عام شہری بھی اپنے موبائل فون کے ذریعے چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے،اس طرح کی سہولت جمہوری معاشروں میں اظہارِ رائے کو فروغ تو دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ جھوٹی خبروں، افواہوں اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ گیا ہے ،اس میں جہاں حکو مت کا ایک کردار ہے تو وہیں میڈیا بھی بری ازماں نہیں ہے ،اس کے ساتھ ایک عالمی چیلنج ہے اورسارے ہی ترقی یافتہ ممالک غلط معلومات، مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیوز، جھوٹے بیانیوں اور منظم پروپیگنڈے سے نبرد آزما ہیں۔
ہمارے معاشرے میںجہاں سیاسی تقسیم پہلے ہی شدید ہے، وہاں غیر مصدقہ معلومات نہ صرف افراد کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں، بلکہ ریاستی اداروں، قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں، اس اعتبار سے ذمہ دار صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے ،تاہم، اس معاملے کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے، اگر حکومتیں خود فیک نیوز پھلائیں اور دوسروں کی “فیک نیوز” کے نام پر ہر تنقیدی آواز کو دبانے کی کوشش کریں تو یہ آزادیٔ صحافت کے لیے خطرناک رجحان ثابت ہو سکتا ہے،اس لیے دوسروں قدغن لگانے سے پہلے اپنے گر یباں میں بھی جھا نکنا ہو گا، دنیا بھر میں ایسے کئی قوانین متعارف کرائے گئے ہیں کہ جن کا مقصد بظاہر جھوٹی خبروں کی روک تھام تھا، مگر بعد میں ان قوانین کو اختلافی آوازوں، تحقیقاتی صحافت اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف استعمال کیا گیا ، اس لیے ضروری ہےکہ فیک نیوز کی روک تھام کے اقدامات شفاف، غیر جانبدار اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہوں ،تاکہ آزادیٔ ظہار متاثر نہ ہونے پائے،کیا اس کا خیال رکھا جارہا ہے؟
ہر دور حکو مت میں آزادی اظہار کو دبایا ہی جاتا رہا ہے ،اس دور حکو مت میں بھی مختلف بہانوں سے پرانی روایت دہرائی جارہی ہے، اگر چہ وزیر اظلات عظمیٰ بخاری کہنا بجا ہے کہ ہر شخص موبائل اور مائیک اٹھا کر صحافی نہیں بن جاتا، بلکہ تحقیق، تصدیق، غیر جانبداری، اخلاقیات اور عوامی مفادکا خیال بھی رکھنا پڑتاہے،تاہم اس جدید دنیا میں “شہری صحافت” یا “سٹیزن جرنلزم” ایک تسلیم شدہ تصور بن چکا ہے، کئی اہم واقعات کی ابتدائی معلومات عام شہریوں نے ہی دنیا تک پہنچائی ہیں، لہٰذا اصل مسئلہ کسی پلیٹ فارم کا نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ اصولوں کی پابندی کا ہے، اگر کوئی یوٹیوبر حقائق، ثبوت اور صحافتی اخلاقیات کی پاسداری کرتا ہے تو اسے صرف پلیٹ فارم کی بنیاد پر مسترد کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا،وزیر اطلاعات نے صحافتی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کریں اور مؤثر خود احتسابی کا نظام قائم کریں،یہ تجویز قابلِ غور ہے،اس پر اہل سیاست کو بھی غور کر نا چاہئے؟
دنیا کے کئی ممالک میں پریس کونسلز، میڈیا اومبڈسمین اور صحافتی ضابطہ اخلاق کے ادارے اسی مقصد کے لیے کام کرتے ہیں، اگر صحافتی تنظیمیں خود احتسابی کو مضبوط بنائیں تو یقیناً ریاستی مداخلت کی ضرورت کم ہو سکتی ہے ،لیکن اس خود احتسابی کا عمل بھی غیر جانبدار، شفاف اور تمام صحافتی اداروں پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، تاکہ اسے کسی مخصوص نظریے یا گروہ کے خلاف ہتھیار نہ بنایا جا سکے ،اس پورے عمل میں سب سے زیادہ ضروری چیز باہمی مشاورت اور اعتماد ہے، اگر حکو مت اورصحافتی تنظیمیں، میڈیا مالکان، ڈیجیٹل کریٔیٹرز، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے نمائندے مل بیٹھ کر قابلِ قبول اصول مرتب کریں تو زیادہ متوازن نظام سامنے آ سکتا ہے۔
اس میں سب سے پہلے ما نا پڑے گاکہ صحافت ریاست کا مخالف ادارہ نہیں، بلکہ جمہوریت کا ایک بنیادی ستون ہے،اس طرح ریاست بھی صحافت کی دشمن نہیں، بلکہ عوامی مفاد کے تحفظ کی ذمہ دار ہے تو ان دونوں کے درمیان تصادم کے بجائے اعتماد، شفافیت اور آئین و قانون کی بالادستی کا رشتہ قائم ہونا چاہیے، آزادی اظہار اور ذمہ دار صحافت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، اگر صحافی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، صحافتی تنظیمیں مؤثر خود احتسابی اختیار کریں، حکومت اختلافِ رائے کو برداشت کرے اور عوام خبر کی تصدیق کو اپنی عادت بنائیں تو فیک نیوز کا مسئلہ نہ صرف کم ہوگا ،بلکہ پاکستان میں صحافت کا وقار، عوام کا اعتماد اور جمہوری نظام بھی مزید مضبوط ہوگا۔