20

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کا امتیازی قانون نافذ کردیا

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کا امتیازی قانون نافذ کردیا

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کا امتیازی قانون نافذ کردیا

مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت کا خصوصی قانون نافذ العمل ہو گیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق  اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل ایوی بلوتھ نے اس قانون کے نفاذ کے لیے درکار فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

اس حکم کے تحت قانون کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جو اسرائیلی شہریوں کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ ہوں گے انہیں پھانسی کی سزا کے علاوہ کوئی اور سزا سنائی نہیں جاسکتی۔

قانون کے مطابق صرف کسی خاص صورتحال میں ہی عدالت مجرم کو عمر قید کی سزا دے سکے گی۔

مارچ کے آخر میں اسرائیلی پارلیمنٹ سے اس قانون کی منظوری کے بعداسرائیلی  وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایوی بلوتھ سے فوجی حکم نامے کی منظوری کی درخواست کی تھی۔

اس امتیازی قانون میں  واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی شہریوں یا اسرائیل کے رہائشیوں پر لاگو نہیں ہوگا۔ یہ قانون صرف فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات پر لاگو ہوگا جو فلسطینیوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ اسرائیلی شہریوں کے مقدمات اسرائیل کی سویلین عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں