61

سپر پاور یا سیکورٹی فریب؟ایک واقعہ بڑی حقیقت!

سپر پاور یا سیکورٹی فریب؟ایک واقعہ بڑی حقیقت!

تحریر : عرفان مصطفی صحرائی

ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے کی خبر نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں منعقد ہونے والی وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر جیسی باوقار اور ہائی پروفائل تقریب میں اس نوعیت کی سکیورٹی ناکامی ایک سنگین سوالیہ نشان بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی کمزوری کی نشاندہی ہے جسے دنیا بھر میں سکیورٹی کے مثالی ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ دنیا بھر میں سکیورٹی خطرات کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ روایتی جنگوں اور منظم دہشت گرد تنظیموں کی جگہ اب انفرادی حملہ آوروں نے لے لی ہے جو نہ صرف غیر متوقع ہوتے ہیں بلکہ ان کا انداز بھی روایتی سکیورٹی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے میں اگر کسی بڑے ایونٹ میں چند لمحوں کی غفلت بھی ہو جائے تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں، جیسا کہ اس واقعے میں دیکھا گیا۔
اطلاعات کے مطابق 31 سالہ ملزم کول ایلن سکیورٹی چیک پوائنٹ کو عبور کرتے ہوئے تیزی سے بال روم کی جانب بڑھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اسی وقت سکیورٹی اہلکار میٹل ڈیٹیکٹرز کو ہٹا رہے تھے۔ یہ لمحہ دراصل سکیورٹی کے اس خلا کی عکاسی کرتا ہے جسے ماہرین‘‘ٹرانزیشنل فیز’’کہتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب نظام مکمل طور پر فعال نہیں ہوتا اور حملہ آور کو موقع مل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے حساس ایونٹ میں اس قسم کی غفلت کیوں برتی گئی؟رات تقریباً 8:40 بجے فائرنگ کی آوازیں گونجیں اور United States Secret Serviceکے اہلکار فوری طور پر حرکت میں آئے۔ تاہم ابتدائی ردعمل میں بھی کمزوریاں واضح نظر آئیں۔ ایک ایجنٹ نے ملزم پر فائرنگ کی مگر گولیاں ہدف پر نہ لگ سکیں۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ خود ایجنٹ کو گولی لگی، اگرچہ بلٹ پروف جیکٹ نے اس کی جان بچا لی۔ یہ پہلو نہ صرف تربیت کے معیار بلکہ عملی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔
اس تقریب میں تقریباً 2,500 افراد شریک تھے، جن میں صدر، خاتون اول، اعلیٰ سرکاری افسران، صحافی اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ اس ہجوم میں کسی مسلح شخص کا داخل ہونا بذات خود ایک خطرناک علامت ہے۔ اگر حملہ آور بال روم تک پہنچ جاتا تو اس کے نتائج کا تصور بھی خوفناک ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سکیورٹی کا نظام صرف بیرونی خطرات کو روکنے تک محدود نہیں بلکہ اندرونی نظم و ضبط اور ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہے۔یہ واقعہ ہمیں ماضی کے کئی ایسے واقعات کی یاد دلاتا ہے

جہاں سکیورٹی اداروں کی معمولی سی غفلت بڑے سانحات کا سبب بنی۔ہمارے ہاں بھی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پر قاتلانہ حملہ سکیورٹی اداروں کا بڑا فیلیر تھا ، تاریخ گواہ ہے کہ بڑے حملے ہمیشہ کسی نہ کسی چھوٹی کمزوری سے شروع ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اصل خطرہ ہمیشہ باہر سے نہیں بلکہ اندرونی کمزوریوں سے پیدا ہوتا ہے۔
جدید سکیورٹی کا تصور اب بدل چکا ہے۔ یہ صرف اسلحہ، نفری یا رکاوٹوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک مکمل نظام ہے جس میں انٹیلی جنس، نفسیاتی تجزیہ، ٹیکنالوجی اور فوری فیصلہ سازی شامل ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک جزو بھی کمزور ہو جائے تو پورا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ جیسے ملک کو بھی اپنے سکیورٹی ماڈل پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
آج کے دور میں حملہ آور اکثر‘‘لون وولف’’ہوتے ہیں، یعنی وہ کسی تنظیم سے وابستہ نہیں ہوتے۔ ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے

کیونکہ وہ روایتی انٹیلی جنس نیٹ ورکس میں نظر نہیں آتے۔ ایسے افراد کی ذہنی کیفیت، آن لائن سرگرمیاں اور سماجی رویے سکیورٹی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سکیورٹی ادارے صرف جسمانی نگرانی پر انحصار نہ کریں بلکہ ڈیجیٹل اور نفسیاتی پہلوؤں پر بھی توجہ دیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت جدید تقاضوں کے مطابق ہے؟ کیا وہ ہنگامی حالات میں درست فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اس واقعے میں فائرنگ کا غیر مؤثر ہونا اور ابتدائی ردعمل کی کمزوری اس بات کا اشارہ ہے کہ بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ سکیورٹی صرف موجودگی کا نام نہیں بلکہ کارکردگی کا نام ہے۔
امریکہ طویل عرصے سے دنیا بھر میں اپنے سکیورٹی نظام کو ایک مثال کے طور پر پیش کرتا آیا ہے، مگر اس واقعے نے اس تصور کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ کوئی بھی نظام مکمل نہیں ہوتا اور ہر نظام کو وقت کے ساتھ خود کو بہتر بنانا پڑتا ہے۔
اس واقعے کا ایک اور اہم پہلو میڈیا اور عوامی اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اگر صدر خود محفوظ نہیں تو عام شہری کس حد تک محفوظ ہیں۔ یہ اعتماد بحال کرنا کسی بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سکیورٹی کے نام پر مکمل کنٹرول یا سختی بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے جہاں سکیورٹی بھی ہو اور آزادی بھی متاثر نہ ہو۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جس پر چلنا ہر ریاست کے لیے ایک مشکل کام ہوتا ہے۔
اس واقعے کے بعد امریکہ کو نہ صرف اپنی سکیورٹی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی ہوگی بلکہ اس کے نفاذ کے طریقہ کار کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر تربیت، اور اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اس سمت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ واقعہ ایک وارننگ ہے۔ یہ صرف امریکہ کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے ہر اس ملک کے لیے ایک سبق ہے جو خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ سکیورٹی ایک مسلسل عمل ہے، ایک ارتقائی نظام ہے جسے ہر لمحہ بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
جو قومیں اس حقیقت کو سمجھ لیتی ہیں وہ خود کو محفوظ رکھ پاتی ہیں، اور جو اسے نظر انداز کرتی ہیں وہ ایسے ہی خطرناک واقعات کا شکار ہو جاتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں