49

تحفظ کی دستک پر سلگتے سوالات !

تحفظ کی دستک پر سلگتے سوالات !

پا کستان کے بہت سے شہر وں میں ایک شہرلاہورکہ جسے کبھی امن، ثقافت اور زندگی کا استعارہ سمجھا جاتا تھا، آج وہاں سے آنے والی خبریں دل دہلا دینے والی ہوتی ہیں،اس میں جو اعدا وشمار بیان کیے جاتے ہیں ،وہ اعداد و شمار محض نمبر نہیں ہوتے ،بلکہ یہ کسی معاشرے کے مجموعی رویے اور انتظامی گرفت کا آئینہ ہوتے ہیں،

حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے چار ماہ میں خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم کی تعداد 2174 تک جا پہنچی ہے، جو کہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں واضح اضافہ ظاہر کرتی ہے،یہ اعداد و شمار پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس شہرِ بے مثال میں کمزور طبقات کے گرد طاقتور مجرموں کاگھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
اس میںسب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو بچیوں سے زیادتی کے واقعات میں 47 فیصد سے زائد کا ہولناک اضافہ ہے۔،یہ معصوم کلیاں جو ابھی زندگی کا مفہوم بھی نہیں سمجھ پاتیں، وہ درندگی کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں،اس طرح ہی خواتین سے اجتماعی زیادتی کے کیسز میں 12 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مجرموں کے دلوں سے قانون کا خوف ختم ہو چکا ہے، معاشرے میں جب سزا اور جزا کا نظام سست روی کا شکار ہو جائے تو مجرموں کے حوصلے پست ہونے کے بجائے بلند ہونے لگتے ہیں،جو کہ بڑی تیزی سے ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ اغوا کی وارداتوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے، شہر میں ہر روز اوسطاً 10 خواتین کا اغوا ہونا انتظامی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ،اس سال کے پہلے چار ماہ میں 1104 خواتین اور بچوں کے اغوا کے کیسز رپورٹ ہونا محض پولیس کی ناکامی نہیں ، بلکہ سماجی گراوٹ کی بھی علامت ہے ،کیا ایک مہذب معاشرے میں مائیں، بہنیں اور بچے اپنے ہی شہر کی سڑکوں پر خود کو غیر محفوظ تصور کریں گے اور صوبائی حکو مت دعوئوں کے لالی پاپ سے اپنے عوام بہلاتی رہے گی۔
یہ کسی بھی ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ فراہم کرنا ہے،اگر اعداد و شمار میں ہر سال اضافہ ہی دیکھنے کو ملے، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ روایتی طریقہ پولیسنگ اور بیانات اب کافی نہیں رہے ہیں، بلکہ اب کچھ عملی اقدامات ضروری ہو گئے ہیں،اس میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے صرف تھانہ کلچر کی تبدیلی ضروری نہیں ہے، بلکہ ایسے کیسز کے لیے ‘فاسٹ ٹریک عدالتیں بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں، تاکہ مجرموں کو فوری طور پر نشانِ عبرت بنایا جا سکے، اس گزرتے وقت کے ساتھ مجرمیوں کی حوصلہ شکنی کر نا بہت ضروری ہو گیا ہے۔
حکومت اور پولیس انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں کی نشاندہی کریں کہ جہاں یہ جرائم زیادہ ہو رہے ہیں، سیف سٹی کے کیمروں کا جال صرف چالان کاٹنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لیے بھی استعمال ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر آگاہی مہم اور تعلیمی اداروں میں بچوں کو ‘گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ’ جیسے تصورات سے روشناس کروانا بھی ناگزیر ہو چکا ہے،اس میں انفرادی کے ساتھ اجتماعی طور پر سب کو اپنی ذمہ داریاں ادا کر نے کی اشد ضرورت ہے ۔
ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خواتین اور بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور سرمایہ ہوتے ہیں، اگر آج ہم نے ان کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے، تو یہ عدم تحفظ کے خوف کی لہر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اب وقت آگیا ہے کہ انتظامیہ محض اعداد و شمار جمع کرنے کے بجائے عملی طور پر سڑکوں پر تحفظ کا احساس پیدا کرے، لاہور کو دوبارہ وہی ‘زندہ دلان’ کا شہر بنانا ہے کہ جہاں ہر بیٹی خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کر سکے۔اس کے لئے کیا کچھ کر نا ہو گا ؟

اس کیلئے سب سے پہلے اپنے طرزعمل میں ضروری تبدیلیاں لانا ہوں گی، مثبت اقدامات اختیار کرنے کی کوشش کرنا ہوگی، لیکن اس میں بڑا مسئلہ ہے کہ، یہاں ہر شخص اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری سے جان چھڑانا چا ہتاہے ،تعلیم تدریس اور تحقیق کی ترویج پر شب و روز محنت و کاوش پر زور دیا جاتا ہے تو پھر قانون پر عمل داری سے لاپرواہی کا مروجہ رجحان، ہماری عدم توجہی کے تسلسل پر افسوس ناک، اندازِ فکر کا عندیہ ظاہر کرتا ہے ،

اس میںقانون ساز اداروں کا بھی بڑا عمل دخل ہے، ایوان اقتدار میں بیٹھے قانون سازوں کو اسے سنجیدہ معاملہ سمجھنا ہپو گا،ملک بھر میں جرائم کا بلند ہوتا گراف فوری اقدامات کا متقاضی ہے، اس رجحان کی بیخ کنی کے لیے جہاں حکو مت کو عملی طور پرمتحرک ہونا ہے ، وہاں ہرگھر کے بڑوں کو بھی اپنے اندر مثبت تبدیلی لانا ہو گی، ملک میں اجتماعی کا ئوشوں سے ہی تحفظ کی دستک پر سلگتے سوالات کا جواب تلاش کیا جاسکتا ہے اور بگڑے معاملات درست کر کے آگے بڑھاجاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں