39

ہم تکفیری تفکرات مسلم امہ میں، مومن مسلمان کون باقی بچا ہے؟

ہم تکفیری تفکرات مسلم امہ میں، مومن مسلمان کون باقی بچا ہے؟

۔ نقاش نائطی
۔ +966562577707

بنا مذہبی منافرتی تفکر، اللہ و اسکے رسولﷺ پر ایمان کامل والے, اپنی جان تک کی پرواہ نہ کئے, صد فیصد جہادی جذبات کے ساتھ مظلوموں کو بچانے ظالموں سے نبز آزما ہونے والے, سچے پکے مومن نہیں ہوسکتے ہیں؟ توکیا یہود و ہنود ونصاری اسلام دشمنان کے ساتھ اندرون خانہ ساز باز کئے,افغانی طالبان حکومت, عراقی انتہائی دلیر صدام حکومت, اپنی عوام کو ان عرب شاہان والی حکومتوں سے بھی زیادہ معشیتی معاشرتی صحت یابی و شفا یابی سہولیات دینےوالے لیبیائی معمر قذافی حکومت, حصول علوم دین اور عمل میں بھی ہم ھند و پاک مسلمانوں سے آگے پائے جانے والےسوڈانی حکومت اور اللہ کے رسول ﷺ کے پیشین گوئی کردہ تاقیامت سلف و صالحین کے ماننے والے

ایک گروہ موجودگی والی سوریائی حکومت اور بڑے بڑے محدثین پیدا کئے,سنت رسول ﷺ صدا لنگی بردار اپنی جانوں تک کی پرواہ نہ کئے عالمی حربی طاقت و قوت یہود ونصاری کو باب المندب بندش سے فسلطین پر اسرائیلی انبساط کو ایک حد تک روکنے والی یمنی حکومت و سومالی منتخب حکومتوں کو بے دخل کئے, انکے عوامی منتخب حکمرانوں کو شہید و در بدر کئے, وہاں وہاں کے مسلم عوام کو ایک نئی آزادی دلوانے کے بہانے, ان ممالک میں آنارکی پیدا کئے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں مسلم مرد و نساء بچوں کی شہادتیں کئے,کروائے مسلم نساء کی اجتماعی آبروریزی کرنے کروانے والے عرب سنی مسلمان, کیا موحد مومن باقی بچے رہیں گے؟

آسمانی تعلیمات, ہم انسانوں کو دانت کے بدلے دانت,آنکھ کے بدلے آنکھ اور انسانی جان کے بدلے جان, جوابی کاروائی کرنے کا حق استحقاق دیتی ہے اسرائیل امریکہ کے ایران پر 28 فروری اپنے پہلے حملہ میں ایرانی اسکول پر بمباری کئے 120 سے 169 معصوم و بے قصور ایرانی بچیوں کو شہید کئے جاتے واقعہ پر, دو مہینے ختم ہوتے پس منظر میں, ایرانی افواج کا یہود و نصاری کو دیا تارہ الٹی میٹم, انکی خطرناک بمباری میں شہید کئے گئے ایرانی بچیوں کے قتل عام پر,اپنی غلطی تسلیم کئےمعافی تلافی مانگی جائے ورنہ اس ایرانی بچیوں کے شہادتی واقعہ پر, دوماہ گزرنے کے بعد کسی بھی اسرائیلی و علاقے کے امریکی اسکولوں پر بمباری کرنے کا, ایران اپنا استحقاق برقرار رکھے گا۔

وقت کی حربی طاقت جاپان پر ایٹمی بمباری کئے, سابقہ 78 لمبے سالوں سے جاپان کو اپنا حربی غلام بنائے عالم انسانیت کو, اپنے جبر و ظلم و انبساط سے اپنے آشارؤں پر نچانے والے, یہود و نصاری مشترکہ عالمی قوتوں کو,ٹک ٹو ٹیک, انکے ہر حملہ کو انہی کے انداز میں جواب دئیے, انہیں پریشان و ہراساں کرنے والے عالم انسانیت کی پہلی قوت ایران نے, عالم انسانیت کو ظلم و انبساط کے خلاف آواز اٹھانے کا جو ساہس و حوصلہ دیا ہے عالم انسانیت پرعوامی حکومت اور انصاف و برابری کے ڈھکوسلے نعرے کے ساتھ ظلم و بربریت روا رکھنے والے امریکی انبساط کو کھلا چیلنج دئیے, عالم انسانیت کو یہود و نصاری ظلم و انبساط کے خلاف انصاف کے لئے آواز اٹھانے کا ساہس و حوصلہ بھی عطا کیا ہے۔

خلافت راشدہ سے خلافت عثمانیہ تک, لمبے تیرہ ساڑھے تیرہ سو سال تک, انصاف پرور اسلامی خلافت بعد, عوام پر عوامی حکومت برابری والے جمہوریت نواز تفکر ڈھکوسلے ساز جمہوریت خاتمہ بعد,ایک مرتبہ پھر ہم انسانوں پر واقعتا” انصاف پرور اسلامی خلافت نشاط ثانیہ کی آمد کی نوید نؤ دور آتے محسوس ہورہا پے۔ اس حرب یہود و نصاری جیت بعد وحدت امہ شیعی سنی اتحاد کے ساتھ مسلم امہ خلافت کی راہ پر گامزن کیا پائی جاسکتی ہے؟

ویسے بھی اپنے سو سالہ عقد غلامی لوزین اختتام بعد خلافت عثمانیہ کے والی سربراہان ترکیہ,خلافت عثمانیہ نشاط ثانیہ کی طرف محو سفر گامزن رہتے اثار دکھائی دے رہے تھے۔ اپنے وقت کی کسی بھی ظالم حکومتوں کے آگے نہ جھکنے والی ایرانی اسلامی حکومت, خلافت راشدہ ابتدائی تین خلفاء اپنے بعض تفکری و عملی لغزشوں حماقتوں کے باوجود, اپنے میں ایک خدا ایک رسول والے ایمانی اسلامی جہادی جذبات موجزن پانے والے ایرانی اسلامی مملکت پر سابقہ چالیس پینتالیس سالوں سے عالم یہود و نصاری کی طرف سے لایعنی معشیتی تجارتی پابندیوں میں جکرے رکھے جانے کے باوجود, اپنی عوام کو اعلی تعلیم دلوائے اور انہیں شفایابی والی انتہائی انسانی ضرورت سے بہر ور کئے, اپنی خود داری بچائے جیتے آئے

پس منظر میں بھی,عالمی یہود و نصاری حربی قوتوں کی طرف سے مظلوم فلسطینیوں کو عالم کی سب سے بڑی کھلی جیل مقاطع میں جینے مجبور کرتے تناظر میں بھی, سازشتا” انہیں انکے ہی ملک فلسطین سے در بدر کئے, کسی افریقی ویران ملک میں بسانے کے علی اعلان نعروں کے بیچ بھی, ان پر کسی نہ کسی بہانے اسرائیلی افواج کی طرف سے ظلم و انبساط کے پہاڑ توڑتے پس منظر میں, خالق کائینات کی طرف سے, معدنیاتی دولت پیٹرول سے مالامال سنی عرب ملکوں کی طرف سے,معصوم و مظلوم فلسطینیوں کی ممکنہ مدد و نصرت کے بجائے, ان پر ظلم و انبساط کے پہاڑ توڑتے یہود و نصاری ہی کی درپردہ مدد و نصرت کرنے والے سنی عرب ممالک کی منافقت تناظر میں, انہی یہود و نصاری عالمی حربی قوتوں کی طرف سے سابقہ چالیس پینتالیس لمبے سالوں سے عالمی تجارتی معشیتی مقاطعہ جھیل رہے

ایرانی شیعی مملکت ایران نے, اسلامی اوصول و حکومت و خلافت, ہر حال میں مظلوم کی داد رسی اور ظالم قوتوں کے آگے سینہ سپرد ہوتے جہادی جذبات سے لبریز, آج عالم انسانیت میں کوئی قوم منجملہ نظر آتی ہے تو وہ ہے ایرانی شیعہ قوم۔ چاہے وہ مملکت ایران میں ہو یا یمن شام و لبنان و عراق میں اپنے تفکراتی ساتھی حزب اللہ,حوتی انصاراللہ اور سنی حماس فلسطین کے وقت سلف و صالحین والے حقیقی ایمانی اسلامی جہادی جذبات سے لبریز دشمن یہود ونصاری سے لڑتے ہوئے اپنی جان آفرین قربان کرتے پائے جاتے ہیں۔ 1979 کے بعد عام انسانیت کے سامنے ایک مسلم ملک پر پوری آب و تاب کے ساتھ حکومت کرتی ایرانی شیعہ حکومت کو, صرف اس لئے یہود و نصاری کی طرف سے نشان عبرت بنائے, عالمی اقتصادی پابندیوں کا شکار بنائے, اسے یک و تنہا چھوڑا گیا تھا؟

کیونکہ اس نے اکثریتی شیعہ ایرانی ملک پر صاحب امریکہ اور اسکے سی آئی آے کے بٹھائے شاہ ایران مہرہ امریکہ کی شہنشاہیت کو اکھاڑ پھینکے ایرانی پیٹرول دولت کو لوٹتے صاحب امریکہ کو ایرانی پیٹرول سے محروم کیا تھا ؟ ایران کی شہنشاہیت ختم ہوئے وہاں عوامی حکومت آنے کا مطلب وہی عوامی حکومت کا خواب عرب ممالک میں بھی دیکھے جاتے, عرب ممالک میں شہنشاہی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت ہوتے, عرب شہنشاہیت ختم ہوتے صاحب امریکہ کو عرب ریگستانی پیٹرول سے محروم ہونا پڑتا,

اس لئے انتہائی مکاری سے, قرون اولی کےشیعی سنی اختلافات کو پورے بارہ سو سالوں بعد,پھر ایک مرتبہ پوری شدت سے ہم مسلمانوں میں عملا” عود کر لائے, ان عرب شاہوں کو قائل کئے, انکے سنی علماء کرام کو شیعیت رافضیت پر فتوے دئیے دلائے,شیعیت کو سنی مسلم امہ درمیان مقہور و معتوب کئے , جھوٹ افترا پروازی پر مبنی عالمی میڈیا کے 24/7 صدا مشتہر کئے یہود و ہنود و نصاری کے سازشی مسلمانوں کو, آپسی تفرقہ بازی نفرت میں بانٹے ان پر آسانی سے حکومت کرتے اپنے ایجنڈے پر کامیابی سے عمل پیرا نظر آتے ہیں یہود و ہنود و نصاری اسلام دشمن سازش کنان۔
۱. تشیع (شیعیت) کا مفہوم
لغوی معنی: شیعہ کا مطلب ہے پیروی کرنے والا یا دوست۔
اصطلاحی معنی: تاریخی طور پر، جو لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو باقی صحابہ کرام پر فضیلت دیتے تھے، یا انہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتے تھے، انہیں “شیعہ” کہا جاتا تھا۔
اعتدال: تشیع کا ابتدائی تصور صرف محبتِ اہل بیت اور حضرت علیؓ کی خلافت کی ترجیح تک محدود تھا، جسے بعض محدثین اور علمائے اہل سنت نے بھی قبول کیا۔
۲. رافضیت (روافض) کا مفہوم:-
لغوی معنی: رافضی کا مطلب ہے “چھوڑ دینے والا” یا “ترک کرنے والا”۔
اصطلاحی معنی: یہ ایک مخصوص فرقہ ہے جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتا اور انہیں ترک کرتا ہے۔
تاریخی پس منظر: یہ نام سب سے پہلے ان لوگوں کو ملا جنہوں نے کوفہ میں زید بن علی بن الحسین بن علی کو اس وقت چھوڑ دیا تھا جب انہوں نے شیخین (ابوبکر و عمرؓ) کی مذمت نہیں کی تھی۔
عقائد: رافضیت میں حضرت علیؓ کی الوہیت کا قائل ہونا (غالی شیعہ)، حضرت جبرائیل علیہ السلام پر وحی لانے میں غلطی کا الزام، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت جیسے عقائد شامل ہو سکتے ہیں۔
۳. بنیادی فرق (خلاصہ)
عام اور خاص: لفظ “شیعہ” عام ہے (جس میں زیدیہ جیسے معتدل گروہ بھی آ سکتے ہیں) جبکہ “رافضی” خاص ہے، جو انتہا پسند شیعہ گروہوں (جیسے اثنا عشری) کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
رویہ: جو لوگ صرف محبِ اہل بیت ہیں وہ شیعہ (یا تفضیلی) کہلا سکتے ہیں، لیکن جو شیخین (حضرت ابوبکر و عمرؓ) کے خلاف زبانِ طعن استعمال کرتے ہیں، انہیں “رافضی” کہا جاتا ہے۔
فقہی عقائد: اکابر علماء کے فتاویٰ کے مطابق، رافضیت ان شیعہ فرقوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو ضروریاتِ دین (صحابہ کرام کی توہین، قرآن میں تبدیلی کا الزام وغیرہ) کے منکر ہیں۔
بہر حال، موجودہ دور میں رافضی یا روافض کا لفظ اہل تشیع کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے، جو خلافتِ ثلاثہ کو نہیں مانتے ہیں
ابھی ہچاس ایک سال قبل پاکستان کے فوجی سربراہ مرحوم ضیا الحق علیہ الرحمہ, جنہوں نے پاکستان پر مارشل لاء فوجی حکومت نفاذ کئے بتدریج اسے عوامی صدارتی حکومت میں تبدیل کئے, اپنے پاکستان میں بااثر مسلم فرقہ احمدیہ کے خلاف جمیع علماء حق من العالم کی آراء و مشوروں کے ساتھ اجتماعی علماء حق فیصلے کے تحت قادیانی احمدیہ فرقہ مسلم کو خارج الاسلام قرار دیئے جانے کا فتویٰ عالمی طور جودیا یا دلوایا تھا کیا

علماء حق من کل عالم نے, ان تیرہ چودہ سو سالوں میں باوجود سلف و صالحین والے اس ابتدائی دور میں لڑی جانے والی جنگ جمل و صفین میں دونوں طرف سے صحابہ کرام تابعین کثرت تعداد شہادت باوجود,کیا علماء حق نے کبھی ان شیعہ مسلمانوں کو, باوجود ان ایام کوفہ میں ایک طبقہ مسلم امہ کے, زید بن علی بن الحسین کو شیخین (ابوبکر و عمرؓ) کی مذمت نہیں کئے جانے پر ابن علی بن حسین کو چھوڑ چلے گئے فرقہ کو جو پہلی دفعہ رافضی فرقہ قرار دیا تھا, اس وقت بھی علماء و اکابرین سلف و صالحین نے اس رافضی فرقہ کو کیا

کافر قرار دیا تھا؟ نہیں تو اب ان نام نہاد مسلمان علماء کرام کو, اب اس چالیس سالہ یہود و نصاری میڈیا ذہن سازی بعد,اللہ و اسکے رسول محمد ﷺ پر ایمان کامل رکھنے والے اور اسلامی ایمانی جہاد فی سبیل اللہ پر یقین کامل رکھتے ہوئے اپنی جان آفرین اپنے دین و ایمان پر نچھاور کرنے والے اور سب سے اوپر اس قرب قیامت محبت اخوت کے نام و بہانے سے مسلم امہ میں مضبوط ہوتے حربی قوت پاتے گروہوں یا فوجوں کو نیست و نابود کرنے والے, لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے قاتل یہود و نصاری ظالم و جابر اسلام دشمن حربی قوتوں کے خلاف سینہ سپرد ہونے والے شیعہ فرقہ کو, اسلام دشمن قرار دینے والے، کیا واقعتا” محب اسلام ہیں؟ یا وہ بھی اسلام دشمن یہود و نصاری کے ساتھی اسلام دشمن,قاتل مسلم امہ, تفرقہ ڈالنے والے نام نہاد مسلمان ہیں؟ کیا ان شیعہ ایرانیوں کے خلاف انکی دشمنی اسلام کے لئے ہے یا سنی عرب شاہان سے اپنی ہمدری جتانے میں آگے بڑھ جاتے دکھانے والے ہم نام نہاد مسلمان ہیں؟

ابھی دہے دو دیے سے پہلے یہود و نصاری اسلام دشمنوں کی سازشوں کے شکار عراقی صدر صدام حسین کے خلاف کروسیڈ وار کے یہود و نصاری حربی پلڑے میں ایران و سنی عرب حکمران سب ساتھ ساتھ تھے شیعی ایران کا اپنے نو سالا جنگ لڑے صدام حسین کے خلاف بغض و عناد کو تو سمجھنا آسان تھا لیکن ان ایام سعودی ایران دوستی کیا صرف انکے دنیوی خدا صاحب امریکہ کے کہنے پر ہوئی تھی؟ جو سعودی حکومت شیعہ ایران سے دوستی کے خواہاں تھے
ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی 1998ء میں سعودی عرب کے دورے کے دوران مسجد نبوی میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہما) کی قبرِ اطہر کے سامنے توہین آمیز رویہ (لعاب دہن/تھوکنے) کے مبینہ واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار مسجد نبوی کے امام شیخ علی الحذیفی نے خطبے میں رفسنجانی کا نام لئے بغیر (یا بعض اطلاعات کے مطابق اشارتاً) ان کے طرز عمل کی شدید مذمت کی تھی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی پر رافضیوں (رافضہ) کے عقائد کو بے نقاب کیا تھا۔

اس خطبے کو حرم کے حالیہ تاریخ کے انتہائی جذباتی اور تاریخی خطبات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس میں ایرانی وفد کی موجودگی میں یہ سخت ردعمل امام حرم کی طرف سے دیا گیا تھا۔ ان ایام انہی عرب شاہان سعودیہ نے ایرانی قیادت کے خلاف کچھ کہنے کے ہمت دکھانے کے بجائے,ایرانی وفد ہمنوائی کے لئے امام حرم ہی کو کیوں انکے اپنے گھر ہی میں نظر بند کیا تھا؟ کیا ان عرب شاہان کی ایران دوستی اور دشمنی بھی یہود و نصاری حکم کی منتظر رہتی ہے؟ ایسی دوستی دشمنی پر شیعہ ایرانیوں کو خارج الاسلام کہا جانا کیا

صحیح عمل ہے؟اور اگر بالفرض کسی بھی مجبوری کے باعث یہ عرب شاہان ایران سے دوستی کر بھی لیتے ہیں جس کے اشارے حالیہ ایران کے ہاتھوں امریکی پسپائی کے پیش نظر دکھائی دیتے ہیں تب کیا یہ ایرانی شیعہ چھ کروڑ مسلمان رافضی خارج الاسلام باقی نہیں رہیں گے؟ یا شیعہ سنی بھائی بھائی کہلائے جائیں گے؟ یہ ایک اہم نکتہ ہے جو ہم مسلمانوں کے ارباب حل وعقل کو حل کرنا ہے وہ بھی براہ راست ان عرب سنی شاہوں کے من و سلوی استفادہ سے ماورا رہنے والے اہل تدبر و تفکر ارباب حل و عقل کو حل کرنے سامنے آنا چاہئیے۔
مختلف مکتب فکر کے مدارس جیسے دارالعلوم دیوبند دار العلوم ندوةالعلماء, دارالعلوم بریلوی مکتبہ فکر یا دارالعلوم سلفیہ بنارس عمر آباد یا مدینہ منورہ یہاں ہر جگہ دیں اسلام کو اپنے اپنے مکتبہ فکر اعتبار سے سکھایا جاتا پے اسی دین کو مختلف افکار کے طور طلبہ کے ذہن نشین کرایا جاتا اور یہی انکو علم سکھایا گیا معیار ان میں کسی بھی فرقے کے خلاف دوستی دشمنی کی حدوں کو متعین کرتا پایا جاتا ہے۔ ایسے وقت وقت سے تبدیل ہوتے پس منظر میں, سابقہ بارہ تیرہ سو سال سے باوجود تفکراتی اختلافات مسلم مومن فرقے کو کیا خارج الاسلام یا راہ حق سے بھٹکا ہوا جہنمی فرقہ کہنا اور مسلم امہ کی وحدت امت, نظریہ کو پاش پاش کرنا بھی کیا مناسب ہے؟

یہ حرب ایران اسرائیل بظاہر تو علاقے کے دو فرقہ جاتی ملکوں کے درمیان لڑی جاتی جنگ نظر آتی ہے لیکن ہمارے لکھے متعدد افکار و مضامین میں,ہم نے وضاحت سے اس تفکر کو اپنے قارئین تک پہنچانے کی سعی کی تھی کہ خالق کائینات کے عرب ملکوں کے واسطے سے امت مسلمہ کو عنایت کردہ پیٹرول من و سلوی کی ہم مسلمانون سے زیادہ تمدنی ترقی یافتہ ممالک چین و امریکہ و یورپ سمیت ہر صنعتی ترقی پزیر ملک کو ضرورت زیادہ رہتی ہے۔ سابقہ پچھتر سالوں سے صاحب امریکہ نے اس وقت کے اپنے حربی دشمن جاپان پر انسانیت دشمن ایٹم بم برسائے, چند وفقاتی لمحوں میں دیڑھ سے ڈھائی لاکھ جاپانی عوام کو موت کے گھاٹ اتارے,اپنے وقت کے دشمن امریکہ ,سب سے بڑی طاقت جاپان کو, اپنے زیر نگیں رہنے مجبور کئے

; سابقہ اٹہتر سالوں سے انکا استحصال کرتے آئے صاحب امریکہ نے, عرب کھاڑی میں قدرت کے عطا کردہ پیٹرول نعمت خداوندی حصول ہی کے لئے, اس وقت کی حربی بڑی طاقت برطانیہ کے ساتھ ساٹھ گانٹھ کئے, عرب ملکوں کے درمیان ارض فلسطین پر ایک طاقتور ترین غنڈے کی شکل اسرائیل کو بسائے, کبھی اسرائیل تو کبھی ایران کا ڈر اور خوف بتائے درشائے ان عربوں کو مسلسل لوٹے عالم انسانیت پر غاصبانہ راج کرتے آئے, صاحب امریکہ کے خلاف فی زمانہ معشیتی و حربی اعتبار طاقتور ور ترین ہوتے

روس و چائینا نے صاحب امریکہ کو زیر کئے پیٹرول خدائی دولت استفادہ عام ہی کے پیش نظر امریکی طریقہ ہی پر عمل پیرا عرب کھاڑی کے مطعون امریکہ ملک ایران پر کمندیں ڈال, اسے معشیتی حربی ہر اعتبار مدد و نصرت کئے, امریکہ کے خلاف لڑنے اسے تیار کیا تھا۔ دراصل امریکہ اسکے خلاف معشیتی و حربی اعتبار مضبوط تر ہوتے چائینا کو اسکے اپنے حصہ زمین تائیوں کو,حربی و معشیتی مدد کئے تائیوان کو آگے گئے چائینا سے لڑے اسے اسکے گھر ہی میں گھیر مار کمزور کرنا چاہتا تھا۔ اسی لئے دور اندیش چائینا نے سابقہ چالیس پینتالیس سالوں سے امریکی عالمی پابندیوں میں جکڑے ایران کی مدد کئے اپنے علاقے میں مستقبل قریب لڑی جانے والی امریکہ چائینا جنگ کو بڑی ہی چالاکی کے ساتھ عرب کھاڑی میں منتقل کرتے ہوئے, معشیتی و حربی ہر اعتبار سے ایران کی مدد کئے,

اپنے اصلی دشمن امریکہ کو ایران کے ہاتھوں شکشت دلوائے امریکی بیسز کے عرب کھاڑی سے نکلوانے کی اپنی سازش پر کامیاب ہوتے،, اپنے ازلی دشمن کو خطے سے دور امریکہ تک محدود کروانے ایک حد تک چین نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ویسے چھوٹے سے ایران سے شکشت کھائے صاحب امریکہ خاموش بیٹھنے والا تو نہیں ہے لیکن روس و چائینا ایران کے مقابلے امریکہ کی پسپائی کو یقینی بنانے ہمہ وقت ایران کے پیچھے رہتے پس منظر میں, امریکہ کی پسپائی ایران کو عرب کھاڑی کا سلطان ضرور بنائے گی۔ اس صورت عرب شاہان کو بمجبوری ایران سے سمجھوتہ کرنا ہی پڑیگا کاش کہ کچھ سال قبل پاکستان و چین کے کامیاب سفارت کاری کے چلتے ایران و سعودیہ قریب آتے

پس منظر میں, سنی عرب شاہان نے یہود و نصاری اپنی دوستی چھوڑ ایران کے کہنے ہی پر ان ایام سعودیہ ہی کی امارت میں ناٹو طرز مسلم افواج بنائی ہوتی تو عرب کھاڑی میں اکلوتے ایران سلطان ہونے کے بجائے مشترکہ اسلامی افواج پورے خطے کی سلطان افواج ہوتے ہوئے, یہود و نصاری غلبے سے آزاد ہونے والے عرب شاہان کو ایرانی تسلط سلطانی کے مرہون منت رہنا نہ پڑتا ۔اب اگر چائینا و روس اس حرب ایران امریکہ درمیان آتے ڈر سے امریکہ اس اسرائل ایران جنگ سے اپنے آپ کو الگ کرتا ہے تو تب ایران کو علاقے کا حربی اعتبار سلطان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے تب پھر کیا ہوگا؟ اگر ایران و سعودیہ قطر و اومان حربی کٹھ جوڑ بنانے کامیاب ہوتے ہیں تب پھر کیا آج ایران کو اسلام دشمن کہنے والے خود ساختہ علماء اسلام, شیعہ سنی دوستی, اخوت اسلامی کا دم بھرتے پائے جائیں گے؟
رہی بات اسلام کے نام معرض وجود میں آئے اولین مسلم مملکت پاکستان کو سابقہ چالیس سالوں سے مشترکہ لوٹنے والے زرداران و شرفاء و محافظان ,موجود یہود نصاری سے کھلم کھڑا ٹکر لئے امت مسلمہ میں مقبول ہوئے ایران ہی کے طرز پر قاید ملت اسلامیہ سچے پکے اسلامی لیڈر عمران خان کو, اپنے تفکراتی خدائے ارضی کی جی حضوری میں, ناکردہ گناہوں کے لئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے والے شرفاء زرداران و محافظان پاکستان کیوں کر امت مسلمہ یا ایران کے مخلص ہوسکتے ہیں۔شاید اسی لئے ایران کو یہ ڈر ستا رہا تھا کہ یہ پاکستانی حکمران انہیں انکے آقاء صاحب امریکہ کے آگے

عقد بند سرنگوں نہ کر چھوڑیں, اسی لئے تو ایران براہ راست روس و چائینا مشاورت سے پھونک پھونک قدم اٹھارہے تھے۔ اب کی یہ حرب اسرائیل و ایران, صاحب امریکہ کے لئے اپنی قیادت عالم انسانیت, مائل زوال کا سبب بن چکی ہے۔ہر چڑھتے سورج کو مائل زوال ہونا ہی ہوتا ہے ہر کسی کی زندگی کا دورانیہ مختص سالوں پر محیط ہوتا ہے۔ صاحب امریکہ کے لئے قیادت عالم انسانیت پچاس سالہ بھی نہ رہی, اسی کے دہے میں امیر جماعت اسلامی کی گئی پیشین گوئی نوے کے دہے میں یوایس ایس آر کے ٹوٹ کر بکھرنے اور پچاس سال کے اندر معشیتی طور کنگال ہوئے صاحب امریکہ کے زوال پزیر ہوتی پیشین گوئی آج یا آج کے بعد کچھ سالوں ہی میں پورا ہوتے عالم انسانیت دیکھے گی۔ والی سعودیہ کی اہمیت ایران و چین و روس کو ہے کیونکہ امریکہ سے 1974 میں ہوئے اسکے پیٹرو ڈالر عقد منسوخی کا سعودی حکمران اعلانیہ, امریکی اقتدار عالم پر کاری وار ثابت ہوتے ہوئے,اسکے زوال کا سبب بنے گا اسی لئے سعودی ولی عہد محمد سلمان کچھ اپنی شرطوں کے ساتھ ایران کے ساتھ عقد بن ہوئے شیعہ سنی اتحاد کے ساتھ خلافت عثمانیہ نشاط ثانیہ کیطرف امت مسلمہ کو گامزن کر سکتے ہیں وما التوفیق الا باللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں