ماں گود سے جنت تک ایک نسل کی تعمیر کا راز 35

امن سب سے بڑی طاقت

امن سب سے بڑی طاقت

کالم نگار
شائستہ مچک
امن سب سے بڑی طاقت:امریکہ ایران تنازع، پاکستان کی حکمتِ عملی اور نوجوانوں کے لیے ایک غیر معمولی سبق یہ جنگ آپ سے کتنی دور ہے؟اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی تنازعات صرف خبروں تک محدود ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا، سپلائی چین متاثر ہوئی، اور اس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑا جہاں درآمدی ایندھن معیشت کی بنیاد ہے۔

پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی کے نرخوں میں اضافہ، اور مہنگائی کی لہریہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی سیاست اب ہر فرد کی ذاتی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایک نوجوان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کے حالات سے لاتعلق رہنا اب ممکن نہیں۔پاکستان کا کردارطاقت نہیں، حکمت کی جیت جہاں ایک طرف عالمی طاقتیں اپنی عسکری قوت (Hard Power) کا مظاہرہ کر رہی تھیں، وہیں پاکستان نے ایک مختلف راستہ اختیار کیاسفارتکاری (Diplomacy) اور مذاکرات (Negotiation) کا۔پاکستان نے نہ صرف غیر جانبداری برقرار رکھی بلکہ ایک ایسے پل کا کردار ادا کیا جس نے دونوں مخالف قوتوں کو بات چیت کی میز پر لانے کی کوشش کی۔ یہ اقدام محض سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک گہری اسٹریٹجک سوچ کا مظہر تھا

۔بین الاقوامی تعلقات میں ایک اصول بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔اصل کامیابی جنگ جیتنے میں نہیں، بلکہ جنگ کو ہونے سے روکنے میں ہے۔پاکستان نے اسی اصول کو عملی شکل دیااور یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔ نفسیاتی تجزیہ قومیں کیسے فیصلے کرتی ہیں؟یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قوموں کے فیصلے بھی دراصل انسانی نفسیات کا ہی عکس ہوتے ہیں۔جذباتی ردعمل فوری غصہ، جلد بازی، اور طاقت کا مظاہرہ ادراکی کنٹرول (Cognitive Control) سوچ سمجھ کر فیصلہ، طویل مدتی حکمت عملی جو قومیں جذباتی بنیادوں پر فیصلے کرتی ہیں، وہ وقتی طور پر طاقتور نظر آ سکتی ہیں، لیکن طویل مدت میں نقصان اٹھاتی ہیں۔اس کے برعکس، جو قومیں خود پر قابو رکھتی ہیں، وہ پائیدار کامیابی حاصل کرتی ہیں۔پاکستان نے اس تنازع میں جذباتی ردعمل کے بجائے ادراکی توازن کو ترجیح دی اور یہی ایک ذمہ دار ریاست کی نشانی ہے۔اسلام طاقت کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔ یہ صرف جسمانی یا عسکری قوت تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور نفسیاتی کنٹرول کو اصل طاقت قرار دیتا ہے۔ایک معروف تعلیم یہ ہےطاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو زیر کر لے، بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے

۔یہ اصول نہ صرف فرد کی زندگی میں بلکہ ریاستی پالیسی میں بھی لاگو ہوتا ہے۔پاکستان کا رویہ اسی اسلامی فلسفے کے قریب دکھائی دیتا ہےجہاں مقصد جنگ نہیں بلکہ امن کا قیام ہے۔پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں اسے بیک وقت کئی اہم طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے ہوتے ہیں ایران جغرافیائی اور سرحدی اہمیت،سعودی عرب معاشی اور مذہبی تعلق،امریکہ عالمی اثر و رسوخ۔یہ صورتحال ایک نہایت پیچیدہ توازن کا تقاضا کرتی ہے۔اگر پاکستان کسی ایک طرف جھک جاتا، تو دوسری جانب شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا۔بین الاقوامی سیاست میں اسے Balance of Power Strategy کہا جاتا ہے

اور یہی وہ حکمت عملی ہے جس نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث (Mediator) کے طور پر پیش کیا۔جنگ اور امن کے اثرات کو اگر معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔معاشیات کا ایک بنیادی اصول ہےاستحکام ترقی کو جنم دیتا ہے۔پاکستان نے استحکام کو ترجیح دے کر نہ صرف اپنی معیشت کو ممکنہ نقصان سے بچانے کی کوشش کی بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو بھی بہتر بنایا۔یہ پوری صورتحال نوجوانوں کے لیے محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک مکمل سیکھنے کا موقع ہے۔جذباتی نہیں، ذہین بنیں ،فیصلے جذبات سے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر کریں۔ مسئلہ نہیں، حل بنیں جو لوگ مسائل حل کرتے ہیں، وہی معاشرے میں اہمیت حاصل کرتے ہیں۔توازن پیدا کریں زندگی کے ہر پہلو میں اعتدال (Balance) کامیابی کی کنجی ہے

۔ عالمی شعور پیدا کریں دنیا کے حالات کو سمجھنا آپ کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔امن کو ترجیح دیں۔چاہے ذاتی زندگی ہو یا پیشہ ورانہ امن ہمیشہ ترقی کا راستہ ہموار کرتا ہے۔اصل طاقت کیا ہے؟دنیا میں طاقت کی دو شکلیں ہیں:1. وہ جو شور پیدا کرتی ہے2. وہ جو شور کو ختم کرتی ہے۔پاکستان نے اس تنازع میں دوسری طاقت کا مظاہرہ کیااور یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔کامیاب وہ نہیں جو ہر جنگ جیت جائے، بلکہ وہ ہے جو جنگ کو ہونے سے روک دے۔اگر آج کا نوجوان اس ایک سبق کو سمجھ لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی میں بلکہ معاشرے میں بھی ایک مثبت اور طاقتور کردار ادا کر سکتا ہے۔کیونکہ آخرکار:امن کمزوری نہیں… بلکہ سب سے بڑی حکمت اور طاقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں