37

سولر ریلیف کے راستے میں نئی رکاوٹیں!

سولر ریلیف کے راستے میں نئی رکاوٹیں!

پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور ناقابلِ برداشت بلوں نے عام آدمی سے لے کر صنعتکار تک سب کوہی متبادل توانائی کی طرف راغب کیاہے ،گزشتہ چند سالوں میں چھتوں پر لگتے سو لر پینلز ،اس بات کی علامت تھے کہ عوام اب مہنگی بجلی کے جال سے نکلنے کے لیے خود انحصاری کی راہ اختیار کر رہے ہیں،لیکن حالیہ دنوں میں وزارتِ پاور ڈویژن کی جانب سے سولر سسٹم کی ترامیم اور نیپرا لائسنس کی شرط نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ،اس عوام مخالف فیصلے سے ایسا محسوس ہوتا ہے

کہ ریاست عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے عوام کی اپنی مدد آپ کے تحت پیدا کی گئی سہولت پر بھی ”ٹیکس” اور ”لائسنس” کا پہرہ بٹھانا چاہتی ہے۔حکو مت ایک کے بعد ایک ترامیم لارہی ہے ، عوام کے مفاد میں ضرورترامیم آنی چاہیء ،مگر حکو مت عوام مخالف ترامیم لانے کا ریکارڈ توڑ رہی ہے، حکومت سولر پر ایک نئی ترمیم لائی ہے ،اس کے تحت اب ہر اس صارف کے لیے نیپرا سے لائسنس لینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جوکہ اپنے سسٹم کے ذریعے بجلی پیدا کر کے نیشنل گرڈ میں شامل کرنا چاہتا ہے ،اس سے قبل 25 کلو واٹ تک کے چھوٹے سسٹمز کے لیے تقسیم کار کمپنیاں (DISCOs) خود ہی لائسنس جاری کرنے کی مجاز تھیں اور یہ عمل نسبتاً آسان اور مفت تھا، مگر اب صارفین کو نہ صرف نیپرا کے چکر کاٹنے ہوں گے، بلکہ اس کو اپنے لوڈ کے مطابق بھاری فیسیں بھی ادا کرنا پڑے گی۔
اس میںسب سے زیادہ تشویشناک پہلو وہ اضافی ادائیگی ہے، جو کہ ایک ہزار روپے فی کلو واٹ کے حساب سے مقرر کی گئی ہے ،یعنی اگر ایک متوسط گھرانہ 10 کلو واٹ کا سسٹم لگاتا ہے تو اسے صرف لائسنس کی مد میں 10 ہزار روپے کا پے آرڈر نیپرا کے نام جمع کرانا ہوگا، وہ لوگ جو پہلے ہی لاکھوں روپے خرچ کر کے سولر سسٹم لگوا چکے ہیں یا لگوانے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ ”پروڈکشن فیس” ایک اضافی مالی بوجھ ثابت ہو گا، کیا حکومت کا کام عوام کو سستی توانائی کی طرف راغب کرنا ہے یا ان کی راہ میں بیوروکریٹک رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے؟حکو مت ایک طرف عوام کو رلیف دینے کے دعوئے کر تے نہیں تھکتی ہے تو دوسری جانب عوام کو نچوڑا جارہا ہے ، ایک کے بعد ایک نیا ٹیکس لگایا جارہا ہے۔
اس پرحکومتی ذرائع کا موقف ہے کہ یہ ترامیم نیٹ بلنگ پروجیکٹ کو منظم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں، تاکہ بجلی کی تقسیم کا نظام متاثر نہ ہو، جبکہ بجلی کا نظام اتنامتاثر ہورہا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں آٹھ سے بارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، پاور پلانٹ لگے ہوئے ہیں ، لیکن کچھ چل نہیں رہے اور کچھ پوری بجلی پیدا نہیں کررہے ہیں ، اس کے باوجودڈالڑ میں پوری پیداواری قیمت وصول کررہے ہیں،انہیں کو ئی پو چھ رہا ہے نہ ہی کوئی ہاتھ ڈال رہا ہے ، عوام کو ہی ساری رعایت سے محروم کیا جارہا ہے

،اس تر میم میں بھی ایک معمولی رعایت ہائبرڈ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے صارفین کو دی گئی ہے ،جو کہ لائسنس سے مستثنیٰ ہوں گے، لیکن درحقیقت نیٹ میٹرنگ کا اصل فائدہ اٹھانے والے صارفین ہی براہِ راست ان ترامیم کی زد میں آئیں گے۔اگر دیکھا جائے تودنیا بھر میں حکومتیں گرین انرجی (سبز توانائی) کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی دیتی ہیں، ٹیکس معاف کرتی ہیں اور ضوابط کو آسان بناتی ہیں،

لیکن پاکستان میں صورتحال ہی الٹ نظر آتی ہے،اگر عوام نے مہنگے آئی پی پیز (IPPs) کے بوجھ سے بچنے کے لیے سولر کا رخ کیا ہے، تو اب ان پر لائسنسنگ اور فیسوں کے شکنجے کسے جا رہے ہیں، یہ اقدامات نہ صرف سولر انرجی کے پھیلاؤ کو سست کریں گے، بلکہ صارفین کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائیں گے،عوام پہلے سے ہی بے اعتمادی کا شکار ہے ، اس کو مز ید بے اعتمادی کی دلدل میں دھکیلا جارہا ہے ، عوام کو کچھ نہ کچھ دینے کے بجائے اس سے سب کچھ ہی چھینا جارہا ہے ۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پالیسی سازی میں عوام کے مفاد کو اولیت دے، اگر نیپرا لائسنس کو لازمی ہی بنانا ہے تو اس کا طریقہ کار اتنا سادہ اور سستا ہونا چاہیے کہ ایک عام شہری پر زیادہ بوجھ پڑے نہ ہی دفتروں کے دھکے کھانے پڑیں، اس ملک میں بجلی کے بحران کے حل کرنے کا راستہ پابندیاں لگانا نہیں، بلکہ عوام کو توانائی کے شعبے میں شراکت دار بنانا ہے ،اگر یہ ترامیم صرف آئی ایم ایف کو خوش کر نے اور اپنا ریونیو اکٹھاکرنے کا ذریعہ بنیں گی تو مستقبل میں سستی اور ماحول دوست توانائی کا خواب محض خواب ہی رہ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں