خاموش صحافت اور چیختی مہنگائی ، سوال اب بھی زندہ ہے
تحریر: شہزاداُفق
پاکستان کے موجودہ حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عام آدمی کے لیے جینا واقعی ایک امتحان بن گیا ہے۔ بازار جائیں تو ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہے۔ پٹرول، گیس، بجلی، آٹا، دالیں یہ سب اب ضرورت نہیں بلکہ”مسئلہ“ بن چکے ہیں۔ مگر اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ چونکا دینے والی چیز مہنگائی نہیں، بلکہ خاموشی ہے۔۔۔۔اور یہ خاموشی ہے صحافت کی۔
یہ وہی صحافت ہے جو کبھی ریاست کا چوتھا ستون کہلاتی تھی، جو حکمرانوں سے سوال کرتی تھی، جو عوام کی آواز بنتی تھی۔ حامد میر، منصور علی خان، اور دیگر معروف صحافی یہ سب ایسے نام ہیں جنہوں نے ایک وقت میں ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر آواز اٹھائی، پروگرام کیے، سوالات کیے، اور عوام کے دکھ درد کو اجاگر کیا۔
خاص طور پر عمران خان کے دور کو اگر یاد کیا جائے تو مہنگائی اُس وقت بھی ایک مسئلہ تھی، مگر اس کے ساتھ ایک اور چیز بھی نمایاں تھی میڈیا کی فعالیت اس وقت مہنگائی پر پروگرامز ہوتے تھے، ٹاک شوز میں گرما گرم بحث ہوتی تھی، رپورٹرز گلی محلوں میں جا کر عوام سے پوچھتے تھے کہ وہ کس حال میں ہیں۔ کیمرہ چلتا تھا، سوال اٹھتا تھا، اور آواز بلند ہوتی تھی۔
مگر آج؟
آج مہنگائی کہیں زیادہ شدید ہے، قیمتوں میں اضافہ کہیں زیادہ تیز ہے، عوام کی مشکلات کہیں زیادہ گہری ہیں۔لیکن کیمرہ خاموش ہے، مائیک بند ہے، اور سوال غائب ہیں۔
یہ تضاد صرف ایک اتفاق نہیں لگتا، بلکہ ایک سوچا سمجھا سکوت محسوس ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مہنگائی کیوں بڑھی ہے، سوال یہ ہے کہ صحافی کیوں نہیں بول رہے؟
کیا حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ سچ بولنا ممکن نہیں رہا؟
کیا دباؤ اتنا بڑھ چکا ہے کہ زبانیں بند ہو چکی ہیں؟
یا پھر صحافت واقعی کسی ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اصولوں سے زیادہ ”مصلحت“ اہم ہو گئی ہے؟
یہ وہی صحافی ہیں جو کبھی معمولی اضافے پر بھی گھنٹوں پروگرام کرتے تھے، عوام کی آواز بنتے تھے، حکومتوں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے تھے۔ آج جب مہنگائی عام آدمی کی ہڈیوں تک اتر چکی ہے، تو یہ خاموشی کیوں؟
اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ عمران خان کے دور میں مہنگائی کم تھی یا زیادہ، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس وقت مہنگائی پر بات ہو رہی تھی۔ آج مہنگائی زیادہ ہے، مگر بات نہیں ہو رہی۔ یہی فرق سب سے بڑا سوال بن کر سامنے آتا ہے۔
صحافت کا بنیادی فرض سچ بولنا ہے، طاقتور سے سوال کرنا ہے، اور کمزور کی آواز بننا ہے۔ اگر یہی کام رک جائے، تو صحافت صرف ایک پیشہ رہ جاتی ہے، مشن نہیں رہتی۔ اور جب صحافت مشن نہ رہے، تو معاشرہ اندھیرے میں چلا جاتا ہے۔
آج ایک مزدور، ایک رکشہ چلانے والا، ایک تنخواہ دار طبقہ سب ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں ہماری آواز کون بنے گا؟
جب حامد میر جیسے سینئر صحافی اور منصور علی خان، عاصمہ شیرازی، منصور علی خان،طلعت حسین،کاشف عباسی،ارشاد بھٹی،سلیم صافی،اسد طور، مہر بخاری،عاصمہ شیرازی،ابصار عالم،حسن نثار،جاوید چوہدری،عمر چیمہ،طلعت حسین جیسے معروف اینکرز بھی مہنگائی جیسے بنیادی مسئلے پر خاموش دکھائی دیں، تو عوام کے اندر مایوسی بڑھنا فطری ہے۔
یہ کالم کسی ایک فرد پر تنقید نہیں، بلکہ ایک اجتماعی سوال ہے۔ یہ سوال ہے اس نظام سے، اس پیشے سے، اور ان لوگوں سے جو کبھی سچ کے علمبردار کہلاتے تھے۔
آخر میں بات صرف اتنی ہے:
مہنگائی وقتی مسئلہ ہو سکتا ہے، مگر خاموش صحافت ایک مستقل خطرہ ہے۔ کیونکہ جب سوال کرنے والے خاموش ہو جائیں، تو جواب دینے والا کوئی نہیں رہتا۔
اب فیصلہ صحافت کو کرنا ہے۔
وہ پھر سے عوام کی آواز بنے گی، یا تاریخ کے صفحات میں ایک خاموش کردار بن کر رہ جائے گی؟