49

انسانی اعضا کی سمگلنگ اور ادارہ جاتی ناکامی !

انسانی اعضا کی سمگلنگ اور ادارہ جاتی ناکامی !

اس ملک میں اب لوگ انسانی اعضاء بھی بیچنے لگے ہیں ، اس سے قبل کچھ واقعات سامنے آئے تھے ،مگر اس بار دارالحکومت اسلام آباد کے رہائشی سیکٹرز (F-7 اور E-11) میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) نے مشترکہ چھاپوں کے دوران 500 کلو گرام سے زائد انسانی اعضا اور ٹشوز (بشمول انسانی نال/Placenta) برآمد کر کے غیر ملکیوں سمیت پانچ بڑے سمگلر گرفتار کیے ہیں،یہ دل دہلا دینے والا واقعہ محض ایک روایتی مجرمانہ کارروائی نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے سب سے محفوظ اور حساس ترین شہر کے حفاظتی اور انتظامی دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ،اسلام آباد، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکسی، سیکیورٹی کیمروں کا نیٹ ورک اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا پہرہ ملک کے کسی بھی دوسرے حصے سے زیادہ سخت ہوتا ہے،

اگر وہاں کے پوش علاقوں میں انسانی اعضا کی پروسیسنگ کی خفیہ فیکٹریاں بلا خوف و خطر چل رہی ہیںتو پسماندہ اور دور دراز علاقوں کی سیکیورٹی کی اصل تصویر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتاہے۔یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارے ریاستی ڈھانچے میں مجرموں کے نیٹ ورک کس قدر گہرے سرایت کر چکے ہیں،اس نوعیت کی گھناؤنی سرگرمیوں کا تواتر کے ساتھ جاری رہنا صرف چند جرائم پیشہ افراد کی انفرادی چالاکی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ براہِ راست ہماری نگرانی کے گرتے ہوئے معیار، ناقص احتساب اور قانون نافذ کرنے والے مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کے شدید فقدان کا منہ بولتا ثبوت ہے،

یہ انسانی اعضا اور حیاتیاتی مواد کی غیر قانونی بلیک مارکیٹ کوئی ایسا عام جرم نہیں ہے کہ جسے چند اوباش عناصر کسی زیرِ زمین تہہ خانے میں تنہا بیٹھ کر خاموشی سے انجام دے سکیں،یہ ایک انتہائی مہنگا، حساس اور بین الاقوامی سطح پر جڑا ہوا منظم نیٹ ورک ہوتا ہے، اس کے آپریشنز کے لیے پشاور، لاہور اور راولپنڈی کے نجی و سرکاری ہسپتالوں سے لے کر اسلام آباد کے پروسیسنگ مراکز تک باقاعدہ سپلائی چین کی ضرورت پڑتی ہے، اگر یہ پورا ڈھانچہ ریاست کی ناک کے نیچے فعال تھاتو یہ ماننا پڑے گا

کہ نظام کے اندر ایسے کالی بھیڑیں موجود ہیں ،جو کہ چند ٹکوں کی خاطر معصوم شہریوں کی زندگیوں اور قومی وقار کا سودا کرتی ہیں۔اس ملک میں انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ‘ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ’ اور ‘ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی’ (HOTA) جیسے سرگرم ادارے پہلے سے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا ہے ،ماضی قریب میں بھی وفاقی دارالحکومت میں ہی ایسے گروہ بے نقاب ہوئے کہ جن میں نامور ماہرینِ امراضِ گردہ ملوث پائے گئے، جو کہ غریب اور لاچار شہریوں کو چند لاکھ روپے کا لالچ دے کر ان کے گردے نکالتے اور ملکی و غیر ملکی گاہکوں کو کروڑوں روپے میں فروخت کر دیتے تھے ،

اس ملک میں قوانین اور سزاؤں کی موجودگی کے باوجود ان نیٹ ورکس کا دندناتے پھرنا واضح کرتا ہے کہ ہماری انسدادی کارروائیاں صرف وقتی میڈیا کوریج یا ہنگامی چھاپوں تک محدود ہو چکی ہیں، جبکہ ان کی جڑوں تک پہنچنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی جارہی ہے، نجی ہسپتالوں، میڈیکل لیبارٹریوں اور میٹرنٹی ہومز کے آپریشنل اور ویسٹ مینجمنٹ کے ریکارڈ کا جب تک باقاعدہ فورنزک آڈٹ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک ان جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔اگر اس گھناؤنے دھندے کو ہمیشہ کے لیے روکنا ہے

تو درج ذیل نکاتی حکمت عملی پر بلا تاخیر عمل درآمد ناگزیر ہے:اول ،ملک کے تمام سرکاری اور نجی طبی مراکز میں اعضا کی پیوند کاری، حیاتیاتی ضائع ہونے والے مواداور عطیات کا ایک مرکزی اور مربوط ڈیجیٹل ریکارڈ قائم کیا جائے، ہسپتال میں پیدا ہونے والے یا نکالے جانے والے ہر بائیولوجیکل مواد کی آن لائن انٹری لازمی ہونی چاہیے، تاکہ اس کی حتمی منزل معلوم کی جا سکے ،دوئم، حیاتیاتی مواد کی ایک شہر سے دوسرے شہر نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اسمارٹ بارکوڈ اور جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم متعارف کروایا جائے،

کسی بھی ہسپتال سے نکلنے والے ٹشوز یا اعضا کی ترسیل صرف منظور شدہ سیکیورٹی پروٹوکولز کے تحت ہونی چاہیے، تاکہ مجرموں کے لیے پشاور یا لاہور سے مواد لا کر اسلام آباد میں پروسیس کرنا ناممکن ہو جائے ،سوئم ً، تمام نجی ہسپتالوں، بلڈ بینکوں، اور فارماسیوٹیکل لیبارٹریوں کا سالانہ اور اچانک فورنزک اور آپریشنل آڈٹ کیا جائے،ہیلتھ کیئر کمیشنز اور HOTA کو اختیار اور وسائل دیے جائیں

کہ وہ مشکوک سرگرمیوں یا ریکارڈ میں ہیر پھیر پر فوری طور پر ہسپتال کا لائسنس منسوخ کر سکیں،چہارم ، اس گھناؤنے کاروبار اور اسمگلنگ کوقا نون میں تر میم کر کے دہشت گردی اور ملک دشمنی کے زمرے میں شامل کیا جائے اور اس دھندے میں ملوث مرکزی ملزمان کے ساتھ ان کے پشت پناہ سرکاری ملازمین، ڈاکٹروں اور لیب مالکان کو کڑی سزائیں اور ان کی جائیدادیں ضبط کرنے جیسے اقدامات کیے جائیں، کیونکہ جب تک سہولت کاروں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا، یہ کالی مارکیٹ پھلتی پھولتی رہے گی۔

اسلام آباد کا حالیہ المیہ ریاست کے لیے فائنل وارننگ یا خطرے کی آخری گھنٹی ہے، اس طرح انسانی جسم کے حصوں کی گلیوں اور محلوں میں فیکٹری لگا کر اسمگلنگ پاکستان کے سماجی اور اخلاقی زوال کی انتہا ہے، اگر اب بھی حکومت نے مصلحت پسندی کا مظاہرہ کیا اور مستقل ادارہ جاتی ہم آہنگی قائم نہ کی تو پاکستان بین الاقوامی سطح پر ”انسانی اعضا کی کالی مارکیٹ” کے ایک بڑے گڑھ کے طور پر بدنام ہو جائے گا،

اس کے اثرات ملکی معیشت، سیاحت اور بین الاقوامی تعلقات پر انتہائی تباہ کن ہوں گے، اب وقت آ گیا ہے کہ وقتی چھاپوں کے سستے کریڈٹ سے باہر نکل کر قانون کی حاکمیت کا ایسا لوہا منوایا جائے کہ کوئی بھی شخص، چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، دوبارہ کسی انسان کے وجود کا سودا کرنے کی جرات نہ کر سکے،اگر ہم نے آج بھی اپنے وجود کے تحفظ کے لیے نظام کو نہ بدلا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور آنے والا مورخ ہمیں ایک ایسے بے حس معاشرے کے طور پر یاد رکھے گا جو کہ اپنی ہی بقا کی جنگ ہار گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں