پاک قطر ثالثی اور امریکہ ایران تعلقات کا نیا ر خ!
عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی افق پر طویل عرصے سے چھائے ہوئے جنگ، پابندیوں اور شدید سفارتی تعطل کے بادلوں کے درمیان، سوئٹزرلینڈ کے تاریخی اور پرسکون مقام برگن سٹاخ سے ایک ایسی نویدِ سحر آئی ہے کہ جس نے بین الاقوامی تعلقات کو ایک نیا رخ دے دیا ہے ،پاکستان اور قطر کی مشترکہ اور انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میںکئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے جانی دشمن سمجھے جانے والے دو بڑے ممالک امریکہ اور ایران، بالآخر بند کمرے کے طویل مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر متفق ہو گئے ہیں،اس تاریخی اعلامیے کا سب سے اہم، ٹھوس اور عملی نکتہ دونوں ممالک کے مابین مستقبل کے روابط، جوہری پروگرام اور علاقائی سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ کمیٹی کا قیام ہے، یہ پیش رفت محض ایک روایتی کاغذی معاہدہ نہیں ،
بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن و استحکام کی بنیاد رکھنے کا ایک حقیقی موقع ہے۔
اگراس پورے منظر نامے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس سفارتی کامیابی کے پیچھے چند انتہائی اہم عوامل، بدلے ہوئے عالمی حالات اور فریقین کے تزویراتی مفادات کارفرما نظر آتے ہیں، اس پورے عمل میں سب سے اہم اور نمایاں ترین پہلو پاکستان اور قطر کا بطور کامیاب ثالث ابھرنا ہے ،عالمی برادری بالخصوص مغربی طاقتیں ماضی میں پاکستان کو اکثر صرف روایتی سیکیورٹی اور علاقائی تنازعات کے چشمے سے دیکھتی رہی ہیں، لیکن برگن سٹاخ مذاکرات میں پاکستان کی فعال ترین ثالثی نے اسلام آباد کے سفارتی قد کاٹھ کو دنیا بھر میں ایک نئے روپ میں تسلیم کروایا ہے، پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی ذاتی دلچسپی اور قطری قیادت کے ساتھ بہترین تزویراتی تال میل نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلم امہ کی یہ دو اہم طاقتیں عالمی بحرانوں کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو قطر طویل عرصے سے امریکہ اور خطے کی دیگر قوتوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ، تاریخی روابط اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ سفارتی و سیکیورٹی تعلقات ہیں،ان دونوں ممالک نے اپنے مشترکہ اثر و رسوخ کا بہترین اور متوازن استعمال کرتے ہوئے دو ایسے کٹر حریفوں کو ایک میز پر بیٹھنے اور مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر آمادہ کیا جو طویل عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ براہِ راست بات چیت سے گریزاں تھے ،اگر واشنگٹن اور تہران کے داخلی حالات پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات کسی اچانک تبدیلی کا نتیجہ نہیں، بلکہ دونوں اطراف کی تزویراتی مجبوریوں اور مفادات کا شاخسانہ ہیں۔
امریکی انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی میں ایک ایسی بڑی تبدیلی کی خواہاں رہی ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سیکیورٹی اخراجات اور فوجی الجھنوں کو کم کر سکے، تاکہ واشنگٹن اپنی تمام تر توجہ اور وسائل دیگر بڑے عالمی چیلنجز، خصوصاً چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے پر مرکوز کر سکے ،دوسری طرف ایران کو طویل عرصے سے شدید اقتصادی پابندیوں، اندرونی معاشی دباؤ اور اپنے منجمد اثاثوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا،لیکن اب تہران کی قیادت اچھی طرح سمجھ چکی ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ سفارت کاری اور واشنگٹن کے ساتھ ایک طویل مدتی، پائیدار سیکیورٹی فریم ورک کی اشد ضرورت ہے ،انہی مشترکہ مفادات کے تحت قائم ہونے والی اعلیٰ سطح نگرانی کمیٹی پورے سفارتی عمل کی اصل روح اور کامیابی کی ضمانت ہے۔
ماضی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پائیدار ثابت نہیں ہو سکے، کیونکہ ان میں فریقین کے مابین گہرے شکوک و شبہات کو دور کرنے اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے کا کوئی مستقل، خودکار اور غیر جانبدارانہ نظام موجود نہیں تھا، اس خامی کو نگران کمیٹی دور کرے گی
اور تین بنیادی سطحوں پر کام کرے گی، اول دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک مستقل اور محفوظ چینل فراہم کرے گی، دوم، ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی تکنیکی حدود، اس کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واگزاری اور مشرقِ وسطیٰ میں مختلف محاذوں پر جنگ بندی جیسے پیچیدہ معاملات کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کرے گی، سوم، پاکستان اور قطر کمیٹی کے ذریعے ہی فریقین کے مابین کسی بھی امکانی تعطل یا اختلاف کی صورت میں ایک فعال ریفری اور گرہ کشا کا کام جاری رکھ سکیں گے، اس سے مفاہمت کاعمل پٹری سے نہیں اترے گا۔
اس تاریخی اعلامیے کے اثرات صرف سفارتی حلقوں تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اس کے عالمی معیشت اور علاقائی سیکیورٹی پر بھی انتہائی گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے ،یہ مذاکرات ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئے ہیں کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی مارکیٹ شدید عدم استحکام کا شکار تھی ،اس مشترکہ اعلامیے کے جاری ہوتے ہی عالمی منڈیوں کو ایک مثبت اور پرسکون پیغام گیا ہے ،اگر نگرانی کمیٹی بھی کامیابی سے اپنے ابتدائی اہداف حاصل کر لیتی ہے تو خلیج فارس اور بحیرہ احمر، جو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی لائن کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں، مکمل طور پر محفوظ ہو جائیں گے ،اس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی
اور علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا، اس کا براہِ راست فائدہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو پہنچے گا، جو کہ توانائی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں،تاہم، اس شاندار اور تاریخی آغاز کے باوجود مستقبل کا راستہ چیلنجز سے خالی نہیں ہے۔
پاکستان اور قطر نے دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ ہی نہیں کرنا جانتے، بلکہ عالمی امن کی بحالی میں ایک مخلص اور بااثر رہبر کا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں،اس کے باوجودخطے اور بین الاقوامی سطح پر اب بھی کچھ ایسی شدت پسند قوتیں موجود ہیں ،جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی قربت یا امن کو اپنے وجود اور سیکیورٹی مفادات کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر سکتی ہیں، اس معاہدے کو کا میاب بنا کیلئے دونوں فریقین کو عملی طور پر اپنے وعدوں پر عمل کرنا پڑے گا،
امریکہ کو ایران پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی کے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے ہوں گے، جبکہ ایران کو بھی اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کے معاملات میں تزویراتی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ عالمی برادری کا اعتماد بحال ہو سکے ،اگر واشنگٹن اور تہران نے ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھ کر خلوصِ نیت، سیاسی جرات اور دوراندیشی کا مظاہرہ جاری رکھا تو یہ اعلامیہ آنے والی دہائیوں تک بین الاقوامی تعلقات اور کامیاب سفارت کاری کی تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔