جب واشنگٹن لرز اُٹھا !
دنیا کیلئے امریکی سیاست ہمیشہ سے ہی ایک اسٹیج ڈرامہ کی مانند رہی ہے، لیکن گزشتہ شب واشنگٹن میں ”وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر” کے دوران جو کچھ ہوا، اس نے امریکی سیاسی ڈرامے کو ایک ہولناک موڑ دے دیا ہے،امر یکہ کے ایک بارونق شہر میں ایک ایسی تقریب کہ جہاں قہقہے، طنز و مزاح اور صحافتی جملہ بازی ہونی تھی، وہاں اچانک گولیوں کی تھر تھراہٹ اور خوف کے سائے لہرانے لگے،یہ واقعہ کسی فلمی سین سے کم نہیںتھا،اس تقر یب میں صدر ٹرمپ اسٹیج پر موجود تھے، ابھی تقریب کا آغاز ہی ہوا تھا کہ ایک پراسرار ”پرچی” صدر تک پہنچائی گئی، وہ پرچی ،جو کہ شاید موت اور زندگی کے درمیان ایک لکیر تھی۔
کیا اس پر چی سے کوئی اشارہ دیا گیا تھایا اس پرچی کے لہراتے ہی حملے کا آغاز ہو نا تھا؟یہ وہی پرچی تھی ،جوکہ اس سے پہلے ترجمان کیرولائن لیویٹ کو دکھائی جا چکی تھی،اس تقر یب کی ویڈیو میں صدر کے برابر بیٹھی خاتون کے چہرے پر پھیلنے والی حیرت اور پھر اچانک فائرنگ کی آواز پیغام دے رہی ہے کہ دنیا کی سب سے محفوظ ترین جگہ سمجھی جانے والی عمارت کے قریب بھی خطرہ موجود ہے،
صدر ٹرمپ کا اپنی نشست سے نیچے جھکنا اور سیکریٹ سروس کے اہلکاروں کا لمحوں میں انہیں حصار میں لے کر باہر نکالنا، اس بات کی گواہی دیے رہاہے کہ امریکی سیاست میں تشدد کی جڑیں کس قدر گہری ہوتی جا رہی ہیں،اس 2600 افراد پر مشتمل ہال میں خاتون اول اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے،جو کہ چند سیکنڈوں میں ایک افراتفری کا منظر پیش کرنے لگا،بندوقیں تان لی گئیں، چیخ و پکار ہوئی اور وہ تقریب جو کہ جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے جشن کے طور پر منائی جانی تھی، سکیورٹی پروٹوکولز کی نذر ہو کر برخاست کر دی گئی، لیکن اس کا عندیہ دیا جارہا ہے کہ جلد ہی ر دوبارہ تقریب منعقد کی جائے گی ۔
یہ امر یکہ میں ہو نے والا واقعہ محض ایک فائرنگ کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ امریکی سکیورٹی اداروں اور بالخصوص سیکریٹ سروس کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، یہ صدر ٹرمپ پر بھی کوئی پہلا قاتلانہ حملہ نہیں ہواہے، اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ پر حملے کی کوششیں ہو چکی ہیں، لیکن ایک ایسے ہائی پروفائل ڈنر میںکہ جہاں سکورٹی کی متعدد تہیں موجود ہوتی ہیں، وہاں تک فائرنگ کی آواز پہنچنا سکیورٹی کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے،اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ میں سیاسی پولرائزیشن، اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ جہاں اب اختلافِ رائے کی جگہ گولیاں بولنے لگی ہیں،اس میں صدر ٹرمپ کے حامی ہوں یا مخالف، تشدد کسی بھی صورت میں جمہوریت کا جواب ہو سکتا ہے نہ اسے جمہوریت میں برداشت کیا جاسکتا ہے۔
ایک بار پھر ہو نے والے حملہ میںخوش قسمتی سے صدر ٹرمپ اور دیگر تمام شرکا محفوظ رہے ہیں، لیکن اس رات نے امریکی تاریخ پر ایک ایسا داغ چھوڑ دیا ہے، جو کہ مدتوں تک یاد رکھا جائے گا، اس کے ساتھ ہی سوال اُٹھتا ہے کہ کیا واشنگٹن کے اقتدار کے گلیاروں میں اب گولیوں کی گونج ہی فیصلے کرے گی؟ کیا ایک پرچی اور چند فائر امریکی صدر کی آواز کو خاموش کر سکتے ہیں؟وائٹ ہاؤس کا ادھورا ڈنر محض ایک تقریب کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ ایک نئے اور خطرناک سیاسی دور کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ، اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب صرف ایسا ہی کچھ نہیں دیکھنا ہے کہ گولی کس نے چلائی، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ نفرت کی کون سی لہر ہے، جو کہ سکیورٹی کے اتنے بڑے حصار کو توڑ کر ایوانِ صدر تک پہنچ گئی ہے اور اس کوایک سپر پاور کی سیکورٹی بھی روک نہیں پائی ہے۔
اگر اس واقعہ کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس کے پیچھے بہت سے عوامل نظر آئیں گے ،اس میں سب سے اہم اپنے ہی لوگوں کی آواز کو دبانا اوردوسروں کیلئے طاقت کا بے جا استعمال کر ناہے ، معاشرے میںجب مکالمے کے دروازے بند کر دیے جائیں اور اپنے سے اختلاف رائے رکھنے والوں اور سیاسی مخالفین کو ہی اپنا دشمن سمجھا جانے لگے ،سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جانے لگے تو پھر وائٹ ہاؤس جیسے محفوظ ترین مقامات بھی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں،یہ فائرنگ محض ایک خاص شخص پر حملہ نہیں تھا، بلکہ اس پورے نظام پر حملہ تھا ،جوکہ اختلافِ رائے کو تحفظ فراہم کرتا ہے ،اگر آج امریکی قیادت نے سر جوڑ کر اس سیاسی پولرائزیشن کا حل نہ نکالااور اپنی بے جاطاقت کے استعمال کو نہ روکا تو وہ دن دور نہیں ہے کہ جب امر یکہ جیسے ملک میں بھی بیلٹ پیپر کی اہمیت محض ایک کاغذ کے ٹکڑے جیسی رہ جائے گی اور طاقت کا فیصلہ ،طاقت کے ذریعے ہی واشنگٹن کی سڑکوں پر بھی ہو نے لگے گا۔”