45

عالمی معیشت کی شہ رگ پر منڈلاتے خطرات !

عالمی معیشت کی شہ رگ پر منڈلاتے خطرات !

اس وقت دنیا ایک ایسے دہانے پر کھڑی ہے کہ جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری عالمی معیشت کے پورے ڈھانچے کو راکھ کر سکتی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری کارروائیوں کو تین گنا بڑھانے اور ناکہ بندی مزید سخت کرنے کے حالیہ اعلان نے عالمی توانائی کے بحران کو ایک نئی اور خوفناک شدت عطا کر دی ہے ،یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے کہ جب دنیا پہلے ہی مہنگائی اور سپلائی چین کے مسائل سے نبرد آزما ہے، اس صورتحال میں صدر ٹرمپ کا امریکی بحریہ کو مشکوک سرگرمیوں کے خلاف ”فوری اور سخت کارروائی” کا حکم دینا ،اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ خطہ اب ایک کھلی جنگ یا مکمل معاشی ناکہ بندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اگر دیکھا جائے توآبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں، بلکہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگ ہے کہ جہاں سے دنیا کی کل پیٹرولیم مصنوعات کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے ،اگر اس پر ناکہ یا پا بندی لگائی جائے گی تو عالمی معیشت کا کیا حال ہو گا ، اگر چہ امریکہ کا مقصد ایران کو معاشی طور پر مفلوج کر کے مذاکرات کی میز پر لانا ہے، لیکن اس ”کاری ضرب” کے اثرات تہران تک محدود نہیں رہیں گے ،بلکہ پوری دنیا پر پڑیں گے ،اس امریکی فیصلے کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں آنے والا ابال اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ توانائی کا بحران اب محض ایک خدشہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
ایک طرف امر یکہ دبائو بڑھا رہ ہے تودوسری جانب ایران نے بھی خاموشی اختیار کرنے کے بجائے ایک غیر متوقع اور جارحانہ پینترا بدلا ہے، ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے پہلی بار ”ٹول فیس” وصول کر کے رقم اپنے سینٹرل بینک میں جمع کرائی ہے،اس دعوئے نے بین الاقوامی قوانین اور سمندری حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیاہے، ایران کا ایسا اقدم ظاہر کرتا ہے کہ اس نے ایک گزرگاہ پر اپنے جغرافیائی کنٹرول کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیاہے

،اگر ایک طرف امریکہ ناکہ بندی کر رہا ہے تو دوسری طرف ایران اپنی گزرگاہ کو ایک ”ٹول پلازہ” میں بدل کر دنیا کو پیغام دیے رہاہے کہ اس راستے سے گزرنا اب اتنا آسان نہیں رہاہے ،یہ فریقین کی جانب سے طاقت کا استعمال کسی ایک کے مفاد میں بہتر نہیں ، فر یقین کو مذاکرات کے ٹیبل پر بیٹھ کر معاملات کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔
اس صورتحال کو عالمی ماہر ین ”عالمی معیشت کی تباہی کا پیش خیمہ” قرار دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی دو طرفہ بندش یا یہاں پیدا ہونے والا تناؤ براہِ راست ایشیا، یورپ اور امریکہ کی صنعتوں پر اثر انداز ہو رہا ہے،کیو نکہ دنیا میں جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں،اس کا نتیجہ اشیائے خوردونوش سے لے کر ادویات تک ہر چیز کی قیمت میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے ،یہ صورتحال غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں کہ جہاں پہلے ہی عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیںاور اپنی حکو متوں کے خلاف سراپہ احتجاج ہیں۔

اس پرسوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا طاقت کا بے دریغ مظاہرہ کسی حل کی طرف لے جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ معاشی ناکہ بندیاں اکثر انسانی بحرانوں کو مزیدجنم دیتی ہیں، جبکہ سیاسی مسائل کا حل ہمیشہ مذاکرات کے کمروں میں ہی نکلتا ہے،یہ جا نتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سخت ردعمل دیا جارہا ہے ،اس امریکہ کی سختی اور ایران کی جوابی حکمتِ عملی نے عالمی برادری، بالخصوص توانائی کے بڑے خریداروں ،چین ، جاپان اور یورپی ممالک کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے،اگر عالمی طاقتوں نے فوری طور پر مداخلت نہ کی اور سفارتی ذرائع کو حرکت میں نہ لایا گیا تو آبنائے ہرمز سے اٹھنے
والی لہریں پوری دنیا کو ایک ایسے معاشی طوفان میں بہا لے جائیں گی کہ جس سے سنبھلنا دہائیوں تک ممکن نہیں ہوگا۔
موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ فریقین جارحانہ حکمت عملی کے بجائے دانشمندی اور تدبر سے کام لیں اور ایک دوسرے کو طاقت کے زور پر دبانے اور گرانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر مسئلے کا پُرامن حل تلاش کریں، عالمی بساط پہ انا‘ ضد اور ہٹ دھرمی کی قیمت ملکوں اور قوموں کو اجتماعی طور پر ادا کرنا پڑتی ہے، لہٰذا فریقین کو سمجھنا ہو گا کہ لچک کا مطلب کمزوری نہیں ،بلکہ دانشمندی ہوتا ہے‘اس کا مقصد کروڑوں انسانوں کو معاشی تنگدستی اور جنگ کی ہولناکیوں سے بچانا ہوتا ہے، اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کوبھی یکجا ہو کر فریقین کو ایک ایسے فریم ورک پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جہاں سکیورٹی خدشات کا ازالہ اور معاشی مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے، طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری کو فوقیت دے کر عالمی معیشت کے تحفظ اور خطے کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں