64

جنگ، حکمت اور غلطیوں کا بوجھ

جنگ، حکمت اور غلطیوں کا بوجھ

تحریر : عرفان مصطفٰی صحرائی

عالمی سیاست میں فیصلے وقتی نہیں ہوتے۔ ان کے اثرات دور تک جاتے ہیں، کبھی دہائیوں تک۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی اسی نوعیت کا ایک بحران ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں تھی بلکہ ایک سوچ، ایک حکمتِ عملی اور ایک سیاسی طرزِ عمل کا امتحان تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو ترجیح دی۔ ان کا خیال تھا کہ فوجی دباؤ کے ذریعے نظام کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ تصور نیا نہیں۔ مگر تاریخ اسے بار بار رد کر چکی ہے۔ عراق، افغانستان اور لیبیا اس کی واضح مثالیں ہیں۔
ان تمام تجربات میں ابتدا میں فوجی کامیابی ضرور ملی، لیکن انجام غیر یقینی اور اکثر تباہ کن رہا۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی پیٹرن سامنے آیا۔ فوجی برتری حاصل ہوئی، مگر سیاسی سمت واضح نہ ہو سکی۔ یہی وہ خلا ہے جہاں بحران گہرا ہوتا ہے اور پالیسی کمزور پڑتی ہے۔
جنگ کے بعد ایک نازک جنگ بندی سامنے آئی، مگر یہ مکمل امن نہیں ہے۔ یہ صرف ایک وقفہ ہے۔ کشیدگی اب بھی موجود ہے اور اعتماد اب بھی کمزور ہے۔ یہ صورتحال اس بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جلد بازی پالیسی کو نقصان پہنچاتی ہے۔
خارجہ پالیسی میں فوری فیصلے اکثر سطحی نتائج دیتے ہیں۔ یہ وقتی فائدہ تو دیتے ہیں، مگر دیرپا استحکام نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپنے بھی فوری نتائج کو ترجیح دی اور طویل المدتی حکمت عملی کو پسِ پشت ڈال دیا۔
اس کے برعکس بارک اوبامانے ایران کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دی۔ ان کی پالیسی سست ضرور تھی، مگر اس کا مقصد خطرات کو کم کرنا اور مسئلے کو کنٹرول میں رکھنا تھا۔ اسی طرح جارج ڈبلیو بشنے بھی جنگ کے نتائج کو سنجیدگی سے دیکھا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ طاقت ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔ فوجی کارروائی دباؤ پیدا کر سکتی ہے، لیکن حل نہیں دے سکتی۔ حل ہمیشہ سفارتکاری اور مذاکرات سے نکلتا ہے۔ یہی توازن ہر کامیاب خارجہ پالیسی کی بنیاد ہوتا ہے۔
امریکہ کی موجودہ پالیسی میں یہی توازن کمزور نظر آتا ہے۔ فوجی پہلو غالب رہا جبکہ سفارتی کوششیں پیچھے رہ گئیں۔ یہ عدم توازن ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے پیچیدہ تنازعات میں۔
ایران کا مسئلہ سادہ نہیں۔ یہ ایک کثیر الجہتی بحران ہے۔ اس میں نظریاتی پہلو بھی ہے، علاقائی کشمکش بھی ہے اور عالمی طاقتوں کا توازن بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ معاشی مفادات اور سب سے بڑھ کر اعتماد کا بحران بھی جڑا ہوا ہے۔
اس تنازعے کا ایک اہم مرکز آبنائے ہرمزہے، جو دنیا کی توانائی کی ترسیل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہاں کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔
تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، معیشتیں متاثر ہوتی ہیں اور کمزور ممالک شدید دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
اسی تناظر میں خلیجِ عمان اور خلیج فارس کے پانیوں پر کشمکش نے عالمی برادری کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ صورتحال اس حد تک حساس ہو چکی ہے کہ ایک غلط فیصلہ دنیا کو توانائی اور خوراک کے بحران میں مبتلا کر سکتا ہے۔
توانائی کا بحران خوراک کی قلت کو جنم دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ متاثر ہوتی ہے، پیداوار کم ہو جاتی ہے اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح ایک علاقائی تنازعہ عالمی
انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود امید مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ سفارتکاری کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے پرامید ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف بھی واضح ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات صرف برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ دباؤ اور دھمکی کے سائے میں مذاکرات مؤثر نہیں ہو سکتے۔
یہ مؤقف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غیر متوازن مذاکرات دیرپا حل نہیں دیتے۔ اگر عالمی طاقتیں سنجیدگی دکھائیں تو تصادم کو اب بھی روکا جا سکتا ہے۔
موجودہ حالات کا تقاضا واضح ہے۔ جارحانہ حکمت عملی مسئلے کو مزید بگاڑ سکتی ہے، جبکہ دانشمندی اور تدبر ہی راستہ فراہم کرتے ہیں۔ مذاکرات ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں اس بحران کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو مذاکرات کا امکان موجود ہے، مگر یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔ ایران ایک تجربہ کار فریق ہے جو وقت لیتا ہے اور دباؤ کو برداشت کرتا ہے۔
اس لیے امریکہ کو بھی سنجیدگی دکھانی ہوگی۔ اسے منصوبہ بندی کرنی ہوگی، ماہرین سے استفادہ کرنا ہوگا اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ فوری فیصلے یہاں نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
جوہری مسئلہ اس تنازعے کا مرکزی نکتہ ہے۔ یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنا اور موجودہ ذخائر کو کم کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ ایک توازن کا عمل ہوگا، اور یہی سفارتکاری کی اصل روح ہے۔ اسی سے ہی پائیدار حل نکل سکتا ہے۔
یہ صورتحال ایک اور اہم سبق بھی دیتی ہے کہ پالیسی سازی میں جذبات نہیں بلکہ ادارہ جاتی سوچ، تحقیق اور تسلسل ضروری ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر یہی تنقید کی جاتی ہے کہ اس میں تسلسل اور منصوبہ بندی کی کمی رہی۔اب سوال یہ ہے کہ کیا راستہ باقی ہے؟ جواب مکمل طور پر نفی میں نہیں، لیکن مکمل امید میں بھی نہیں۔ موقع اب بھی موجود ہے مگر محدود ہے۔
اگر مذاکرات سنجیدہ ہوں اور رویہ بدلے تو پیش رفت ممکن ہے۔ اس کے لیے فوری نتائج کی سوچ ترک کرنا ہوگی

اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔اتحادیوں کو ساتھ لانا ہوگا، عالمی حمایت حاصل کرنی ہوگی اور سب سے بڑھ کر صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ یہی اس بحران کا خلاصہ ہے۔تین بنیادی اسباق واضح ہیں۔ پہلا یہ کہ صبر ناگزیر ہے۔ دوسرا یہ کہ طاقت کا متوازن استعمال ضروری ہے۔ تیسرا یہ کہ واضح حکمت عملی کے بغیر کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
آخر میں ایک حقیقت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے، مگر اسے ختم کرنا مشکل۔ اور اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔
عالمی سیاست کی بساط پر انا، ضد اور ہٹ دھرمی کی قیمت ہمیشہ قومیں ادا کرتی ہیں، اور بعض اوقات پوری انسانیت اس کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ پائیدار امن نہ جلدی آتا ہے اور نہ آسانی سے۔ یہ وقت، حکمت اور سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں