13

ترجیحات کا بگاڑ ایک تلخ حقیقت

ترجیحات کا بگاڑ ایک تلخ حقیقت

تحریر سید ارتضی ہمدانی
سڑکیں بنانا یقیناً ضروری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی ہماری ترقی کا اصل معیار ہے؟ ہمارے ہاں نظام کچھ یوں الجھ چکا ہے کہ جو کام Local Government کا ہے، وہ ہمارے منتخب نمائندے اپنی سب سے بڑی کامیابی بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
ایم ایل اے صاحب کا اصل کام کیا تھا؟
صاف پینے کا پانی دینا…
معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنا…
جدید ہسپتال بنانا…
اور نوجوانوں کے لیے ہنر و روزگار کے مواقع پیدا کرنا…
مگر آج ہمیں صرف چند کلومیٹر سڑکوں میں الجھا دیا گیا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے:
کیا سڑکیں تعلیم کا نعم البدل ہیں؟
کیا سڑکیں ہسپتالوں کی کمی پوری کر سکتی ہیں؟
کیا سڑکیں ہمارے بچوں کا مستقبل سنوار سکتی ہیں؟
حقیقت واضح ہے — نہیں۔
قصور صرف قیادت کا نہیں، ہم بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ہم وقتی فائدوں کے پیچھے اپنے آنے والے کل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
وقت آ گیا ہے جاگنے کا۔
جاگ اے نوجوان!
اپنے حق کو پہچان
اپنے قلم کی طاقت کو سمجھ
اور سوال کرنا سیکھ
کیونکہ جو قوم سوال نہیں کرتی، وہ ہمیشہ دھوکے میں رہتی ہے۔
اب فیصلہ تم نے کرنا ہے —
چند کلومیٹر سڑکیں یا آنے والی نسلوں کا روشن مستقبل؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں