زمین کا تحفظ نئی نسل کی ضرورت !
بیسویں صدی کی صنعتی ترقی نے جہاں انسان کو آسائشیں فراہم کی ہیں، وہیں قدرت کے توازن کو بھی بری طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے،اس اکھاڑ بچھاڑ کو درست کر نے پر جہاں زور دیا جارہا ہے ،وہیں اس پر غور بھی کیا جارہا ہے کہ آنے والی نسلوں کیلئے زمین کے تحفظ کوعملی طور پر کیسے یقینی بنایا جائے،اس حوالے سے ہر سال ارتھ ڈے بھی منایا جاتا ہے ، یہ دنیا بھر میں منایا جانے والا ‘ارتھ ڈے’ محض ایک رسمی دن نہیں،
بلکہ زمین کے تحفظ اور ماحولیاتی بقا کے حوالے سے اجتماعی سوئے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا ایک ذریعہ ہے، اس دن کا بنیادی مقصد احساس دلانا ہے کہ کائنات کے وسیع و عریض پھیلاؤ میں زمین ہمارا واحد گھر ہے اور اس کے وسائل لامحدود نہیں ہیں، اگر ہم نے ان وسائل کا بے دریغ استعمال جاری رکھاتو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بنجر اور ناقابلِ رہائش سیارہ وراثت میں دے کر جائیں گے۔
اگرارتھ ڈے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا آغاز 1970ء میں ہوا تھا، اس وقت ایسی تحریک کا مقصد صنعتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے خلاف آواز اٹھانا تھا، لیکن آج نصف صدی گزرنے کے بعد بھی وہی مقاصد نہ صرف زندہ ہیں، بلکہ اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے،آج پوری دنیا کو ہی گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں نے نہ صرف اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، بلکہ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس میں ہم کمی لانے کے بجائے اضافہ کیئے چلے جارہے ہیں۔
اگراس ارتھ ڈے کوپاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دن ہمارے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، ہمارے گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، اس کے نتیجے میں کبھی تباہ کن سیلاب آتے ہیں
تو کبھی خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس کے ساتھ غیر متوقع بارشوں نے زراعت کے نظام کو بھی درہم برہم کر دیا ہے، جبکہ بڑے شہروں میں فضائی آلودگی اور ‘اسموگ’ نے زندگی اجیرن کر دی ہے ،موسمِ گرما میں شدید ہیٹ ویوز کا دورانیہ طویل ہوتا جا رہا ہے، جوکہ اس بات کی علامت ہے کہ قدرت ہم سے ناراض ہے اور ہم اسے منانے کیلئے کچھ بھی نہیں کررہے ہیں۔ہمیںایسے حالات میں ارتھ ڈے ایک واضح انتباہ دیے رہاہے کہ اگر اب بھی اجتماعی سطح پر سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو مستقبل میں صورتحال سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا،
اس ضمن میں حکومت اور عوام دونوں پر ہی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،حکومت کو چاہیے کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پالیسیاں مرتب کرے اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے، تاکہ صنعتی فضلے اور آلودگی کو کنٹرول کیا جا سکے ،ہمیں روایتی ایندھن پر انحصار کم کر کے ‘گرین انرجی’ یعنی شمسی اور ہوائی توانائی جیسے قابلِ تجدید منصوبوں کی طرف منتقل ہونا پڑے گا، اس کے ساتھ ساتھ شجرکاری کی مہم کو صرف فوٹو سیشن تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک قومی فریضہ بنانا ہوگا، کیونکہ درخت ہی وہ واحد ہتھیار ہیں ،جو کہ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو لگام دے سکتے ہیں۔
اس حکو مت کی جہاں زمین کے تحفظ کی ذمہ داری بنتی ہے ،وہیں ہمیں بھی ایک شہری کی حیثیت سے اپنی عادات پر نظرِ ثانی کرناہوگی،اپنے روز مرہ زندگی کے رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی ،ہمیں پانی اور بجلی کا ضیاع روکنا، پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال ترک کرنا اور اپنے اردگرد صفائی کا خیال رکھنا ،بظاہر بہت ہی چھوٹی باتیں لگتی ہیں، لیکن اجتماعی طور پر ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں،
ہمیں اپنے بچوں کے شعور کو اجاگر کرنا ہوگا کہ وہ درختوں سے پیار کریں اور قدرت کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر سیکھیں، انہیں خراب کر نے ،ان کا ضیاع کر نے سے اجتناب کر نا ہو گا ،ہم جب تک اپنی زمین کا خود تحفظ کر نا نہیں سکھیں گے ، اس کو آنے والی نسلوں کیلئے کبھی بچا نہیں پائیں گے ۔
ہمیںارتھ ڈے پیغام دیتا ہے کہ زمین کی بقا میں ہی ہماری بقا ہے، قدرت کے توازن کو برقرار رکھنا اب ایک
انتخاب نہیں ،بلکہ زندہ رہنے کی شرط بن چکا ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک صاف ستھری فضا میں سانس لے سکیںتو ہمیں آج سے ہی اجتماعی طور پر زمین کی حفاظت کا عہد کرنا ہوگا، یہ وقت بڑی تیزی سے ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل رہا ہے اور ہم زبانی کلامی باتیں کررہے ہیں ، کا غذی منصوبوں پر منصوبے بنائے جارہے ہیں ،اشتہاری مہم بھی چلائے جارہے ہیں ، لیکن ہمیں عملی طور پر کچھ کر نے کی ضرورت ہے ، یہ عمل کا وقت ہے، کچھ کر گزرنے کا وقت ہے ، بصورت دیگر بہت دیر ہو جائے گی اور ہم آنے والی نسل کو شر مندگی کے علاوہ کچھ دیے نہیں پائیں گے۔