نقاش نائطی 77

مسلمانوں کو چوطرفہ گھیرتا لوٹتا، سنگھی رام راجیہ، پس منظر

مسلمانوں کو چوطرفہ گھیرتا لوٹتا، سنگھی رام راجیہ، پس منظر

۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707

یہ دنیا کا اوصول ہے جہاں آسانی سے روزی روٹی میسر ہوتی ہے لوگ وہیں جایا کرتے ہیں۔اسی آسان رزق کے چکر میں، بیس تیس لاکھ ہم ہندستانی، خلیج کے صحرائی ملکوں میں سابقہ تیس سالوں سے اپنوں سے دور، حصول رزق کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ھندو دلت آدیواسی کی طرح ہم مسلمان بھی اپنے مذہب کےسلسلےمیں سچے پکے بھگت مذہبی پائے جاتے ہیں۔اور یہی کچھ ہمیں پڑھایاسکھایا اور دلنشیں کرایا جاتا ہے کہ جہاں مذہی آستھا کی بات آجائے تو غیر ضروری بحث و تمحیض سے بچنا چاہئیے۔

یا تو اندھے مقلد بن، اپنے بڑوں کی بات ماننی چاہئیے یا نہ مانتے کی صورت،چپ چاپ پتلی گلی سے نکل جانا چاہئیے یہ اسلئے کے بحث و تمحیض سے حضرت شیطان کو ہمارے ذہن و قلوب میں وسوسے ڈالنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اسی لئے، ابھی اسی مہینے یوپی ہاتھرس میں،کسی بھی بھگوان کی صورت و مورت پوجا پاٹھ سے پرے، مہان مودی جی کی طرح، اپنے آپ کو بھگوان ایشور کا اوتار بتائے,ایک عام سے، تری پیس سفید سوٹ پہننے والے، لڑکی کو چھیڑنے کے الزام میں، پولیس کی نوکری سے برخواست کئے گئے،

بھگوان کے اوتار بھولے بابا، جس طرح سے،بھارت کی لاکھوں دلت آدیواسی ھندو نساء کے چہیتے بن گئے ہیں اور انکا پروچن یا درس سننے کے لئے جمع، سوا لاکھ لوگوں کی بھیڑ میں سے، بھولے بابا کی قدم بوسی دھول اٹھانے کے چکر میں،مچی بھگڈر میں،86 نساء کے ساتھ 122 انسان ایک دوسرے کے قدموں کے نیچےکچلے، موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں، بالکل اسی طرز پر، ہم مسلمان بھی، اتنے بھولے ہیں کہ مذہبی آستھا کے نام پر، انہیں آسانی سے ٹھگا، دھوکا دیا، اور لوٹا جاسکتا ہے۔ سود سے بچنے کے لئے،حلال سرمایہ کاری کے نام سے، کئی نام نہاد مولانا علماء کے ساتھ ہی ساتھ، بڑے برے نام نہاد مسلمان، سود فری سرمایہ کاری جال میں جکڑے لاکھوں کروڑ دھوکا کھا چکے ہیں

ابھی اسی عید قربان پر حیدر آباد کے کچھ شاطر مسلمانوں کے ہاتھوں،اس مہنگائی زد مودی رام راجیہ میں، سستی مشترکہ قربانی کی آس دلائے، حیدر آباد و جنوب ھند کے ہزاروں مسلمانوں کے،کروڑوں لوٹے جاچکے ہیں۔ عید قربان کا مطلب، مال،وقت کے ساتھ محنت و جفاکشی جیسی، بہت سی چیزوں کی قربانی مطلوب ہوتی ہے،لیکن آج کل کےجدت پسند اعلی تعلیم یافتہ گھرانے،اللہ کی رضا کے متلاشی تو ہوتے ہیں اور اس کے لئے روپیہ پیسہ بھی خرچ کرنے تیار رہتے ہیں لیکن نہ انکے پاس ان چیزوں کے لئے،وقت ہوتا ہے

اور نہ ہی وہ،آپنی گھر والی کی ترچھی نظر کا سامنا کرنے تاب لائے،اپنے سجےسجائے گھروں میں خاندان والوں کی بھیڑ جمع کر،اپنے گھر کو پراگندہ کرنا چاہتا ہے اور نہ اس سمت تکلیف اٹھانا چاہتے ہیں، اسی لئے تو ایسے نام نہاد اعلی تعلیم یافتہ مسلمانوں کو، گھر بیٹھے انہیں تکلیف نہ دئیے، انکے گھروں کو پراگندہ ہونے سے بچائے، دور دور کے خاندان والوں کے کانوں کان تک خبر نہ ہونے دئیے، چپکے سے قربانی کروائے، اپنے حصے کا گوشت گھر لائے، فریزر میں منجمد رکھے، مہینوں اسے خود کھائے، مستفید ہونے کےچکر میں، ایسی اجتماعی شراکتی قربانی کروانے والوں کے دام فریب میں ہم مسلمان آجایا کرتے ہیں اور آسانی کے ساتھ اللہ کو خوش کرنے، اپنے مذہبی آستھا پوری کرنے کے چکر میں آسانی سے لوٹ لئے جاتے ہیں

ایسا کچھ اب حج و عمرہ کرنا آسان ہوکر رہ گیا ہے۔ علماء کرام کی دعوت و تبلیغ اور کمزور ایمان باوجود، فضائل اعمال کی برکات ہیں کہ لانڈری سے میلے کچیلے کپڑے صاف کروائے جیسا، حرام کمائی سے لپت، اپنی زندگانی کو بھی حج و عمرہ سے پاک و صاف کئے جانے کے چکر میں، فی زمانہ ہر کوئی ایسا نام نہاد مسلمان، آپنی آخرت سنوارنے اور حصول جنت کی آس میں، بغیرمحنت و مشقت والی فائیو اسٹار حج و عمرہ کے خواہش مند پائے جاتے ہیں۔ آسانی سی کمائی حرام دولت بھی ایسے ہی حرام طریق آسانی سے نکل جایا کرتی ہے

(ایزی منی گوز ایسی وے) اب ظاہر ہے، ہم ان اندھ بھگت جیسے مقلد جامد مذہبی آستھا رکھنے والے مسلمانوں پر ، ذرا محنت کر آسانی سے انہیں لوٹا جاسکتا ہے تو انہئں لوٹنے نام نہاد مسلمان ہی کیوں؟ مولانا موحد (موھد) تیواری جیسے ہزاروں سنگھی ھندو،بہروپئے بھی ہم مسلمانوں کو لوٹنے منظم انداز مصروف معاش پائے جاتے ہیں۔ ہمیں یاد پڑتا ہے، ایک مرتبہ ہمارے رشتہ ہی کے ممبئی کے گلی کے غنڈے نے، اپنی کلائی گھماتے ہوئے کہا تھا “اب حصول رزق آسان نہ رہا، بڑی محنت کرنی پڑتی ہے،اب صرف دھمکیوں سے کام نہیں ہوتا، بالکہ ایک دو کو زبردستی اٹھوانا پڑتا ہے، پولیس کا بندوبست کئے، اس کے ہاتھ پاؤں تڑوانے پڑتے ہیں، تب جاکر علاقے میں ڈر اور خوف بیٹھے، کچھ کمائی ہونا آسان ہوتا ہے”۔

ایسا ہی ایک اچھے پکے سنگھی ھندو ہوتے ہوئے، مسلم بھیس بدل،مسلم معاشرے میں گھوم پھر کر، کئی مسلمانوں سے دوستی کئے، اور ضرورت پڑنے پر، انکی مسجدوں میں جاتے ہوئے، انکے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے،اور ان مسلمانوں کے ساتھ دوستی کرنے کےچکر میں، کبھی کبھی تو اپنا دھرم بھرشٹ کئے، انکے ساتھ مسلم ہوٹلوں میں چائے پانی ناشتہ کئے، ان مسلمانوں کو بےوقوف بنائے، ان سے ہزاروں روپئیے ایٹھنا، اتنا آسان کام تھوڑی نا ہے؟ کتنی محنت کرنی پڑتی ہے انہئں۔ ہاں پکڑے جانے پر ان کے ہاتھوں پٹنے سے بچنا ضروری ہوتا ہے، بے وقوف مسلمان قانون و عدلیہ پر بھروسہ کئے، انہیں پولیس کے حوالے کریں تو یہ انکی عافیت۔یہ اس لئے کہ پولیس والا اگر غیر جانبدار بھی ہو یا بدقسمتی سے مسلمان بھی ہو تو کوئی بات نہیں؟ تڑی پار ہوم منسٹر کے ہوتے ہوئے، پورے ہندستان میں،اسی شاہ کا نام یا اسکی گیروی پارٹی کا نام ہی پولیس و عدلیہ سے بچنے کام آہی جاتا ہے

ایسے سنگھی سازشی لوٹ کھسوٹ پس منظر میں، اپنون اورغیروں کے ہاتھوں ایسی لوٹ سے بچنے کا واحد حل، ہم مسلمانوں کو فضائل اعمال کے اس دام فریب سے نکالنا ہوگا،ہم میں، بیسیوں سال قبل والے ہمارے بچپن میں پڑھائے گئے ایمان مفصل یا کہ چھ کلمات کے معنی مطلب کو ہمارے فکر و ذہن میں منعکس کرنا ہوگا! ہزار کوشش باوجود، رزق متعین ہی کے ملنے کو، ہماری سوچ کا حصہ بنانا ہوگا! حقوق اللہ سے زیادہ حقوق العباد کی فکر کو دامن گیر کرانا ہوگا! اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ کرام کے درمیان مفصل بتائے

،”آخرت کے مساکین” بننے سے بچنے کی فکر، ہم مسلمانوں میں ڈالنی ہوگی۔ بعد الموت قبر و عالم برزخ کی ہزاروں سالہ زندگی کی راحت و آسودگی کے لئے، ساٹھ ستر سالہ دنیوی زندگی کے عیش و عشرت کو درکنار کرنے کی تڑپ ہم میں جگانی پڑیگی! مذہب و بندگی سے پرے، بڑوں کی عزت تو چھوٹوں پر شفقت والے جذبہ کے ساتھ مخلوق خدا یعنی انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے، خالق کائینات کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے اہمیت کو ہم میں ودیعت کرنا ہوگا۔انہی چیزوں سے تو صالح معاشرے وجود میں آتے ہیں جس میں ایک دوسرے پر بھروسہ اعتماد رہتے،مسجد سے بلند ہونے والی آواز حی اعلی الصلاح اور حی علی الفلاح پر،شہر مدینہ سعودی عربیہ آہنی دکانیں کھلی چھوڑ مسجد نبوی کی طرف نماز کے لئے بھاگتے منظر کو، اپنے علاقوں میں دہراتے ہوئے، اپنی دوکانوں کو توکل علی اللہ کھلا چھوڑے مسجدوں میں جانا ہم مسلمانوں کے لئے آسان ہوسکتا ہے۔وما التوفئق الا باللہ.
مسلم بھیس بہروپئوں والے پس منظر میں مسلم قوم کو دانستہ لوٹا جارہا ہے*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں