دہشت اور وحشت
جمہور کی آواز
ایم سرورصدیقی
پاکستان کی سیاست بھی عجب ہوگئی ہے لانگ مارچ سے سیاسی محاذ آرائی کے باعث دہشت سے عوام کو وحشت ہونے لگی ہے ایک طرف تو2 حکومتی وفود PTI قیادت سے گفت وشنید کررہے ہیں دوسری طرف کور کمانڈر کانفرنس نے واضح کیاہے کہ پاکستان میںکسی بھی جواز پر پْرتشدد انتشار،لانگ مارچ یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنیکی کسی بھی کوشش سے فیصلہ کْن طاقت اور قانون کیساتھ بلاامتیاز اور بلاجھجھک نمٹا جائیگا پاکستان کیلئے داخلی استحکام انتہائی اہم ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مخصوص عناصر کے ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ کو توڑنا ضروری ہے اسی تناظرمیں تحریکِ انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیشِ نظر حکومت نے سیکیورٹی اقدامات کے تحت رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کر دی
یہ توسیع 15 اکتوبر 2026ء تک کردی گئی ۔ بعینہـ تحریک ِ انصاف کی قیادت مذاکرات بھی کررہی ہے جس کے تحت بانی عمران خان کی رہائی، طبی سہولتوںکی فراہمی اور سیاسی فیدیوںکی رہائی کا ایجنڈہ مشروط ہے تو دوسری جانب PTI قیادت نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی منظوری بھی دیدی ہے وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،1 دن میں 4 کروڑ روپے چندہ جمع ہوگیافنڈز کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، لانگ مارچ کا آغاز چار اکتوبر کو لکی مروت سے ہوگا، پھر 6 اکتوبر کی صبح متنی پشاور پہنچیں گے وہاں سے صوابی کے لئے روانہ ہوں گے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت اورPTI قیادت نے اپنی اپنی حکمت ِ عملی کے تحت فیصلے کرلئے ہیں
فریقین دما دم مست قلندرکیلئے تیاربیٹھے ہیںیقینااس وقت پورے ملک ہیجانی کیفیت ہے جس سے لوگوںمیں زبردست خوف وہراس پھیلاہواہے حکومت سے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ہونے والے پی ٹی آئی کی سیاسی و کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے ذرائع کے مطابق اجلاس میں بیرسٹر گوہر نے حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرت سے متعلق بریف کیا جبکہ سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ایمرجنسی لگانے کا مکمل پلان نظر آتا ہے اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت کی رائے تھی کہ مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے،
حکومت مثبت پیش رفت کرتی ہے تو لانگ مارچ ختم کرنے کے بجائے تاریخ آگے بڑھائی جا سکتی ہے لیکن لانگ مارچ کے حوالے سے حکومت پر تحریک ِ انصاف کو واضح نفسیاتی برتری حاصل ہے کیونکہ گذشتہ دو ہفتوںسے وفاقی دارالحکومت میں ہرچیز مفلوج ہوکررہ گئی ہے ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں کے خوراک، گرمی آرام اور دیگر مسائل نے ان کیلئے پریشانیاں اکھٹی کرکے رکھ دی ہے جس سے حکومت خوفزدہ ہے کہ اگر تحریک ِ انصاف لانگ مارچ کی تاریخ پر تاریخ دیتی رہی تواس کے اثرات پورے ملک پرحاوی ہوجائیں گے اسی لئے مشیر وزیراعظم برائے سیاسی اْمور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے
کہ کسی صوبے میں گورنر راج لگانا ایک ناپسندیدہ عمل ہے ،لانگ مارچ سے گریز کریںPTI نے لانگ مارچ کرنا ہے تو خیبرپختونخوا میں کرے یہ بھی کہاجارہاہے کہ حکومت اور اپوزیشن وفود کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہی محسن نقوی نے کے پی حکومت اور سہیل آفریدی کیخلاف چارج شیٹ بتائی، محسن نقوی نے ٹی ٹی پی کے حملے اور امن و امان کو کے پی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔ذرائع کے مطابق علامہ ناصر عباس نے کے پی حکومت اور سہیل آفریدی کیخلاف چارج شیٹ کو مکمل طور مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشتگردی پر نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں آپ مذاکرات کو دہشتگردی سے جوڑرہے ہیں۔ذرائع کے مطابق علامہ ناصر عباس نے کہا کہ مسائل کا حل تب نکل سکتا ہے
جب محمود اچکزئی اور میری ملاقات عمران خان سے ہوگی، اس پر پیپلزپارٹی کی شیری رحمان نے کہا کہ اس کی کیا گارنٹی کہ ملاقات کرلیں تو مسائل حل کر لیں گے، اس پر ناصر عباس نے کہا کہ ہم اس کی ذمہ داری لیتے ہیں جب ہماری بانی سے ملاقات ہوگی تو حالات بہتر ہونگے۔ سیاسی مبصرین مسلسل کہہ رہے ہیں ملک میں عدم سیاسی ومعاشی استحکام سے نت نئے مسائل پیداہورہے ہیںان حالات میں PTI کا لانگ مارچ، سیاسی بدامنی یا اداروں میں تصادم یا امن و امان کی صورت زیادہ خراب ہوئی تو یہ ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہوگا اس لئے حکومت اور PTI دونوںکی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملات کو بہتربنانے کے لئے ٹھوس انداز میں مذاکرات کریں حکومت کا فرض بنتاہے کہ وہ اپوزیشن کے مطالبات پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غورکرکے کوئی قابل ِقبول حل تلاش کرے کیونکہ سیاسی محاذ آرائی کے باعث دہشت سے عوام کو وحشت ہونے لگی ہے خدارا یہ تصادم اور اپنے ہی شہریوں پر گولیاں برسانا پاکستان کے مفاد میں نہیں۔