رشتے بچا لیجیے، وقت واپس نہیں آتا
کالم: جاوید اقبال بٹ
کبھی غور کیا ہے کہ انسان دنیا جیتنے کی کوشش میں کہیں اپنے ہی لوگوں سے تو نہیں ہار رہا؟
ہم جن کے لیے ساری زندگی محنت کرتے ہیں، کبھی انہی کے دل اپنی زبان، اپنی انا اور اپنی ضد سے توڑ دیتے ہیں۔ پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ ہمارے پاس دولت بھی ہوتی ہے، گھر بھی، کاروبار بھی اور دنیا کی بہت سی سہولتیں بھی، مگر ایک ایسا اپنا شخص نہیں ہوتا جس کے سامنے بیٹھ کر دل کی بات کہہ سکیں۔
یہی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔انسان ساری زندگی بہت کچھ حاصل کرنے کی دوڑ میں لگا رہتا ہے۔ دولت، عزت، شہرت، کاروبار، عہدہ اور آسائشیں… لیکن اس دوڑ میں اکثر وہ چیزیں کھو دیتا ہے جو حقیقت میں اس کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں، اور وہ ہیں رشتے۔
ہم اپنوں کے ساتھ رہتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ رشتے ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے۔ ہمیں لگتا ہے کہ بھائی ہے، بہن ہے،
والدین ہیں، اولاد ہے، رشتہ دار ہیں، جب چاہیں گے بات کرلیں گے، جب چاہیں گے ناراضی ختم کرلیں گے۔ مگر زندگی ہمیشہ انسان کو دوسرا موقع نہیں دیتی۔کبھی ایک معمولی بات برسوں کی محبت کو انا کی نذر کر دیتی ہے۔ کبھی چند الفاظ دل میں ایسی چبھن پیدا کردیتے ہیں جو بظاہر خاموش رہتی ہے لیکن اندر ہی اندر رشتے کو کمزور کرتی رہتی ہے۔ کبھی کسی کی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھا دیا جاتا ہے اور ایک غلط فہمی کئی دلوں کے درمیان دیوار بن جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمیں آخر حاصل کیا ہوتا ہے؟
کسی کی خوشی چھین کر؟
کسی کا دل دکھا کر؟
اپنوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرکے؟
یا کسی کی عزت کو مجروح کرکے؟
چند لمحوں کی تسکین کے بعد انسان کے ہاتھ میں اکثر صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر سنی ہوئی بات آگے پہنچانا ضروری نہیں، ہر اختلاف کو دشمنی بنانا ضروری نہیں اور ہر ناراضی کو عمر بھر کا رشتہ توڑ دینا بھی ضروری نہیں۔
زندگی میں بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جنہیں خاموشی، برداشت اور محبت سے حل کیا جاسکتا ہے۔
رشتے شیشے کی طرح ہوتے ہیں۔ ایک بار ٹوٹ جائیں تو جوڑنے کی کوشش ضرور کی جاسکتی ہے، مگر دراڑ کا نشان باقی رہ جاتا ہے۔ اس لیے دانشمندی یہی ہے کہ رشتہ ٹوٹنے سے پہلے اسے بچا لیا جائے۔
ہم اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے بڑے بڑے منصوبے بناتے ہیں۔ ان کے لیے جائیدادیں بناتے ہیں، تعلیم کا انتظام کرتے ہیں، کاروبار چھوڑنے کی فکر کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ان کے لیے ایک محبت بھرا خاندان بھی چھوڑ کر جانا ہے؟
بچے صرف ہماری باتوں سے نہیں، ہمارے رویوں سے بھی سیکھتے ہیں۔
اگر وہ ہمیں بزرگوں کا احترام کرتے دیکھیں گے تو احترام سیکھیں گے۔ اگر ہمیں بھائیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ محبت سے پیش آتے دیکھیں گے تو محبت سیکھیں گے۔ لیکن اگر وہ ہر وقت نفرت، الزام، حسد اور لڑائی دیکھیں گے
تو یہی رویے ان کی شخصیت کا حصہ بن سکتے ہیں۔اس لیے اصل وراثت صرف زمین اور مکان نہیں، کردار اور تربیت بھی ہے۔زندگی بہت مختصر ہے۔ آج جو شخص ہمارے پاس ہے، کل شاید ہمارے درمیان نہ ہو۔ آج جس سے بات کرنے کا موقع ہے، کل شاید صرف اس کی یاد باقی رہ جائے۔ پھر انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ کاش میں نے ایک بار معافی مانگ لی ہوتی، کاش میں نے اسے گلے لگا لیا ہوتا، کاش میں نے اپنی انا کو ایک طرف رکھ دیا ہوتا۔
مگر “کاش” وقت واپس نہیں لاتا۔
اس لیے جو رشتے موجود ہیں، ان کی قدر کیجیے۔ جو ناراض ہیں، انہیں منانے کی کوشش کیجیے۔ جہاں غلط فہمی ہے، اسے دور کیجیے۔ جہاں آپ سے غلطی ہوئی ہے، وہاں معذرت کرنے میں دیر نہ کیجیے۔
معافی مانگنے والا کمزور نہیں ہوتا، بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے والا انسان ہوتا ہے۔
اور معاف کردینے والا بھی ہارنے والا نہیں ہوتا؛ وہ اپنے دل کو بوجھ سے آزاد کرتا ہے۔
ہمیں دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے جس شخص کو ہم قصوروار سمجھ رہے ہوں، اس کی جگہ اگر ہم خود ہوتے تو ہمارا رویہ بھی مختلف نہ ہوتا۔
آئیے، ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کریں۔
زخم دینے کے بجائے مرہم بنیں۔
نفرت پھیلانے کے بجائے محبت بانٹیں۔
رشتے توڑنے کے بجائے جوڑنے والے بنیں۔
اور جہاں ہماری ایک اچھی بات کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتی ہو، وہاں خاموش نہ رہیں۔
صرف سوچیں نہیں، آج سے عمل بھی کریں
پہلا قدم: جس اپنے سے ناراضی ہے، پہل کرکے بات کریں۔ ضروری نہیں کہ غلطی آپ کی ہو؛ کبھی رشتہ بچانے کے لیے پہل کرنا ہی سب سے بڑی سمجھ داری ہوتی ہے۔
دوسرا قدم: کسی کے بارے میں کوئی بات سنیں تو فوراً آگے پہنچانے کے بجائے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔ ایک غیرمصدقہ بات کئی رشتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تیسرا قدم: غصے میں فیصلہ نہ کریں اور غصے میں ایسا لفظ نہ بولیں جسے بعد میں واپس نہ لیا جاسکے۔
چوتھا قدم: اپنے والدین، بہن بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں سے باقاعدگی سے رابطہ رکھیں۔ ہر تعلق کو صرف ضرورت کے وقت یاد کرنا تعلق نہیں، ضرورت ہے۔
پانچواں قدم: اگر آپ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت کرنے میں دیر نہ کریں۔ ایک سچی معذرت کئی سال کی تلخی ختم کرسکتی ہے۔
چھٹا قدم: اپنی اولاد کے سامنے رشتہ داروں کی برائیاں کرنے سے گریز کریں۔ بچوں کو نفرت کی میراث نہیں، محبت کی تربیت دیں۔
ساتواں قدم: روزانہ چند لمحے اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور خود سے پوچھیں: آج میری وجہ سے کتنے دل خوش ہوئے اور کتنے دل دکھی؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی کے دل میں اپنے لیے ایسی چبھن نہ چھوڑیں جسے ختم کرنے کا موقع آپ کو دوبارہ نہ مل سکے۔
آخرکار انسان اپنے ساتھ نہ دولت لے کر جاتا ہے، نہ عہدہ، نہ شہرت۔
وہ اپنے اعمال لے کر جاتا ہے۔
اس لیے اپنے دل کو صاف رکھیے، اپنے رشتوں کی حفاظت کیجیے اور محبت کو انا پر ترجیح دیجیے۔
رشتے قیمتی ہیں، انہیں انا کی خاطر مت ہاریے۔
دل نازک ہیں، انہیں الفاظ کی سختی سے مت توڑیے۔
زندگی مختصر ہے، اسے نفرتوں میں مت گزاریے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین، بہن بھائیوں، اولاد، رشتہ داروں اور تمام انسانوں کے حقوق پہچاننے، رشتوں کی قدر کرنے، دل آزاری سے بچنے اور محبت و انسانیت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔