اپنی شادیوں کو آسان کرو تاکہ لوگ زنا سے بچے رہیں
نقاش نائطی
۔ +919448000010
ویسے تو شہر بھٹکل کی شادیاں ناچ گانے میوزک شور شرابے سے پاک ہوتی ہے لیکن زمانے قبل کی شادی کی رسموں کو نئے انداز میں بڑھا چڑھاکر کرنے سے, غریب و متوسط لوگوں کو, عزت و وقار سےاپنی اولادوں کی شادیاں کرنا کرانا ناممکن نہ صحیح مشکل تر ضرور ہوجاتا ہے۔
نصف صد سال قبل ان شادی ھال ماورائیت والے زمانے میں جب تنگ گھروں میں ہی شادی بیاہ ہوا کرتے تھے۔ شادی گھر میں شادی کی شروعات میں نزدیکی رشتہ دار کو جمع کرنے کے لئے دلہن کو جلوہ میں بٹھانے, پلنگ سرکانے کی رسم کے ساتھ نزدیکی جمع رشتہ داروں کو کھلانے رس لوخا کھان پان تیار کیا جاتا تھا,
https://youtu.be/qnkU5iFpgtM
جس میں موسمی اعتبار مچھلی کی بازیابی مشکل رہتے وقت کے لئے, فراوانی مچھلی کے وقت نمک پانی میں محفوظ رکھی مچھلی “کھارے مھاورے” سالن, موٹے ابلا چاول کھانا تمام رشتہ داروں میں پروسا جاتا تھا۔ اب زمانے کی جدت پسندی, کم دستیابی مچھلی سیزن میں بھی,کہیں نہ کہیں سے مہنگی ترمچھلی بازیاب کرائے,ذمہ دار شادی کا پوری طرح رس نکالنے, رس لوخا کے نام سجائی جانے والی محفل میں, رس لوخا ماورائیت باوجود,چٹ پٹے مچھلی سالن,موٹے ابلے چاول پر مشتمل مہنگے ترین مچھلی ڈشز کا انتظام کروائے نزدیکی رشتہ دار ہی نہیں, دوست احباب یا وسیلے در وسیلے والے لوگوں کا جم غفیر, رس لوخا دعوت میں اکھٹا کئے, یہ مچھلی سالن دعوت تمام شادی پر بھاری مہنگی ترین دعوت ٹہرائی جاتی ہے۔ اور مچھلی چاول دعوت جتنی شاندار ہوتی ہے وہیں ولیمہ دعوت میں مزہ کم آیا لگتا ہے
اس بات کا ہمیں احساس ہے کہ معاشرے میں رائج شادی بیاہ محافل کی ایک رسم کو ختم کرنے کی سعی میں, دوسری رسم از خود وجود میں آہی جاتی ہے۔ اس لئے رس لوخا یا مچھلی سالن دعوت رسم کو ختم کرنے کے بجائے اسے محدود قریبی رشتہ داروں ہی تک محدود و مخصوص کئے,ولیمہ دعوت کو پرتکلف بنایا جائے۔
یہاں یہ بات یاد دلانا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ شادی کی محافل میں نزدیک و دور کے اور متعلقین تمام دوست احباب کو, اپنوں کی شادی میں بلانا کیا ضروری ہے؟
اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں مسجد نبوی میں حضرت عبدالرحمن بن عوف کے کرتے پر زعفرانی رنگ دیکھ کر آپ ﷺ نے جب یہ پوچھا کہ “یاعبدالرحمن کیاشادی کرلی؟ کہ کرتا زعفران آلود ہوچکا ہے” تب حضرت عبدالرحمن بن عوف نے, کسی بھی قسم کے تاسفی جذبات سے پرے, کہا “ہاں یا رسول اللہ کل شب نکاح ہوگیا”۔ کہاں خاتم الانبیاء سرورکونین محمد مصطفی کی شہر مدینہ مسجد نبوی میں دستیابی باوجود, وہ عبدالرحمن بن عوف جیسے آپ ﷺ کے قریبی ساتھی نے بھی,اپنے نکاح میں آپ ﷺ کی شرکت کو لازم ملزوم نہیں سمجھا تھا اور مسجد نبوی کے اور تمام ساتھیوں کو بھی ولیمہ کی دعوت پر بلانا ضروری نہیں سمجھا گیا تھا۔
https://youtu.be/qnkU5iFpgtM
یہ سرور کونین محمد مصطفی ﷺ کی اعلی تربیت کا مظہر بات تھی کہ مروت ثروت میں نزدیک دور کے رشتہ داروں, متعلقین کو بلائے, نکاح کو مشکل ترکئے جانے بچنا جو تھا کہ رشتہ ازدواج مقرر ہونے پر, بالکل ہی قریبی چند لوگوں کے سامنے سنت نکاح اور محدود ولیمہ کا انعقاد کئے, ہم مسلمانوں میں, نکاح آسان کرنا مقصود تھا۔ کیا فی زمانہ اتنی آسان سنت شادیاں کرنا یا کروانا ممکن ہے؟ اگر ہمیں مسلم معاشرے میں غرباء و مساکین و درمیانے درجے کے عوائل میں نکاح کو آسان بنا, انکے لئے انکی بچوں بچیوں کی شادی کو سہل بنانا ہے تو ہمیں اپنے مسلم معاشرے میں اسوئے رسول ﷺکو زندہ کرنا ہوگا۔ لوگ کیا کہیں گے اس کی فکر سے اوپر اٹھ کر معاشرے کے بھلائی کے
فیصلے کرنے ہونگے۔ وما التوفیق الا باللہ
https://youtu.be/qnkU5iFpgtM