اپنی مخلوق کو صحت یاب رکھنے والا قدرت کا انمول خود مدافعتی, ایمیون سسٹم
نقاش نائطی
۔ +966562677707
انسانی جسم میں قدرت کی طرف سے پیدا کیا گیا “خود مدافعتی نظام” ہم انسانوں کے لئے قدرت کا ایک بہترین تحفہ ایک وردان۔ اسی لئے عموما نوزائیدہ بچے ٹھنڈ یا گرم موسم میں باہر کی ذرا کھلی ہوا میں جاتے ہی سردی زکام بلغمی مزاج کھانسی یا بخار کسی نہ کسی موسمی سقم کا شکار بنے, بیمار پڑے پائے جاتے ہیں۔ بچوں کا یہ بار بار بیمار پڑنا, کوئی ڈرنے کی بات نہیں ہوتی ہے بالکہ جیسے ہی بچہ کسی بھی مرض کا شکار ہوجاتا ہے تو اس کے جسم میں قدرت کی طرف سے پیدا کئے جانے والا خود مدافعتی ایمیون سسٹم حرکت میں آنا شروع ہوجاتا ہے اور یوں, ہر انسان میں پایا جانے والا خود مدافعتی ایمیون سسٹم, اپنے طور مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے اس لئے گھر کی نانی دادی آمائیں, ننھے بچوں کو سردی زکام بخار ہونے پربھی, ابتدائی دنوں آنگریزی ادویات ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے بجائے,
گھر ہی میں بچوں کو گریپ واٹر پلائے یا دودھ پلاتی ماں کو سرد و گرم اغذیہ کھلائے یا جڑی بوٹی دوائیں ماں کو کھلائے, بچوں کا براہ راست علاج نہ کئے, بچوں میں قدرت کے پیدا کئے جانے والے خود مدافعتی ایمیون سسٹم کو پروان چڑھنے کا موقع دیا جانا بہتر سمجھتی تھیں۔ اور ویسے بھی معمولی بخار سردی زکام ستر فیصد ایک دو دن میں از خود ختم بھی ہوجاتا ہے,چاہے اسے کسی بھی ہومیوپیتھی یونانی ایورویدک یا معمولی پریکٹیسنگ ڈاکٹر یا بڑے سے بڑے ماہر اطفال ڈاکٹر ہی سے علاج کیوں نہ کروایا جائے
اس لئے عقل و فہم ادراک والے عموما”چھوٹےبچوں کو انگرئزی ادویات کا عادی نہ بنا, انکے اندرون جسم پروان چڑھتے, خود مدافعتی ایمیون سسٹم کو تقویت پاتے,دیکھنا چاہتے ہیں۔ ویسے بھی موسمی امراض, سقم کے اعتبار, نرم و سرد اغذیہ کھائے, ہمارے اندرونی جسم خودمدافعتی نظم ہی سے,صحت یاب ہوتے پائے جاتے ہیں البتہ چوبیس گھنٹوں میں, افاقہ نہ ہوتو کسی ماہر یونانی ہومیوپیتھی یا ایورویدک حکیم کو دکھائے, انگرئزی ادویات کے مقابلے کم نقصان دہ علاج معالجہ کیا جانا, بچوں کے لئےاچھا ہوتا ہے۔
بچوں کے والدین اپنے بچوں سے محبت میں,انہیں اس بخار زکام جیسے امراض سے جلد صحت یاب کروانے کے چکر میں, انگریزی ادویات ڈاکٹر کے اینٹی بایونک مضر صحت ادویات سے بچوں کی ذہنی نشوونما کو ہی متاثر کئے جاتے جوانی تک پہنچنے سے قبل بچوں میں اسقام قلب, فشار دم یا خون و بول شکر کے مریض بنتے, دیکھتے پائے جاتے ہیں
خصوصا” انتہائی ہائجینک انداز بچوں کی پرورش فکر میں والدین, بچوں میں قدرتی خود مدافعتی نظم کو مضبوط ہونے ہی نہیں دیتے ہیں, اسی لئے ہم دیکھتے ہیں,گاؤں دیہات غرباء کے مٹی ڈھول میں لپٹے پلے بچوں کے مقابلے,شہری ہائجینک ماحول میں پلے بڑھے بچے, انتہائی کمزورخود مدافعتی نظام کے مالک, سن بلوغت تک پہنچتے, انیک اقسام مستقل اسقام کےشکار بنے پائے جاتے ہیں۔ بچوں میں بڑھتی عمر کے ساتھ, انتہائی مضبوط ہوا, خودمدافعتی سسٹم, جتنا مضبوط ہوتے انسان,پرورش پاتا ہے
جوانی تک پہنچتے پہنچتے ہوئے بھی, انیک اقسام اسقام سے ماورا رہتے,انتہائی صحت مند و تندرست پایا جاتا ہے۔ موروثی اسقام علاوہ قدرتی اغذیہ چھوڑ فی زمانہ فاسٹ فوڈ,برگر موموز نوُویلز کھائے پلےبڑھےبچوں میں بھی, خطرناک بیماریوں کے خلیات انسانی جسم میں پیدا بھی ہوجائیں تو,جس طرح سے کسی ملک کی پولیس وافواج نیز سراغ رساں اداروں پر مشتمل انتظامیہ,بیرون ملکی مدد سے وطن میں پروان چڑھنے والے دہشت گرد تحریکوں کو جیسے, تحقیق و تدبر سے انکی پہچان کئے, ان کے گرد گھیرا تنگ کئے, ان پر مسلسل نظر رکھے, ایک نہ ایک دن, ان کو یرغمال کئے,
جیل کی کال کوٹھری میں نظر بند محفوظ رکھے جیسا ہی, کینسر جیسے خطرناک خلیات پر مشتمل موذی امراض جراثیم کو پورے جسم سے کسی ایک یا متعدد مخصوص جگہ منتقل کئے, مخصوص گھٹلیوں یا گلینڈس یا ٹیومر کی شکل محفوظ مقفل رکھنے, انسانی جسم کا خود مدافعتی سسٹم کامیاب ہوتا ہے۔ اسی لئے بڑھتی عمر کے ساتھ انسانی جسم کے کسی نہ کسی حصہ یا انگ میں مخصوص گھٹلیوں یا گلینڈس یا ٹیومر کو خود رو انداز بڑھتے,ہم پاتے ہیں۔ یہی سب خود مدافعتی عمل, چرند ہرند درند جانوروں کے ساتھ پیڑ پودوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ ذیل میں ناریل کے درخت کو قدرت کی طرف سے دئیے گئے
خودمدافعتی سسٹم کو دیھاجاسکتا ہے۔قدرت کا ہم انسانوں کے لئے تخلیق کیا ہوا ڈی ہائیڈریٹیڈ ناریل پانی جسے بوقت ضرورت براہ راست یا انٹر وینل خون کا حصہ بھی بنایا جاسکتا ہے ہم اس علاقے میزن رہتے ہوئے مضر صحت کیمیکل زد مشروبات کوک و فزز پائے اپنے اندرونی جسمانی اعضاء کو نقصان دئیے پائے جاتے ہیں۔
جنگلی محنت کش حیوانات درند پرند چرند ممائل کے مقابلے, بغیر محنت گھومنے یا ایک ہی جگہ کھڑے رہنے والے شہری بکرے گائےبیل بھینسوں میں اور خصوصا” ایک ہی ڈربے کو اپنی زندگی سمجھے اسی میں پروان چڑھائے, کیمکل زد فیڈ کھلائے, اور انہئں کم وقت میں فربہ مائیل کئے جانے,دئے جانے والے اینٹی بایوٹک کیمکل زد انجکشن دئیے پالے جانے والی فارمی مرغیاں, انسانی اجسام کے لئے مفید تر بتائے گئے
اورسمجھے گئے, انکا گوشت صدا کھائے,اپنےاجسام میں پائے جانے والا قدرت کا عطا کردہ خودمدافعتی نظام, جہاں انہیں از خود موسمی امراض سے نجات کہاں تک دلاتا پایا جاتا ہے وہیں انسانی جدت پسند کیمیکل زد کھانوں کے استعمال سے, ان میں بھی مہلک امراض جو خلیات پیدا ہوتے ہیں انکے جسم میں موجود خود مدافعتی نظم,ان مہلک اسقام کے خلیات کو بھی, جسم کے مختلف حصوں میں, قدرتی طور پیدا ہونے والی گھٹلیوں گانٹھوں یا ٹیومر میں مقید رکھنے کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں دیکھا جاسکتا ہے؟
ہم گوشت خور انسانون کو, بڑی عمر کے چوپائے کا گوشت کھاتے ہوئے, ہمارے کھائے جانے والے جانوروں کے گوشت میں پائی جانے والی گھٹلیوں گانٹھوں یا گلینڈس کو کھانے سے پرہیز لازمی ہے۔ قریش برادری کے قصائی پیشے سے منسلک افراد کو, ان چیزوں کا نہ صرف بخوبی علم ہوتا ہے بالکہ وہ جانور کاٹتے وقت ان ٹیومر زد گانٹھوں گھٹلیوں کو نکال پھینک دیا کرتے ہیں۔یہاں تک کہ گھر گرہستن کی تجربہ کار ماں بہنیں بھی, گھر میں آئے بیل بھینس بکری کے گوشت کو پکانے سے قبل,صاف کرتے چھوٹے ٹکروں میں کانٹے ہوئے,
گوشت کے بیچ پائی جانے والی ان گھٹیلوں, گانٹھوں پر مشتمل سقم زد ٹیومر کو کانٹ پھیکا کرتی ہیں۔ اسی نبست سے مسلمانوں کے قرآن مجید میں تک,انکے عقل و فہم ادراک کی تعریف کئےگئے لقمان حکیم نے, انسانی اندرون جسم, کسی خاص اعضاء کمزوری یا سقم کی صورت, بھیڑ بکری ہرن بارہ سنگھے کی جوان نسل کے,اسی خاص حصہ کو مکرر کھائے, انسانی جسم اس مخصوص عضو کو تقویت دیتے شفایاب ہوتے بتاتے پایا گیا ہے۔
امریکہ میں ایک ریسرچ پیپر چھپا ہےمیڈیکل مافیا نے کینسر کی تشخیص کے لئے جتنے بھی ڈایوگنیسٹک طریقے ایجاد کئے ہیں وہ دراصل کینسر کی تشخیص کے نام پر قدرت کے انسانی جسم ایمیون سسٹم کی طرف سے کینسر جیسی بڑی بیماریوں والے خلیات کو جسم کے کسی ایک حصے میں مخصوص گھٹلیوں یا گلینڈس یا ٹیومر کی شکل جو محفوظ رکھے ہوئے ہوتے ہیں, ان گلینڈس یا ٹیومر کے اندرونی مادے کی تشخیص کے بہانے,انہیں چھیڑ کر, یا اس میں آنجیکٹ کئے, بایوپسی ٹیسٹ, یا جینیٹک یا جینومک ٹیسٹ کے لئے,شہر کی,یا ملکی مرکزی لیبارٹری میں بھیج تو دیا جاتا ہے نیز سی ٹی اسکین, ایم آر آئی, ایمیجنگ اسکین, پیڈ اسکین یا فیبرو اسکین کے لئے ان گلینڈس کو مسلسل چھیڑتے ہوئے,
اس کے اندر ہمارے جسمانی خود مدافعتی ایمیون سسٹم کی طرف سے گلینڈس کے اندر محفوظ رکھے گئے کینسر کے خلیات کو غیر ضروری طور چھیڑتے ہوئے,ان کینسر سیلز کو پورے جسم کے اندر, دوڑنے آزاد کیا جاتا ہے۔ لیبارٹری سے پندرہ بیس دن بعد رپورٹ آنے سے پہلے, انجیکٹ کئے سوراخ سے, کینسر سیلز کو پورے جسم میں پھیلائے,میڈیکل مافیا کے لئے وہ مریض ایک پوٹینشل گراھک کے طور سامنے لانا مقصود ہوتا ہے ۔
یہ بات کینسر مریضوں کے رشتہ داروں کے علم میں بخوبی آگئی ہوگی کہ مریض اچھا بھلا چل پھر رہا ہوتا ہے کہ کینسر ہے یا نہیں تشخیص کے لئے مختلف ٹیسٹ کئے جانے کے بعد ہی, رپورٹ انے پر پتہ چلتا ہے کہ کینسر آخری اسٹیج پہنچ چکا ہوتا ہے۔ بعض دفع تو مریض کو کینسر سقم ہے بھی کہ نہیں لیبارٹری رپورٹ آنے سے پہلے کینسر کے خلئے, پورے جسم میں تیزی سے پھیلنے ہوئے مریض انتقال بھی پاچکا ہوتا ہے۔
ہمارے آس پاس اپنے رشتہ داروں کی بڑی بوڑھی نساء کی گردن پر جھولتا گلینڈ ہم میں سے اکثر لوگوں نے دیکھا ہوگا یا گاؤں کے باہر غرباء کی بستیوں میں, بڑی بوڑھی عورتوں کی گردنوں پر جھولنے والا یہ گلینڈ یا مرد آہن کی ہتھیلیوں پاؤں کے پٹھوں پر یا کمر پر پائے جانے والا گلینڈ دراصل اس انسان کے اندرونی قدرتی ایمیون سسٹم کے, اس کے جسم میں موجود کینسر جیسے مہلک اسقام کے خلیات کو قید کئے رکھے, وہ گلینڈس ہوتے ہیں جو عموما” انسانی زندگی کے لئے نقصان دہ تو نہیں ہوتے,لیکن بیرونی دکھائی دینے والی جگہوں پر نکل آئے گلینڈس انسانی شبیہ کے لئے اچھے نہیں لگتے ہیں۔
اسی لئے ان سے نجات کے لئے, انگرئزی ادویات ڈاکٹر کو بتانے پر, اسے آپریشن کئے نکالے جاتے, ڈاکٹروں کی لغزش سے اس کے اندرونی خلیات, جسم میں دوڑتے خون میں شامل ہوجاتے ہیں تو پھر کچھ دنوں بعد کینسر سقم کھل کر سامنے آجانا ہے اور اگر ان گلینڈس کو یونہی چھوڑ بھی دیا جائے تو انسان دنیوی زندگی تکمیل بعد اپنے ساتھ,اسے قبر میں لئے چلا جاتا ہے۔اس لئے بڑھاپے میں ایسے گلینڈس یا ٹیومر سے نجات کی کوشش انسانی جسم میں دبی یا دبائے رکھے گئے کینسر خلیات کو آزاد کئے, کینسر جیسے موذی سقم کا شکار بن تڑپ تڑپ دم توڑنا پڑتا ہے۔
عالمی دواساز مافیا جن قدرتی اغذیہ پروُکٹ کو ایکسٹرا ورجن صاف ستھرا کئے, صحت یابی کےنام پر,حد سے زیادہ اشتہار بازی, کثیر رقم خرچ کئے, ہم انسانون کو کھانے مجبور کرتے ہیں,دراصل وہ تمام ایکسٹرا ورجن مصفی اغذیہ جیسے انسانی قلب کے انتہائی محفوظ بتائے گئے پالمولیں تیل ہی,دراصل انسانی صحت بگاڑ کی اصل وجہ بتائے جاتے ہیں۔
انسانی صحت کےلئےمفید بعض آم و امرود انناس پپیتے جیسے فروٹ یا اصلی گھی حد سے زیادہ مقوی اغذیہ پروٹینیٹیڈ بتائے اور بکرے کا گوشت انگرئزی ادویات ڈاکٹروں کی طرف فربہ مائل نقصان دہ بتائے اور اسکے بدل کے طور وھائیٹ میٹ فارمی مرغی کا گوشت کھانے, اور ہائیلی مصفی انسانی قلب دوست بتائے, ترغیب دیئے گئے ایکسٹرا ورجن پالمولین تیل, دراصل یہی انگرئزی ادویات مافیہ کی طرف سے ہم صحت مند انسانوں کو سازشتا” سقم زد کئے,ان انگرئزی ادویات ڈاکٹروں کے لئے, ایک اچھا پروفیٹیبل پروڈکٹ بنائے ہمیں مستقل لوٹا جاتا ہے۔
عالمی معیار کے اعلی تعلیم یافتہ ڈائیٹیشین ڈاکٹر عموما” سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی صحت کو متوازن رکھنے کے لئے, ہر اعتبار کے پالمولیں تیل,سفید چمکتی ذراتی شکر اور تمام اقسام کے بیکری پروڈکٹ اور سوپر مارکیٹ شیلف لائف بڑھانے تیار کئے گئے پیکڈ یا ڈبہ بند کھان پان, انسانی صحت فربہ مائیلی کے لئے نقصان دہ ہوا کرتے ہیں ہاں البتہ تازہ قدرتی اُغذیہ تمام اقسام کی سبزیاں ترکاری پھل فروٹ یہاں تک کے خالص گھی بھی معقول مقدار انسانی صحت عامہ نقصان کا باعث نہیں بنا کرتے ہیں۔بنگلہ دیشی ڈائیٹیشین جہانگیر تو یہاں تک کہتا ہے کہ پیسے اور وقت بچانے کے چکر میں,انتہائی پرفریب فاسٹ فوڈ آسانی سے دستیاب صنعتی اغذیہ کھانے اور بعد میں طبیعت بگڑنے پر ڈاکٹروں شفاخانون کے چکر کاٹتے خرچ کی جانے والی رقوم سے, ذرا مہنگے تازہ سبزی ترکاری پھل فروٹ یہاں تک کہ مہنگے ترین اصلی گھی کو بلا جھجک کھایا جائے اور اپنی صحت کو بگڑنے سے آمان میں رکھا جائے
یہاں ہم قدرت کے ہمیں عطا سائینسی اعتبار پرپیچ مشینوں سے بھی پرپیج ہمارےانسانی جسم کو تندرست و توانائی سے بھرپور رکھنا گر ہم چاہتے ہیں تو ایک مومن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اپنے خاتم الانبیاء رحمت العالمین محمد مصطفی ﷺ کےعمل کر دکھائے سنت عمل,ایک تہائی پیٹ ثقیل اغذیہ,ایک تہائی پیٹ مشروب اغذیہ اور ایک تہائی پیٹ کو کھائی گئی اغذیہ کو پیٹ کی آنتوں میں انتہائی اطمینان سے گھوم گھوم صحیح ہضم ہونے دینے کے لئے,خالی رکھناضروری ہوتا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ, کھان پان کا وقت, چونکہ صبح نماز بعد مومن مسلمان کے لئے,دن کی شروعات ہوجاتی ہے اس لئے سورج نیزہ دو نیزہ اوپر چڑھتے وقت, اشراق وچاست درمیان خوب سیر ہو ناشتہ کرنا انسانی جسم کے ساتھ دماغی کیفیات بہتری کے لئے اچھا ہوتا ہے۔دوپہر کا کھانا صلاة ظہر سے پہلے یا فورا” بعد کھانے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ یونانی و ایورویدک اطباء کے یہاں دوپہر کا کھانا زوال شمس سے پہلے صحت افضاء ہوتا ہے
اور انسان کو ممکنہ ہونے والے بڑے اسقام سےنجات کا سبب بنتا ہے چونکہ اسلامی اقدار میں غروب شمس کے بعد شب کی شروعات ہوجاتی ہے اس لئے کم و بیش شام چھ سے صبح چھ تک بارہ گھنٹہ دورانیے کو چار حصوں میں تقسیم کئے, پہلے حصہ کے اختتام شب نو بجے سے پہلے صلاةعشاء تک تمام دنیوی ضروریات سے فراغت بعد,بستر کی کروٹوں کے درمیان مائل آغوش نیند خود کو پانا,بہترین عمل بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار غروب آفتاب سے پہلے ہلکے کھان پان والے عشائیے سے فراغت ضروری ہوتا ہے۔ یہی کچھ نصف صد سال قبل ہمارے آباء و اجداد کو ہم نے غروب آفتاب سے قبل شب کے کھانے سے فراغت پاتے, عمل پیرا ہوتے پایا ہے۔ دوسرے اور تیسرے پہر والی شب کو تو ہمیں دنیا و مافیہا سے بے خبر آغوش نیند ہونا چاہئیے
اور پھر آخری شب نیند سے بیدار ہوئے, خدا کی بندگی حمدوثناء و صلاة تہجد کو مومن مسلمانوں کےلئے,اپنے پروردگار سے قربت کا ذریعہ بتایا گیا ہے, جیسے ہر اشیاء کے ماپ تول پیمانے وضع کئے گئے ہیں اسی اعتبار سائینسی اعتبار, نیند کا جو پیمانہ وضع کیا گیا ہے اس اعتبار سے شب کے پہلے پہر والے تین گھنٹہ نیند کو تین گھنٹہ نیند ہی جہاں قرار دیا گیا ہے وہیں دوسرے اور تیسرے پہر والی شب نو سے علی الصبح تین بجے تک والے چھ گھنٹہ گہری نیند کو دیڑھ گنا یا دوگنا یعنی نویا بارہ گھنٹہ نیند برابر بتایا گیا ہے اور آخری پہر شب علی الصبح تین سے چھ گھنٹے والی نیند بھی تین گھنٹہ ہی شمار کی جاتی ہے
۔ہاں البتہ طلوع سورج بعد سے غروب سورج درمیان والے بارہ گھنٹہ میں نیند میں گزارے وقت کو نصف وقت نیند شمار کیا جاتا ہے مطلب اگر ہم میں سے کوئی پوری رات شب گزاری توضیع وقت کئے طلوع سورج سے غروب سورج تک پورا دن بارہ گھنٹے سوتے گزارتا ہے تو گویا اس نے سائینسی اعتبار بارہ گھنٹہ کا نصف وقت ہی نیند کے اثرات خیر و فیوض کو پایا ہے جبکہ مومن مسلمان کا شب کی دوسری پہرسےتیسری پہر آخر تک چھ گھنٹہ گہری نیند سونے والے پورے نو سے بارہ گھنٹے نیند کے مزے لوٹنے کے فیوض و برکات لوٹ رہے ہوتے ہیں ویسے عام طور دکھنے میں تو یہ معمولی عام سا عمل نظر آتا ہے لیکن سائینس تجزیات ہمیں بتاتے ہیں کہ رات کی نیند میں دماغ کو جو بحالی اور آرام ملتا ہے، وہ دن کی روشنی میں آرام کرنے سے نہیں ملتا۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے دماغ کا قدرتی حیاتیاتی نظام سرکاڈیم اور گہری نیند کے دوران ہونے والے مخصوص عمل ہیں۔
رات کی نیند کیوں ضروری ہے؟
سائنسی حقائق زہریلے مادوں کی صفائی گلمپیتھیٹک سسٹم ہوتا ہے تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ رات کو گہری نیند کے دوران دماغ کے خلیات سکڑ جاتے ہیں، جس سے دماغ کا قدرتی نکاسی نظام فعال ہو جاتا ہے۔ یہ نظام دن بھر کے جمع شدہ زہریلے مادوں جیسے بیٹا_ امائلائیڈ، جو ڈیمنشیا کا باعث بن سکتے ہیں, کو دھو کر باہر نکال دیتا ہے، جو دن کی روشنی میں ممکن نہیں ہوتا۔
شب کی تاریکیوں میں دماغی خلیات مالیکیولر کی مرمت اور نشوونما ہوتی ہے اور یادوں کی تشکیل تقویت میموری کنسولیڈیشن دی جاتی ہے۔ دن کی روشنی اور جاگنے کی حالت میں دماغ مسلسل معلومات کو پروسیس کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اسے بحالی کے لئے وہ مخصوص کیمیائی ماحول نہیں مل پاتا ہے۔
دن کی روشنی ہمارے جسم کو بیدار رکھنے والے ہارمونز جیسے کورٹیسول خارج کرنے کا اشارہ دیتے ہیں، جبکہ اندھیرا قدرتی طور پر نیند کے ہارمون (میلاٹونن) کی پیداوار بڑھاتا ہے۔ اس حیاتیاتی توازن
سرکاڈیم رھائم کے بغیر دماغ کو مکمل آرام نہیں ملتا ہے۔بیکار شب گزاری کرنے والے انسان عموما” بڑی عمر تک پہنچتے ہوئے عقل و فہم ادراک سے عاری ہوا کرتے ہیں۔اس لئے بحیثیت مسلمان مومن ہونے کے ناطے ہمیں اپنے انبیاء کی بتائی آسمانی ہدایات, نبوی باتوں پر یقین کامل کئے جاتے حتی المقدور دینی احکامات عمل آوری کی کوشش کرنی چاہئیے اور توضیع وقت شب گزاری سے پرہیز بھی کرنا چاہئیے۔ عالم انسانیت کے تمام اطباء, شباب قوم و ملت کے شب گزاری کئے, دن ڈھلے تک سوئے رہنے سے ہونے والے انسانی جسم تغیرات نقصان کی آگہی دیتے پائے جاتے ہیں عالم انسانیت کے جدت پسند ملک امریکہ یورپی شہروں میں جہاں,ایسےلاابالی نوجوان نسل کے لئے, شہر کے کسی خاص رونق افروز علاقوں میں جوئے خانے اور شب کی محفلیں سجانے کے مواقع رات بھر کھلے رکھے جاتے ہیں,
وہیں گنجان آنسانی آبادیوں والے رہائشی علاقوں میں، شب کی پہلی پہر نو بجے بعد, شور و غوغا، ھلا گلا، یہاں تک کہ ان رہائشی علاقوں میں گاڑی کا ہارن بجانے تک کی ممانعت پائی جاتی ہے جسکا انتباہ سڑک کنارے کھمبوں پر آویزاں بورڈ تحریروں سے کیا جاتا ہے اور اپنےگھروں کی بند دیواروں میں بھی, ڈی جے بڑی آواز سے بجا, پڑویسیوں کی نیند میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف, تادیبی کارروائی کی جاتی ہے ایسے جدت پسند عصری تہذیب یافتہ دور میں بھی, ممبئی حیدر آباد بنگلور سمیت ملک کے ہر بڑے شہروں کے مسلم علاقوں والے بازاروں میں, دیر رات گئے تک کھلے ہوٹل وچائے خانے اور پارکوں کو عیش کدوں میں تبدیل کئے مسلم نوجوانوں کے شب گزاری کے مواقع, آخر کیوں مسلم امہ برداشت کئے ہوئے ہیں۔
نیز عصری دنیا کے شہروں سے متصل شاہراہ ہائی ویز پر کھلے رکھے جانے والے کوفی قہوہ گھروں میں; مسلم مرد و نساء کا جم غفیر آخر کیا بتاتا پایا جاتا ہے؟ کہ عالم انسانیت کی سب سے مہذب,دیں اسلام پر عمل پیرا قوم کے شباب,مرد و نساء آج عالم انسانیت کی سب مہذب بگڑی قوم ہیں۔ ایک اور چلن طلبہ کلیہ و جامعات کا, شہر خموشاں سے دور ہائی پر بنے ٹول ناکا تک چاء نوشی کے لئے لونگ ڈرائیو پر مسلسل جاتے ہوئے, مہینے دو مہینوں میں یا سال میں ایک دو دفعہ ہی صحیح, شب کی تاریکیوں والے پس منظر میں, تیزی تر رفتار دوڑتی ٹرک و بسزکی آنکھوں کو چکا چوند کرتی روشنیوں میں, دوپہیہ سوار یا مخمور آنکھوں سے کار چلاتے شباب قوم طلبہ کے حادثات کا شکار ہوتے
, انکے گھر و قوم پر گزرتی قیامت صغراء پر,کچھ وقت احساس بعد, تادیر ایسے بے موقع چاء نوشی کا بہانہ بنائے طلبا کے لونگ ڈرائیو مطلقا” سد باب کیوں کر نہیں کئےجاتے ہیں؟ کیا شباب قوم مسلم امہ کو اپنے ارباب حل و عقل و فہم ذمہ داران قوم و علماء کرام کے زیر اثر لایا جانا ممکن نہ رہا ہے یا علما کرام نے ایسی شب کی تاریکیوں سجائی جاتی محافل سے دانستہ نظر انداز کئے جانے کا شیوہ اپنا لیا ہے؟
یاد رہے سائینسی اعتبار ہی, بے موقع مسلسل شب گزاری کرتے آج کے شباب قوم کا ان کے اندر موجود ان کا اپنا ایمیون سسٹم گڑبڑا جاتے, انکا مستقبل انکی صحت بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے, تو کیا قوم اسکی متحمل پائی جاتی ہے؟ وما علینا الا البلاغ
انہی اقدار و اخلاق سے لبریز فی زمانہ اعلی تعلیم یافتہ شافی امراض بھگوان کا روپ لئے انگرئزی ادویات ڈاکٹر حضرات, کیسے وقتی دنیوی زندگی کے مزے لوٹنے, ان پر بھروسہ کئے مریضوں کو ڈرائے دھمکائے,اچھی صحت کی ضمانت دئیے, غیر ضروی انکا آپریشن کئے,انہیں دانستہ لوٹے, ان کے دلوں میں غیر ضروری اسٹنٹ لگائے پائے جاتے ہیں دیکھا جائے