اُمیدوں کا محور میراوطن !
پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ایک ایسی عالمی بساط کا مرکز بنا ہوا ہے کہ جہاں تاش کے پتے انتہائی احتیاط سے پھیلائے جا رہے ہیں،اس سفارتی شہر پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ ایک بار پھر دو ایسے حریفوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جن کے تعلقات کی تاریخ دہائیوں پر محیط تلخیوں، رقابتوں اور گہرے عدم اعتماد سے عبارت ہے ،لیکن پاکستان کی متحرک سفارت کاری اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے ایک مدھم سی امید ضرور ایسی پیدا کی ہے
کہ شاید اس بار بات چیت کا سلسلہ محض نشستند، گفتند، برخاستند تک محدود نہ رہے، بلکہ کسی دیرپا امن معاہدے کی صورت میں بدل جائے ،اگر ان مذاکرات کے پیچھے جاری سازشی گیم کا میاب نہ ہوئی تو امن معاہدہ ضرور ہو جائے گا۔
اگر دیکھاجائے تو اس وقت بین الاقوامی برادری توازن کی تلاش میں سر گرداں ہے، کیونکہ گزشتہ برسوں کی جنگوں اور علاقائی تنازعات نے عالمی معیشت کو ایک ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں اب کسی نئی مہم جوئی کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے،اب انسانی بقا کا سوال محض اخلاقی نہیں، بلکہ معاشی بن چکا ہے ،اس تناظر میں پا کستان کی ثالثی میں روس اور چین کی جانب سے تعمیری کردار ایک مثبت پیش رفت ہے،
جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب مشرق وسطیٰ اور خلیج میں استحکام کی اہمیت کو تسلیم کر چکی ہیںاور خطے میں قیام امن کی نہ صرف خواہاں ہیں ، بلکہ قیام امن میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے بھی تیار ہیں۔
اس خطے میں قیام امن کیلئے سفارتی میدان میں پا کستان کا کردار بڑا ہی نمایا ہے، اس سفارت کاری کی بساط پر جہاں ایک طرف امن کی چالیں چلی جا رہی ہیںتو دوسری طرف کچھ ایسے ”بگاڑنے والے” (Spoilers) بھی متحرک ہیں، جو کہ مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، گزشتہ دنوں خلیج عمان میں ایران کے تجارتی جہاز پر امریکی قبضے کا واقعہ، اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے،
اس طرح کے جارحانہ اقدامات ، اس نازک اعتماد کی عمارت کو گرا دیتے ہیں ،جو کہ ثالثی کی کوششوں سے بڑی مشکل سے کھڑا کیا جاتا ہے، اس واقعے پر تہران میں پیدا ہونے والا ارتعاش فطری ہے، اس نے ہی ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایرانی وفد کی شرکت کو مشکوک بنا دیا ہے، لیکن پا کستان اپنے تائیں پوری کوشش کررہا ہے کہ فر یقین کو نہ صرف ایک بار پھر ایک ٹیبل پر بٹھایا جائے ، بلکہ اس کو فائنل رائونڈ بھی بنایا جائے ،اس میں کتنی کا میابی ملتی ہے ، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
یہ وقت زیادہ دور نہیں رہا ہے،امریکی میڈیا کے مطابق، واشنگٹن سے وفد اسلام آباد کے لیے اڑان بھر رہا ہے ، اس پورے بحران میں بدھ کا دن کلیدی اہمیت کا حامل ہے ،کیونکہ اس روز جنگ بندی کی میعاد ختم ہو رہی ہے اور صدر ٹرمپ نے پہلے ہی دھمکی لگادی ہے کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو پھر جنگ ہو گی ،
ایران بھی بھر پور جوابی کاروائی کیلئے تیار ہے ،اس پرمعاشی ماہرین کا انتباہ فکر انگیز ہے؛ اگر خلیج فارس میں کشیدگی کے بادل نہیں چھٹتے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بے قابو ہو جائیں گی، اس کا براہِ راست اثر عالمی افراطِ زر (Inflation) پر پڑے گا اور اس میں 2 سے 3 فیصد تک مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
اس خطے میں بد امنی کے باعث محض تیل کی قیمتوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی سپلائی چین کی بقا کا بھی معاملہ ہے، اگر نیا معاہدہ طے نہیں پاتا تو بحری انشورنس کے اخراجات اور طویل متبادل راستوں کی وجہ سے عالمی تجارت کو روزانہ اربوں ڈالر کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا، ان سنگین حالات میں پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ رابطہ ایک خوش آئند پیغام ہے کہ اسلام آباد اب بھی مکالمے کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے اور اس مذکرات کے دوسر رائونڈ میں شمو لیت پر ٖغور و فکر کررہا ہے،
امر یکہ اور ایران ایک دوسرے پر مذاکرات سے قبل دبائو بڑھا رہے ہیں اورپاکستان کرائسز مینجمنٹ کی پوزیشن میں جارہاہے ،وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے تہران اور واشنگٹن کو ایک میز پر لانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں،کیونکہ اس خطے میں جنگ کا مطلب سب کی ہی تباہی ہے،اس لیے صدر ٹرمپ سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ مذاکرات کا میاب ہو نے تک جنگ بندی قائم رکھی جائے ،اس پر صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں تو سیع کردی ہے، جو کہ ایک اچھا اقدام ہے۔
اس بات کی تاریخ گواہ ہے
کہ’دبائوکی سیاست نے کبھی پائیدار حل فراہم نہیں کیا ہے، بلکہ اس نے ہمیشہ دشمنی کی چنگاریوں کو الاو میں ہی بدلا ہے ،ایک پائیدار حل کا راز ”بقائے باہمی” اور برابری کی بنیاد پر کیے گئے مذاکرات میں ہی چھپا ہے،اس لیے ہی دنیا کی امیدوں کا محور پا کستان بنا ہوا ہے اور اسلام آباد ایک بار پھر فریقین کو ایک سنہرا موقع فراہم کررہاہے کہ اپنے تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کر نے کیلئے پلیٹ فارم دیے رہا ہے،، لیکن یہ اب واشنگٹن اور تہران پر ہی منحصر ہے کہ وہ اپنی انا کی دیواریں گرا کر عالمی معیشت اور انسانیت کے وسیع تر مفاد میں کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں یا ایک بار پھر دنیا کو غیر یقینی کی آگ میں جھونک دیتے ہیں۔