حکمران کی نگاہ سے اوجھل سیلاب زدگان !
حکمران کی نگاہ سے اوجھل سیلاب زدگان ! ملک بھر میں سیاست کا بازار خوب گرم ہے،مریم نواز کے جانے سے لے کرنواز شریف کی واپسی تک خوب بحث ہو رہی ہے،ایک طرف ڈالر کی بلند پروازی قابو کرنے پر اسحاق ڈار
تازہ ترین
حکمران کی نگاہ سے اوجھل سیلاب زدگان ! ملک بھر میں سیاست کا بازار خوب گرم ہے،مریم نواز کے جانے سے لے کرنواز شریف کی واپسی تک خوب بحث ہو رہی ہے،ایک طرف ڈالر کی بلند پروازی قابو کرنے پر اسحاق ڈار
بھٹہ مزدوروں کی آہ و بکا کون سنے گا؟ ازقلم: ایس ایم طیب بھٹہ مزدرورں کی تاریخ پاکستان کی تاریخ سے بھی پرانی ہے، ان کی جدوجہد کااحاطہ کیاجائے تو ایک طویل فہرست سامنے آتی ہے جوکہ غلامی کی زندگی بسر
سیاسی قیادت کی دانائی کا امتحان ! تحریک انصاف قیادت نے جب سے اپنی احتجاجی تحریک کا عندیہ دیا ہے ،حکومت کی بوکھلاہٹ اپنی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے،سیاست کی اعصاب شکن جنگ میں شکست کا ڈنکا بجنے
سیاسی استحکام کیلئے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ! پاکستان جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں ہی وجود میں آیا ہے،لیکن ایک طویل عر صہ گزرنے کے بعد بھی جمہوری کلچر پروان نہیں چڑھ سکا ہے،ہماری سیاسی قیادت بظاہر
سیاست میں غیر سیاسی مداخلت کا خاتمہ ! ملک بھر میں سیاسی محاذ آرائی بڑھتی جا رہی ہے، اس سیاسی محاذ آرائی میں ایک طرف الزام تراشی کی جارہی ہے تو دوسری جانب مسلح افواج کی قیادت کو سیاست میں گھسیٹا
سیاسی تنازعات کا سیاسی حل نکلاجائے ! ُُپاکستان میں جمہوریت پسند طبقات اور سیاسی جماعتوں کا موقف رہا ہے کہ پارلیمان کی بالاستی کو ہمشیہ سے چیلنجز درپیش رہے ہیں،اس بات پرسیاسی جماعتیں بھی زور دیتی
۵ اکتوبر بین الاقوامی” سلام ٹیچرز ڈے ” صوبہ خیبر پختونخواہ میں یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اجالا مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا مجھے فکر
آزاد کشمیر کے بدقسمت سکولز “تحریر:محمد نصیر (عباسپور) “ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ کو سترہ سال مکمل ہورہے ہیں۔یہ قیامت خیز دن ستر ہزار سے زاید لوگوں کے لیے پیام اجل لے کر آیا۔ڈیڑھ لاکھ کے
بھارتی الزام تراشی کا منہ توڑ جواب ! بھارت اپنے کشمیریوں پر مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے گاہے بگاہے پا کستان پر الزام تراشیاں کرتا رہتا ہے ،ایک بار پھر بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے پاکستان
ہم بدلیں گے تو سب بدلے گا ! ملک میں عجیب وغریب صورتحال بنی ہوئی ہے ،ہر پاکستانی سو چنے پر مجبور دکھائی دیتاہے کہ آگے چل کر کیا ہونے والا ہے، یہ صورتحال ملک کے معاشی اور سفارتی معاملات کے لئے