اپنا بویا ہی کاٹناپڑے گا !
اپنا بویا ہی کاٹناپڑے گا ! یہ مکَافَاتِ عَمَل کی دنیا ہے، جو کچھ بویا جائے گا، اْسے ہی کاٹناپڑے گا، ابھی کل کی بات ہے کہ اتحادیوں نے مل کر پی ٹی آئی حکومت گرائی تھی، آج اتحادی حکومت کی باری
تازہ ترین
اپنا بویا ہی کاٹناپڑے گا ! یہ مکَافَاتِ عَمَل کی دنیا ہے، جو کچھ بویا جائے گا، اْسے ہی کاٹناپڑے گا، ابھی کل کی بات ہے کہ اتحادیوں نے مل کر پی ٹی آئی حکومت گرائی تھی، آج اتحادی حکومت کی باری
خوشی کامفہوم جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں کا کیا بھاؤ لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: کیلے 100 روپے درجن اور سیب150 روپے کلو۔اتنے میں ایک عورت
ماضی کے تجربات اور مستقبل کے خدشات ! پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے جو ارکان جو ڈی سیٹ ہوئے تھے، ان کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا ہنگامہ برپا ہے،مسلم لیگ( ن) اورپی ٹی آئی ان انتخابات میں
پاکستان کا خاص عام(آم) شیریں پریشم (ابوظبی) کبھی کبھی بہت سے موسم بس ایسے ہی گزر جاتے ہیں اور بہت لمبا عرصہ جیسے ٹھہر سا جاتا ہے اور کبھی کبھی کچھ موسم بہت کم وقت میں اپنا بہت گہرا اثر چھوڑتے
اک تعارف فرہاد احمد فگارؔ،مظفرآباد،آزاد کشمیر فرہاد سب صحابہ میرے سینے کا پھول ہیں نسلِ علی میں ہونے سے ہی میری شان ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اے لوگو!ہم نے تمھیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا
انتخاب کاحق نہ چھینا جائے اس وقت ملکی سیاست میں ضمنی انتخاب کا زور اور دھاندلی کا شور ہے ،اتحادی حکومت کا دعوایٰ ہے کہ شفاف الیکشن کے ذریعے بھاری اکثریت سے جیتے گی ،جبکہ اپوزیشن قیادت کا کہنا ہے
سیاسی استحکام سے معاشی استحکام پاکستان کے سیاسی ومعاشی حالات کوئی زیادہ اچھے نہیںہیں،ہمارے سروں پرسری لنکا جیسے خطرات منڈلا رہے ہیں،ایک طرف انتخابا ت کا شور ہے تو دوسری جانب حکومت آ ئی ایم ایف
دودھ نہیں سفید زہر تحریر: سعید احمد بھٹی پنجاب فوڈ اتھارٹی لگثری دفاتر لگثری گاڑیوں کے مزے لینے میں مصروف دوسری طرف ملاوٹ شدہ غذائی اجناس کی بھرمار ہے فوڈ اتھارٹی کے اہلکار صرف لائسنس چیک کرنے تک
بے لگام سیاسی کارکنان تحریر: اکرم عامر سرگودھا فون: 03008600610 وٹس ایپ:03063241100 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی، کل کے حریف سیاستدان مفادات کی خاطر حلیف بن جاتے ہیں
الزام تراشی کی بجائے اعتماد سازی حکومت اور اپوزیشن قیادت مفاہمت کی بجائے انتشار کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد سازی کی بجائے الزام تراشی کی جا رہی ہے، اس طرح کے رویوں کا