اپنی اولاد کو عصری علوم کے ساتھ قرآن فہمی کی تعلیم بھی دیں
نقاش نائطی
. 00919448000010
ہم مسلمان اپنے ایمان و عقیدے کے اعتبار سے، رزق و موت، بعد از موت کی زندگی، عالمِ برزخ، روزِ محشر اور ہمیشہ باقی رہنے والی جنت و جہنم پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ اسی ایمان کے تقاضے کے تحت,ہم میں سے بہت سے لوگ, اپنی اخروی زندگی کی کامیابی، عالمِ برزخ میں راحت، روزِ قیامت سرخروئی، جہنم سے نجات اور جنت کے اعلیٰ درجات کے حصول کے لئے اپنی بساط بھر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
لیکن آج کے دور میں ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہماری ایک بڑی تعداد،اپنی اور اپنی اولاد کی دنیوی کامیابی، تعلیم، روزگار اور مستقبل کی فکر میں اس قدر مصروف ہوچکی ہے کہ آخرت کی فکر اور قرآنِ مجید کی تعلیمات ہماری ترجیحات میں پیچھے ہوتی جارہی ہیں۔ ہماری اولاد عصری علوم، جدید ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور سائبر دنیا سے تو مسلسل جڑی ہوئی ہے، لیکن بہت سے بچے قرآنِ مجید کے پیغام، اس کے احکام اور اس کی عملی رہنمائی سے ناواقف ہیں۔
یہ صورتِ حال ہم سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی اولاد کو صرف عصری تعلیم ہی نہ دیں، بلکہ انہیں قرآن فہمی، قرآنی احکام اور اسلامی اخلاق و کردار سے بھی وابستہ کریں۔ انہیں قرآنِ مجید کی طرف متوجہ کریں اور یہ احساس پیدا کریں کہ قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ ہماری پوری زندگی کے لئے، ہدایت، رہنمائی اور کامیابی کا دستور ہے۔
قرآن فہمی کی ایک قابلِ قدر کوشش
اسی مقصد کے تحت جنوبی ہند کے معروف شہر اڈپی میں میں موجود دار الہدیٰ نسلِ نو کو قرآنِ مجید سے جوڑنے کی ایک قابلِ قدر کوشش سامنے آئی ہے۔
دکتور پرویز احمد ناخوا عمری مدنی حفظہ اللہ، جو دارالہدیٰ اڈپی کے چیئرمین، اور محترم خطیب جاوید احمد عمری، جو گزشتہ تقریباً دس پندرہ برس سے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ اوقاف سے وابستہ علمی مصروفیات میں رہے ہیں،
کی علمی کوششوں کے نتیجے میں عصری علوم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے، قرآن فہمی پر مشتمل تین اہم کتابیں نہ صرف مرتب کی ہوئی ہیں۔بالکہ اس کتابوں کے متخصص قاری مختلف درجاتی طلبہ سے، آن لائن روابط و انکی مناسب رہنمائی کے لئے،قرآن فہمی ویب سائیٹ کے اجراء کا اہتمام بھی کیا ہوا ہے۔
اسی سلسلے میں شہر بھٹکل کے معروف ادارے مکتب ابن حجر العسقلانی میں علماء اور متعلقین سے ملاقاتیں ہوئیں، جہاں نسلِ جدید کو قرآنی علوم سے جوڑنے اور ان تینوں کتابوں کے تعارف و اجراء کے سلسلے میں گفتگو ہوئی۔
بعد ازاں مختلف علماء و احباب کے ہمراہ اڈپی میں منعقدہ تقریب میں شرکت ہوئی۔ منگلور اور بھٹکل سے تعلق رکھنے والے منتخب علماء، عمائدینِ شہر، مسلم تاجروں اور دیگر مدعوین کی بڑی تعداد اس مجلس میں شریک ہوئی۔
اس موقع پر تینوں کتابوں کا باقاعدہ اجراء علماء کرام اور معزز حاضرین کے ہاتھوں عمل میں آیا اور کتابوں کا مکمل مجموعہ حاضرین میں ہدیۂ طور پر پیش کیا گیا۔
🔰 تین کتابوں پر مشتمل قرآن فہمی کا کورس
اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ قرآن فہمی کو عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مختلف تعلیمی مراحل کے مطابق تین درجات میں تقسیم کیا گیا ہے:
1. قرآنی پھول — ابتدائی سطح کے طلبہ کے لئے
2. قرآن کے موتی — ثانوی سطح کے طلبہ کے لئے
3. آیات القرآن — اعلیٰ اور کلیاتی سطح کے طلبہ کے لئے
اس طرح طالب علم اپنی عمر، تعلیمی سطح اور ذہنی استعداد کے مطابق، قرآنِ مجید کے منتخب مضامین، آیات، احکام اور قرآنی پیغامات سے استفادہ کرسکتا ہے۔
📝1. قرآنی پھول
یہ کتاب بالخصوص مسلم بچوں کے لئے مرتب کی گئی ہے۔ اس میں قرآنِ مجید کے 234 منتخب قرآنی جملے اور عبارات شامل ہیں، جنہیں آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے تاکہ بچے انہیں پڑھ سکیں، یاد کرسکیں اور ان کے مفہوم پر غور کرسکیں۔
ان قرآنی پھولوں کے ذریعے بچوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، رحمت، مغفرت، مہربانی اور دیگر صفات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ اسی طرح انبیائے کرام، آسمانی کتابوں، قرآنِ مجید کی ہدایت، اللہ تعالیٰ کے احکام اور ان کاموں سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
طلبہ کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کم از کم ایک قرآنی پھول پڑھیں، اس کے مفہوم پر غور کریں اور اپنی روزمرہ زندگی میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
ہر دس پھولوں کے بعد QR Code کے ذریعے مختصر کوئز میں شرکت کی سہولت رکھی گئی ہے۔ اس طرح کتاب میں مجموعی طور پر 22 نکات احتساب Checkpoints رکھے گئے ہیں۔ تمام 234 پھول مکمل کرنے اور متعلقہ کوئزز میں کامیابی کے بعد،طالب علم کو تکمیلِ مطالعہ کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
📝2. قرآن کے موتی
یہ کتاب مسلم نوجوانوں کے لئے خصوصی طور پر مرتب کی گئی ہے۔ اس میں قرآنِ مجید کی 365 منتخب آیات شامل ہیں۔
ہر موتی ایک اہم قرآنی پیغام، جملے یا آیت پر مشتمل ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کے قرآنِ مجید کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت، ایمان، محبت، توکل اور اطاعت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
ان آیات کے ذریعے رحمت، مہربانی، مغفرت، حکمت، عدل اور دیگر اعلیٰ اخلاقی صفات کے قرآنی تصورات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ، آسمانی کتابوں، آخرت، دنیا و آخرت کی کامیابی اور انسانی زندگی کے اہم مقاصد سے متعلق رہنمائی بھی حاصل ہوتی ہے۔
طالب علم کو روزانہ کم از کم ایک موتی یعنی ایک آیت پڑھنے، اس کا مفہوم سمجھنے، اس پر غور کرنے اور اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
ہر دس آیات کے بعد QR Code کے ذریعے ایک مختصر کوئز رکھا گیا ہے۔ اس کتاب میں 36 نکات احتساب Checkpoints کے ذریعے طلبہ کی پیش رفت اور فہم کا جائزہ لینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ 365 آیات کے مطالعے اور متعلقہ کوئزز کی تکمیل کے بعد سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
📝3. آیات القرآن
یہ کتاب قرآنِ مجید کے ساتھ غوروفکر، فہم اور عملی تعلق پیدا کرنے کے لئے مرتب کی گئی ہے۔
اس میں 501 منتخب قرآنی آیات شامل ہیں، جن کا انتخاب قرآنِ مجید کی رہنمائی، ایمان، کردار، عبادت، انسانی تعلقات، ذاتی ذمہ داری، آخرت اور زندگی کے مقصد جیسے اہم موضوعات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
اس کتاب کا مقصد محض آیات کی تلاوت نہیں بلکہ ان کے پیغام کو سمجھنا، ان پر غور کرنا اور ان کی تعلیمات کو اپنے خیالات، فیصلوں اور اعمال کا حصہ بنانا ہے۔
قاری کو روزانہ کم از کم ایک آیت پڑھنے، اس کے مفہوم پر غور کرنے اور یہ سوچنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اس آیت کی ہدایت کا، اس کی اپنی زندگی سے کیا تعلق ہے؟ اور وہ اس کی تعلیمات پر کس طرح عمل کرسکتا ہے؟
ہر دس آیات کے بعد QR Code کے ذریعے مختصر جائزہ اور کوئز کی سہولت رکھی گئی ہے۔ اس طرح سیکھنے اور اپنی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ Learning Check points فراہم کئے گئے ہیں۔
501 آیات کے مطالعے اور متعلقہ کوئزز کی کامیاب تکمیل کے بعد، قاری کو تعریف و تکمیلِ مطالعہ کا سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔
🔰 عصرِ حاضر میں اس کوشش کی اہمیت
آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے جہاں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مختلف قسم کے فکری و تہذیبی اثرات اس کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
ایسے ماحول میں اگر ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو صرف عصری علوم تک محدود رکھیں گے اور انہیں قرآنِ مجید کی ہدایت سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ نہیں کریں گے تو ان کی علمی ترقی کے باوجود، ان کی دینی اور اخلاقی تربیت تشنہ رہ سکتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عصری تعلیم اور دینی تعلیم کو باہم مربوط کیا جائے۔ ہمارے بچے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد، سائنس دان، تاجر یا کسی بھی شعبے کے ماہر بنیں، لیکن ساتھ ہی وہ قرآن کو سمجھنے والے، اس کے احکام پر عمل کرنے والے اور اپنے کردار و اخلاق کے ذریعے اسلام کی نمائندگی کرنے والے مسلمان بھی بنیں۔
یہی اس قرآن فہمی منصوبے کا ایک اہم مقصد معلوم ہوتا ہے کہ عصری علوم کے طلبہ کو روزانہ کی بنیاد پر قرآنِ مجید سے جوڑا جائے، انہیں قرآنی پیغامات سمجھنے کی عادت ڈالی جائے اور قرآن کی تعلیمات کو ان کی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔منتخب معزز مدعو سامعین جلسہ سے، حضرت مولانا الیاس جاکٹی ندوی ،مولانا آدم صاحب، مولانا شعیب ندوی،مولانا عبدالمتین منیری اور شیخ پرویز ناخوا عمری مدنی نے اختصارا” مخاطب بھی کیا
🔰 اپنی اولاد کو عصری علوم کے ساتھ قرآن فہمی کی تعلیم بھی دیں
اس مجلس میں ایک اہم اور قابلِ توجہ بات یہ بھی سامنے آئی کہ قرآن فہمی کے اس عظیم کام کو کسی مخصوص طبقے یا محدود دائرے تک رکھنے کے بجائے، مفادِ عامہ کے پیش نظر ہر مکتبِ فکر کے طلبہ تک پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
قرآنِ مجید پوری امتِ مسلمہ کے لئے کتابِ ہدایت ہے۔ اس لئے جو بھی تعلیمی منصوبہ نوجوان نسل کو قرآن کے قریب لانے، اس کے پیغام کو سمجھانے اور اس کی عملی تعلیمات سے وابستہ کرنے میں معاون ہو، اسے وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کی کوشش ہونی چاہئے۔
🔰 تعلیمی اداروں کے لئے دعوت
مسلم معاشرے میں قائم اسکولوں، کالجوں، مکاتب اور دیگر تعلیمی اداروں کے منتظمین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو عصری تعلیم کے ساتھ قرآن فہمی کی طرف بھی متوجہ کریں۔
اس مقصد کے لئے اس تین کتابی قرآن فہمی کورس کے مرتب و ناشر محترم شیخ خطیب جاوید احمد عمری حفظہ اللہ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے:
رابطہ نمبر: 00919845966702
تعلیمی ادارے انہیں اپنے ادارے میں مدعو کرکے طلبہ سے براہِ راست خطاب کا موقع فراہم کرسکتے ہیں، تاکہ طلبہ کو اس قرآن فہمی پروگرام کے طریقۂ کار، درجات اور مقاصد سے آگاہ کیا جاسکے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو، ایسا مسلمان بنانا ہے جو ایک طرف عصری علوم میں مہارت رکھتا ہو اور دوسری طرف قرآنِ مجید کی ہدایت، احکام اور اخلاقی تعلیمات سے بھی مضبوطی سے وابستہ ہو۔
عصری تعلیم ان کے ہاتھ میں ہو، قرآن کی ہدایت ان کے دل میں ہو، اور اسلامی کردار ان کی زندگی میں نمایاں ہو۔
اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کو علمِ نافع، عملِ صالح، قرآن فہمی اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، انہیں اپنی کتاب سے سچا تعلق نصیب فرمائے اور قرآنِ مجید کو ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّه آمین یا رب العالمین ۔۔۔