پا کستان کو بیک وقت دو سرحدی محاذ کا چیلنج!

پا کستان کو بیک وقت دو سرحدی محاذ کا چیلنج!

اگر مو جودہ صورتِ حال کو دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں کہ بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں پر کیا ہو رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بیک وقت دو مختلف نوعیت کے سرحدی دباؤ کو سنبھالنے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے؟ مشرق میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کا ایک نیا واقعہ سامنے آیا ہے، جبکہ مغرب میں افغانستان کے ساتھ تنازع محض سرحدی جھڑپوں سے آگے بڑھ کر فضائی کارروائیوں، دہشت گردی کے الزامات اور جوابی اقدامات تک پہنچ چکا ہے،پا کستان کیلئے ان دونوں محاذوں کی نوعیت ایک جیسی نہیں، لیکن دونوں کا بیک وقت فعال ہونا پاکستان کے لیے سفارتی، عسکری، معاشی اور داخلی سلامتی کے اعتبار سے ایک پیچیدہ صورتحال ضرور پیدا کرتا ہے۔

 

اگرسب سے پہلے مشرقی سرحد کی بات کی جائے تو دواکتوبر کو پنجاب کے قصور کے قریب ایک واقعے میں دو پاکستانی شہری بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے ہلاک اور ایک زخمی ہو ا ہے، پاکستانی حکام اور بھارتی ذرائع نے واقعے کی نوعیت کے بارے میں مختلف مؤقف پیش کیے ہیں،پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے ،کہ شہری غلطی سے سرحدی ستون سے چند قدم آگے چلے گئے تھے، جبکہ بھارتی میڈیا میں انہیں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے افراد قرار دیا گیا ہے

،یہ واقعہ اپنی جگہ، ایک محدود سرحدی واقعہ ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی شدید عدم اعتماد کا شکار ہیں،ایک ایسے ماحول میں سرحد پر ہونے والا معمولی واقعہ بھی بڑے سفارتی اور عسکری بحران میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کا ایک اوردلچسپ پہلو ہے کہ اس دوران اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھارتی نمائندے کی شرکت بھی ہوئی ہے، پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق بھارتی سینئر اہلکار کی پاکستان آمد دو سال سے زائد عرصے کے بعد ہوئی اور دونوں جانب سے علاقائی امن، رابطوں، تجارت اور علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر بات ہوئی ہے

،ایک طرف سرحد پر کشیدگی تو دوسری طرف سفارتی سطح پر رابطہ ہو رہا ہے ، لیکن بین الاقوامی تعلقات میں یہی تضاد بعض اوقات بحران کو قابو میں رکھنے کا راستہ بھی بنتا ہے ،اگررابطے بالکل ختم ہوجائیں تو غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ذرائع بھی کم ہوجاتے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 1972 کے شملہ معاہدے میں بھی اختلافات کو پرامن ذرائع، مذاکرات اور باہمی طور پر طے شدہ طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کا اصول شامل ہے، تاہم موجودہ ماحول میں اس اصول کو عملی سطح پر آگے بڑھانا آسان نہیں ہے،

کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی، کشمیر کا تنازع اور سکیورٹی سے متعلق الزامات مسلسل چل رہے ہیں،اس میں مثبت رزلٹ کی توقع کم ہو جاتی ہے ،لیکن اس کے باجود کو شش کی جارہی ہے کہ معاملات کو بگڑنے نہ دیا جائے ،لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں دونوں ہی ہاتھوں سے بجتی ہے ، جو کہ نہیں بجائے جارہی ہے ، بلکہ دہشت گردی کی سر پر ستی کر کے اور سر حدوں پر کشیدگی بڑھائی جارہی ہے ۔
اگر مغربی سرحد کی طرف دیکھا جائے تو وہاں صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے ،پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ بحران کی بنیاد بنیادی طور پر تحریک طالبان پاکستان اور افغان سرزمین کے استعمال کے الزامات پر ہے، اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، جبکہ کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے، پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بار ہا واضح کیا ہے کہ اسلام آباد افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے سرحد پار دہشت گردی اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
اس پر افغان حکو مت سنجیدگی کا مظا ہرہ نہیں کررہی ہے ، اُلٹا پا کستان کو ہی مود الزام ٹہرا رہی ہے ، لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان افغانستان میں موجود مبینہ دہشت گرد مراکز کو نشانہ بناتا رہتاہے تو کیا اس سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کم ہوگی یا افغانستان کے ساتھ ایک طویل عسکری محاذ کھلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا؟یہ ایک ایسا مقام ہے کہ جہاں پاکستان کے لیے اصل چیلنج شروع ہوتا ہے ،اگر ایک طرف افغانستان کے ساتھ سکیورٹی بحران جاری ہو اور دوسری طرف بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی بڑھ جائے تو پاکستان کو اپنی فوجی توجہ، انٹیلی جنس وسائل، فضائی نگرانی، سرحدی انتظام اور سفارتی صلاحیت کو بیک وقت مختلف سمتوں میں تقسیم کرنا پڑتا ہے

،پاکستان کا چیلنج صرف بیرونی سرحدوں کا نہیں ،اندرونی سلامتی بھی اسی تصویر کا حصہ ہے۔
اس پر سوال پیدا ہوتاہے کہ پاکستان کے پاس راستہ کیا ہے؟پہلا راستہ دفاعی تیاری کے ساتھ سفارتی رابطوں کو کھلا رکھنا ہے ،افغانستان کے معاملے میں پاکستان خود بھی یہ مؤقف دے رہا ہے کہ وہ دوستانہ تعلقات اور مذاکرات کا خواہاں ہے، لیکن سرحد پار دہشت گردی کو قبول نہیں کرسکتا،دوسرا راستہ ہے کہ بھارت کے ساتھ سرحدی واقعات کو بڑے عسکری بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جائے ،پاکستان کی عسکری قیادت اپنامؤقف دہرا چکی ہے کہ دونوں ایٹمی ریاستوں کے درمیان جنگ کوئی قابلِ عمل راستہ نہیں اور رابطہ برقرار رہنا چاہیے ،تیسرا سب سے بنیادی چیلنج داخلی استحکام ہے، اگر بیرونی دباؤ کے ساتھ اندرونی سیاسی اور معاشی دباؤ بھی بڑھتا رہے تو قومی سلامتی کے وسائل پر بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اگر پاکستان دونوں محاذوں پر بیک وقت دباؤ کو طویل عرصے تک برداشت کرنا چاہتا ہے تو صرف عسکری طاقت کافی نہیں ہوگی، اسے مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط سرحدی انتظام، داخلی سیاسی استحکام، معاشی گنجائش اور مسلسل سفارتی رابطوں کو ایک ہی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا،کیونکہ آج کا بڑا سوال یہ نہیں کہ پاکستان کتنے محاذوں پر جواب دے سکتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کس طرح ان محاذوں کو ایک دوسرے سے جڑنے، پھیلنے اور ایک طویل علاقائی بحران میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں یہی فیصلہ کرے گا کہ موجودہ صورتحال محض دو الگ الگ سرحدی بحران رہتی ہے یا پاکستان کے لیے ایک وسیع تر علاقائی سکیورٹی چیلنج بن جاتی ہے

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *