لانگ مارچ کی دہشت

لانگ مارچ کی دہشت

جمہور کی آواز
ایم سرورصدیقی

جب سے PTIنے لانگ مارچ کااعلان کیاہے پورا ملک میں ایک ہیجانی کیفیت سے دوچارہوگیاہے لوگوںمیں خوف وہراس ہے کہ اگر PTIکے کارکن احتجاج کے لئے اسلام آباد واقعی آگئے تو پھر ماضی کی طرح ایک بارپھر وفاقی دارالحکومت کی گلیاں اورچوراہے خون سے لہولہان ہوجائیں گے کیونکہ اقتدار کے سینے میں دل نہیں ہوتاہرحکمران اپنا اقتدار بچانے کے لئے آخری حد تک جاتاہے اس کے لئے24نومبرکی مثال کافی ہوگی لیکن اگر حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ وطن ِ عزیز کسی تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا لیکن فریقین اپنے اپنے بیانئے پر ڈٹے ہوئے ہیں جس کا ادراک کرتے ہوئے

پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر کو ایک مکتوب میں کہا ہے کہ کارکنوں کی جانوں کے تحفظ،بیرونی خطرات اور دہشتگردی کے پیش نظر مارچ کو ملتوی کیا جائے کیونکہ وفاقی حکومت کچھ ایشوز کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے، افغانستان سے ممکنہ حملہ ایمرجنسی کا جواز بن سکتا،ریاست سے ٹکرائو کے بجائے مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے اسی تناظرمیں PTI کے چیئرمین بیرسٹر گوہرنے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی تو مزاحمت کریں گے PTI کا صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،4اکتوبر کے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے

جس کے جواب میںوزیر مملکت برائے قانون وانصاف بیرسٹر عقیل کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کاآئینی آپشن موجود ہے یہی خیالات و نظریات راناثناء اللہ عطا للہ ٹاڑڑ، اور محسن نقوی کے لئے جو حکومت کے خلاف لانگ مارچ کو کچلنے کا عندیہ دے چکے ہیں جبکہ وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ مذاکرات سے انکار نہیں، احتجاج سے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے،مذاکرات کیلئے PTI کو متعدد بار مواقع فراہم کئے گئے،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے

کہ صدر اور وزیراعظم نے حکم دیا تو صوبے میں گورنر راج لگ سکتا ہے، 4اکتوبر کو لانگ مارچ کی کال دینے والے مارچ نہیں کرسکتے یہ صوابی بھی کراس نہیں کرسکتے جو قانون کو ہاتھ میں لے گا ان کیخلاف ایکشن ہوگا، اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے، PTIکے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ہم نے لانگ مارچ موخر ہونے کے بعد حکومت کے لئے مذاکرات کا موقع دیااب 4 اکتوبر کا لانگ مارچ حتمی ہے، حکومت لانگ مارچ سے خوف زدہ ہے ۔ وزرا ء کے بیانات کے رد عمل میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 4اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا،اسمبلی نہیں توڑوں گا، ضرورت پڑی تو بغاوت کرینگے،

بانی کا پیغام ملا فرنٹ فٹ پر کھیلتے رہیں، لانگ مارچ کا آغاز پشاور سے ہوگا ،پہلے مرحلے میں صوابی جائیں گے اس کے بعد آگے بھی جائیں گے ہم ، ذہنی طور پر ہر قسم کے فیصلے اور حالات کیلئے تیار ہیں تاہم اگر ایمرجنسی ، گورنر راج یا کسی ایڈونچر کی کوشش کی گئی تو عوام کا ایسا ردعمل آئیگا کہ پھر کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، عوام نکلیں گے اور اپنے مینڈیٹ اور حکومت کی حفاظت کریں گے۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے سہیل آفریدی کی حکومت کو چارج شیٹ کردیا گیا ہے اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتاہے

وفاقی حکومت نے گذشتہ دو تین دنوں دنوں کے دوران خیبر پختونخوا حکومت پر اپنی تنقید میں بھی اعلانیہ شدت پیدا کرتے حالات کی سنگینی کااحساس دلایاہے۔ وفاقی وزراء مسلسل الزام عائد کررہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میںPTI حکومت نے دہشت گردی کیخلاف ٹھوس عملی اقدامات نہیں کئے وفاقی حکومت صوبہ کی صورتحال کے حوالے سے مختلف انداز سے سیاسی اور آئینی آپشنز کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اس ضمن میں آئین کے آرٹیکل 232 پر وسیع تر تناظر میں حکمت ِ عملی طے کرنے کے لئے حتمی مشاورت جاری ہے

یہ آرٹیکل پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو لاحق سنگین خطرات، بشمول ایسے داخلی خلفشار سے متعلق ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو، ہنگامی حالت کے نفاذ کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 234 بھی وفاقی حکومت کو سپورٹ کرتاہے کہ ایسے حالات سے متعلق ہے جب کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی وفاقی حکومت ایکشن لے سکتی ہے۔ شنیدہے کہ حکومت نے خیبرپی کے میں گورنرراج نافذ کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیاہے جس کے تحت سہیل آفریدی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا جبکہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ سہیل آفریدی کو ہٹا کر اپنی مرضی کاوزیر ِ اعلیٰ لایا جائے بہرحال حالات جس کروٹ بھی بدلیں ملک ، سیاست اور جمہوریت کے لئے کوئی نیک شگون نہیں کیونکہ حکومت کسی کی بھی لانگ مارچ سے لوگوںکے سماجی حالات بہترہوتے ہیں

نہ سیاسی استحکام آتاہے لیکن ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ وفاقی حکومت نے گورنر راج نافذ یا ایمرجنسی لگانے کا باضابطہ فیصلہ نہیں کیا لیکن کچھ حکومتی وزرا ء کی شدید خواہش بلکہ حسرت ہے کہ خیبر پی کے میں جلد ازجلد گورنرراج ناقذکردیا جائے صرف اسی طرحPTI کو سیاسی منظرنامے سے ہٹاای جاسکتاہے کچھ آئینی ماہرین کا کہنا کہ اگر صدر آصف علی زرداری گورنر راج کے حوالے سے اپنے آئینی اختیار کو استعمال نہیں کرتے تو معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جا سکتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صوبے میں ایسی غیر معمولی بدامنی یا امن و امان کی سنگین صورتِ حال نہیں دکھائی دیتی جو ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز بن سکے پھربھی لانگ مارچ کی دہشت وفاقی وزرا ء کے حواس پرچھائی ہوئی ہے کیونکہ ان کے دل و دماغ میں ایکشن فلمیں چل رہی ہیں آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *