پختونخوا میں گورنر راج ، کچھ بھی ہو سکتا ہے!
خیبرپختونخوا ایک مرتبہ پھر پاکستانی سیاست کا مرکز بن چکا ہے، ایک طرف صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان شدید اختلافات ہیں تو دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تیاری نے سیاسی درجہ حرارت کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ جہاں اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا خیبرپختونخوا میں واقعی ایمر جنسی ، گورنر راج نافذ ہونے جا رہا ہے، یا یہ محض سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے؟
اگر دیکھا جائے تو ایسی باتیں پہلی بار نہیں ہورہی ہیں ، تحریک انصاف جب بھی احتجاجی ریلی ، دھر نے کی باتیں کرتی ہے ، حکو مت کے وزراء ایمر جیسی اور گورنر راج لگا نے کے دعوئے کر نے لگتے ہیں ، ایک بار پھرفاقی وزیر امیر مقام نے انتہائی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں اور کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے،وفاقی وزیر کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورتحال، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بعض اقدامات اور صوبائی حکومت کی ترجیحات اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ گورنر راج ایک آئینی اور قانونی آپشن بن گیا ہے۔
کیا خیبر پختونخوا میںگورنر راج لگ سکتا ہے ؟اس ملک میں ہو نے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے ، لیکن اس سوال کا جواب سیاسی بیان سے آگے نکل کر آئینی دائرے میں داخل ہوتا ہے،پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 234 اس وقت نافذ کیا جا سکتا ہے کہ جب صدر اس رپورٹ کی بنیاد پر مطمئن ہوں کہ ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ جس میں کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی، اس صورت میں صدر صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں،اس آرٹیکل کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی پارلیمنٹ کے اختیار میں دیے جا سکتے ہیں، تاہم اس اقدام کو دو ماہ کے اندر پارلیمانی منظوری درکار ہوتی ہے اور اسے مخصوص طریقہ کار کے تحت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ محض صوبے میں بدامنی، سیاسی اختلاف یا حکومت کی ناقص کارکردگی کا الزام بذاتِ خود گورنر راج کے نفاذ کا خودکار آئینی جواز نہیں بنتاہے تو اصل قانونی سوال ہوگا کہ کیا واقعی ایسی آئینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے کہ جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق کام کرنے کے قابل نہیں رہی ہے۔ یہ ایک ایسانکتہ ہے کہ جہاں وفاق اور صوبائی حکومت کے بیانیے ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہو جاتے ہیں،اس پروفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہے،
صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی ہے اور سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ،لیکن وفاق کا مؤقف ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہا ہے ،گزشتہ دنوںوفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے واضح طور پر کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ حکو مت اپنا موقف اپنی ضرورت کے تحت بدلتی رہتی ہے،یہ تبدیلی بذاتِ خود سیاسی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے کہ چند روز پہلے جس آپشن کو وفاقی سطح پر مسترد کیا جا رہا تھا، اب حکومتی شخصیات اسی آپشن کو کھلے عام زیر بحث لا رہی ہیں، تاہم 30ستمبر تک دستیاب سرکاری ذرائع کے مطابق گورنر راج یا قومی ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہواہے، اس لیے یہ کہنا کہ گورنر راج یقینی طور پر نافذ ہونے جا رہا ہے، دستیاب شواہد سے آگے کی بات ہوگی،
جبکہ اس بیانیہ کو خیبرپختونخوا حکومت نے سختی سے مسترد کر دیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، صوبے کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کے خلاف کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بنیادی مقدمہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ صرف صوبائی حکومت کی انتظامی ناکامی نہیں ہے، بلکہ ایک وسیع تر قومی سلامتی اور پالیسی کا مسئلہ ہے ،وزاعلی کے مطابق صوبائی حکومت نے پولیس کے لیے اضافی وسائل مختص کیے ہیں، ترقیاتی بجٹ میں کمی کرکے بھی امن و امان کے لیے رقم فراہم کی گئی اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے اقدامات کیے گئے ہیں
،اس کے باوجود صوبائی حکو مت کو مود الزام ٹہرایا جارہا ہے ،اس میں صوبائی حکو مت کی کوتاہی کا نہیں ، چار اکتو بر کے لانگ مارچ کا معاملہ ہے، اس لانگ مارچ کو وفاقی حکو مت محض سیاسی احتجاج نہیں، بلکہ ریاستی نظم و نسق کے لیے چیلنج سمجھتی ہے، جبکہ تحریک انصاف اسے اپنے سیاسی اور جمہوری حقوق کے اظہار کے طور پر پیش کر رہی ہے، اگر اس دوران گورنر راج نافذ کر دیا جاتا ہے تو یہ مسئلے کا اختتام نہیں ہوگا؛ بلکہ ممکن ہے کہ یہ ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ سیاسی مرحلے کا آغاز بن جائے، کیونکہ خیبرپختونخوا میں حکومت پاکستان تحریک انصاف کے پاس ہے اور صوبائی حکومت کے خلاف وفاقی اقدام کو پی ٹی آئی اپنے سیاسی مینڈیٹ پر حملہ قرار دے گی۔
اس کے بعد معاملہ صرف اسلام آباد اور پشاور کے درمیان انتظامی اختلاف نہیں رہے گا، بلکہ یہ سوال قومی سطح پر اٹھے گا
کہ آیا آئینی اختیار کا استعمال حقیقی آئینی بحران کے حل کے لیے کیا گیا یا سیاسی تنازع کے دوران ایک منتخب صوبائی حکومت کو ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے،اس لیے گور نر راج لگانا جتنا آسان سمجھا جارہا ہے ،اتنا آسان نہیں ہے ،اس لیے ہی گورنر راج کے “تمام تقاضے پورے ہونے” کا دعویٰ وفاقی حکومت کے بعض رہنماؤں کا ضرور ہے، لیکن اس بارے کوئی حتمی آئینی فیصلہ نہیں ہوا ہے،تاہم سیاسی منظرنامہ ضرور بدل چکا ہے ،جو آپشن چند روز پہلے وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے مسترد کیا جا رہا تھا، اب وفاقی حکومت کے اہم رہنما اسے کھلے عام زیر بحث لا رہے ہیں، دوسری طرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اعلان کر رہے ہیں کہ وہ گورنر راج کی دھمکی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، جبکہ تحریک انصاف وفاق کو چیلنج کر رہی ہے کہ اگر وہ یہ قدم اٹھانا چاہتا ہے تو اٹھا کر دیکھ لے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اس وقت خیبرپختونخوا ، ایک ایسے سیاسی موڑ پر کھڑا ہے کہ جہاں اگلا بڑا قدم صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں ،بلکہ وفاق اور صوبوں کے تعلقات، آئینی بالادستی اور پاکستان کے سیاسی استحکام پر دور رس اثر ڈال سکتا ہے،اس بات کو حکو متی کا بینہ کے ساتھ فیصلہ ساز بھی سمجھ رہے ہوں گے ،اس کے بعداب آنے والے دن ہی فیصلہ کریں گے کہ یہ معاملہ مذاکرات کی میز پر ٹھنڈا ہوتا ہے، 4 اکتوبر کے احتجاج کے بعد مزید شدت اختیار کر جاتا ہے، یا واقعی آرٹیکل 234 کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے ،اس میںفی الحال ایک بات ضرور واضح ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی بحث اب محض افواہ نہیں رہی ہے، لیکن اسے حتمی فیصلہ سمجھنا بھی قبل از وقت ہوگا۔