آزاد کشمیر بحران سے حل تک
تحریر نعیم الحسن نعیم
کچھ خطے نقشے پر صرف ایک لکیر کے اندر دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے اندر پوری تاریخ سانس لے رہی ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے پہاڑوں کی خاموشی میں صدیوں کی داستانیں دریاؤں کی روانی میں نسلوں کے خواب اور بستیوں کی گلیوں میں ایک ایسے مستقبل کی امید جس کے بارے میں ہر آنے والی نسل اپنے حصے کا سوال ضرور کرتی ہے۔مگر آج سوال صرف یہ نہیں کہ آزاد کشمیر میں آوازیں کیوں بلند ہوئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ آوازیں اس مقام تک کیوں پہنچیں جہاں انہیں سننے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا پڑا؟ یہ سوال کسی ایک حکومت سے نہیں کسی ایک جماعت سے نہیں کسی ایک ادارے سے نہیں اور کسی ایک فرد سے نہیں۔ یہ سوال پورے نظامِ حکمرانی سے ہے۔
بحران اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ وہ پہلے دلوں میں جنم لیتا ہے پھر گھروں کے بجٹ میں نظر آتا ہے نوجوانوں کی بے روزگار آنکھوں میں دکھائی دیتا ہے بازاروں کی ویرانی میں محسوس ہوتا ہے اور بالآخر سڑکوں پر آ جاتا ہے۔ جب لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کی بات بار بار کہنے کے باوجود سنجیدگی سے نہیں سنی جا رہی تو احتجاج محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں رہتا وہ ایک اجتماعی بے چینی کی علامت بن جاتا ہے۔آزاد کشمیر کے حالیہ حالات کو بھی اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے
۔ بجلی آٹا مہنگائی روزگار حکمرانی نمائندگی اور آئینی و انتظامی معاملات سے متعلق مختلف مطالبات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں.مگر اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بحران کے بعد راستہ کیا ہے؟ کیونکہ صرف احتجاج ختم ہو جانا بحران کا حل نہیں۔ اگر سڑکیں خاموش ہو جائیں مگر گھروں کے اندر سوال زندہ رہیں تو مسئلہ ختم نہیں ہوتا صرف اپنی اگلی تاریخ کا انتظار کرتا ہے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب احتجاج کی ضرورت پیدا کرنے والی وجوہات کو ختم کیا جائے۔ بجلی کے مسئلے کو ہی لیجیے۔ آزاد کشمیر میں بجلی محض ایک بل کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ مقامی وسائل پانی سے پیدا ہونے والی بجلی پیداواری لاگت ترسیل لائن لاسز ریکوری اور حکومتی معاہدوں جیسے کئی معاملات جڑے ہوئے ہیں۔
اس لیے مستقل حل کسی وقتی رعایت سے آگے کی چیز ہے۔ ایک شفاف اور قابلِ عمل فارمولا ہونا چاہیے جس میں عوام کو مناسب نرخ پر بجلی ملے نظام بھی چل سکے اور مقامی وسائل کے استعمال کا فائدہ مقامی آبادی کو بھی محسوس ہو۔اسی طرح آٹے کا مسئلہ بھی صرف سبسڈی سے حل نہیں ہوگا۔ گندم کی پیداوار خریداری ذخیرہ ترسیل اور قیمت کے پورے نظام کو دیکھنا ہوگا۔ ایسی پالیسی درکار ہے جو آج کے چولہے کو بھی جلائے اور کل کی غذائی ضرورت کو بھی محفوظ کرے۔
مہنگائی کا ایک پہلو قیمت ہے
تو دوسرا آمدن۔ صرف قیمتیں کم کرنے کی کوشش کافی نہیں جب تک لوگوں کی آمدن بڑھانے کے راستے نہ کھولے جائیں۔ آزاد کشمیر میں زراعت سیاحت پھلوں کی پیداوار شہد دستکاری چھوٹی صنعت اور مقامی کاروبار میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان امکانات کو پالیسی تربیت سرمایہ اور مارکیٹ سے جوڑا جائے۔اور یہاں سب سے پہلے نوجوان کا ذکر آتا ہے۔ آزاد کشمیر کا نوجوان مسئلہ نہیں سب سے بڑا امکان ہے۔ جس خطے کے نوجوان دنیا بھر میں تعلیم طب انجینئرنگ آئی ٹی اور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیت منوا رہے ہوں وہاں مقامی سطح پر روزگار اور کاروبار کے مواقع کیوں نہ پیدا کیے جا سکتے ہیں؟ فری لانسنگ آئی ٹی سیاحت فروٹ پروسیسنگ شہد زراعت دستکاری اور چھوٹی صنعت کے لیے ضلع کی سطح پر تربیتی اور کاروباری مراکز قائم کیے جائیں.
نوجوان کو صرف سرکاری نوکری کا منتظر بنانے کے بجائے اسے ہنر سرمایہ ٹیکنالوجی اور مارکیٹ تک رسائی دی جائے۔ ایک بااختیار نوجوان اپنے لیے روزگار پیدا کرتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی راستے کھولتا ہے۔ تعلیم کا معاملہ بھی اسی سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر تعلیم کو ڈگری تک محدود کر دیا جاتا ہے حالانکہ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو زندگی کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے۔ اسکولوں میں تدریس کا معیار اساتذہ کی حاضری سائنس و ٹیکنالوجی فنی تعلیم اور جدید ہنر پر توجہ دینا ہوگی۔
جامعات اور روزگار کی مارکیٹ کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنا ہوگا۔صحت کے میدان میں بھی ایک عام کشمیری کی سب سے بڑی خواہش کوئی غیر معمولی سہولت نہیں وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ بیماری کی حالت میں اسے بنیادی علاج کے لیے اپنے گھر سے بہت دور نہ جانا پڑے۔ ضلعی ہسپتالوں کو تشخیص ایمرجنسی زچہ و بچہ، بچوں کے علاج لیبارٹری اور ضروری ادویات کی سہولیات سے مضبوط کیا جائے۔ دور دراز علاقوں کے لیے موبائل میڈیکل یونٹس اور ٹیلی میڈیسن بھی مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
حکمرانی کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ اختیار عوام کے جتنا قریب ہو جواب دہی بھی اتنی ہی واضح ہونی چاہیے۔ سڑک پانی صفائی نکاسی آب اور چھوٹے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مقامی سطح پر اختیارات اور وسائل موجود ہوں۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے علاقے کے لیے کتنا بجٹ آیا کہاں خرچ ہوا اور منصوبہ کب مکمل ہوگا۔یہاں ایک اور حساس بات بھی پوری وضاحت کے ساتھ کہنے کی ضرورت ہے۔
آزاد کشمیر کا کوئی بھی شہری مملکت خداداد پاکستان سے نفرت نہیں کرتا۔
اپنے جائز آئینی معاشی اور شہری حقوق کے لیے آواز اٹھانا پاکستان سے دشمنی نہیں۔ ایک شہری اپنے ملک اور اپنے لوگوں سے محبت کرتے ہوئے اپنے حکمرانوں سے سوال بھی کر سکتا ہے۔ اختلافِ رائے کو غداری یا دشمنی کے خانے میں ڈال دینا مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ فاصلے بڑھاتا ہے۔حالیہ حالات میں بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ حقوق کی ایک مقامی تحریک کو پاکستان مخالف بیانیے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس نوعیت کے دعووں کو جذبات کے بجائے شواہد تحقیق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔لیکن ایک بات اپنی جگہ بالکل واضح ہے پاکستان کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کشمیریوں نے ہمیشہ اپنی جان و مال کی قربانیاں دی ہیں
۔ یہ قربانیاں محض تاریخ کے صفحات میں درج واقعات نہیں بلکہ بہت سے کشمیری خاندانوں کی ذاتی داستانیں ہیں۔ آئندہ بھی پاکستان کے دفاع امن اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں کشمیری اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اسی لیے پاکستان سے محبت اور اپنے حقوق کا مطالبہ ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ بلکہ ایک مضبوط تعلق کی بنیاد یہی ہوتی ہے کہ اس میں محبت بھی ہو اعتماد بھی ہو اور ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ بھی ہو۔
حکومتِ پاکستان حکومتِ آزاد کشمیر اور تمام متعلقہ ریاستی اداروں سے یہی گزارش ہے کہ آزاد کشمیر کے معاملات کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سیاسی آئینی اور عوامی مسئلے کے طور پر بھی دیکھا جائے۔ چیف آف آرمی اسٹاف سمیت تمام متعلقہ ذمہ داران سے بھی اپیل ہے کہ کشمیری عوام کے جائز آئینی و قانونی حقوق معاشی مسائل اور دیرینہ شکایات کے حل کے لیے مکالمے اور آئینی راستے کو مضبوط کیا جائے۔پاکستان کی طاقت اس میں نہیں کہ سوال کرنے والی آواز خاموش ہو جائے طاقت اس میں ہے کہ سوال کا جواب دلیل قانون اور انصاف کے ساتھ دیا جائے۔اسی طرح عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ احتجاج کا حق استعمال کرتے ہوئے امن کا دامن نہ چھوڑیں۔ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے
لیکن تشدد توڑ پھوڑ اور قانون شکنی کسی بھی مقصد کو مضبوط نہیں کرتے۔ جہاں جرم ہوا ہو وہاں ذمہ داری شواہد کی بنیاد پر طے ہونی چاہیے اجتماعی الزام کی بنیاد پر نہیں۔ اگر جانی نقصان زخمی ہونے املاک کے نقصان یا طاقت کے استعمال سے متعلق سوالات موجود ہیں تو ان کے حقائق سامنے آنا ضروری ہیں۔ مقصد انتقام نہیں ہونا چاہیے مقصد سچ تک پہنچنا ذمہ داری طے کرنا اور آئندہ ایسے حالات کو روکنا ہونا چاہیے۔معاہدوں کا معاملہ بھی بہت اہم ہے۔عوام اور حکومت کے درمیان ہونے والا معاہدہ صرف کاغذ پر دستخط نہیں ہوتا وہ اعتماد کی دستاویز ہوتا ہے۔ اس لیے جو وعدہ کیا جائے اس کے ساتھ وقت ذمہ داری اور عمل درآمد کا واضح طریقہ بھی سامنے آنا چاہیے۔ اگر کسی شق پر عمل میں تاخیر ہے تو اس کی وجہ عوام کو بتائی جائے۔
نمائندگی اور آئینی اختیارات سے متعلق معاملات اس سے بھی زیادہ احتیاط چاہتے ہیں۔ ایسے سوالات جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ آئین قانون پارلیمانی عمل اور وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے سے حل ہونے چاہئیں۔ بعض آئینی معاملات خصوصاً اسمبلی کی مخصوص نشستوں سے متعلق مسئلہ وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کا متقاضی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ سوالات کو مؤخر کر دیا جائے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ حساس معاملات کا پائیدار حل وہی ہوگا جو مشاورت سے نکلے اور جسے بعد میں کوئی فریق اپنی شکست نہ سمجھے۔
حکومتی اخراجات پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جب عام آدمی اپنے گھر کے بجٹ کو مشکل سے چلا رہا ہو تو سرکاری سطح پر غیر ضروری گاڑیاں پروٹوکول سفری اخراجات اور غیر ضروری انتظامی خرچ عوامی سوال بن جاتے ہیں۔ ضروری خدمات میں کمی کیے بغیر غیر ضروری اخراجات کم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔اور شاید سب سے اہم ضرورت ایک ایسے مستقل مکالمے کی ہے جو بحران کے بعد نہیں بلکہ بحران سے پہلے شروع ہو۔
حکومت،ل اپوزیشن سیاسی جماعتیں منتخب نمائندے تاجر وکلا نوجوان سول سوسائٹی اور ماہرین ایک ایسے فورم پر بیٹھیں جہاں بجلی آٹا تعلیم صحت روزگار نمائندگی اور آئینی معاملات پر مسلسل گفتگو ہو۔ کیونکہ سیاسی مسئلہ جتنا دیر سے بات چیت کی میز پر آتا ہے اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس سارے عمل میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر چند منٹوں میں ہزاروں ذہنوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے اختلاف کو اشتعال میں اور سوال کو نفرت میں بدلنے کے بجائے خبر کو تحقیق، دلیل اور ذمہ داری کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔آخرکار آزاد کشمیر کو کسی فاتح اور کسی شکست خوردہ فریق کی ضرورت نہیں
۔ اسے ایسے راستے کی ضرورت ہے جس میں حکومت اپنی ذمہ داری قبول کرے عوام اپنے حقوق کے لیے آئینی راستہ اختیار کریں سیاسی قیادت اختلاف کو دشمنی نہ بننے دے اور ریاستی ادارے عوام کے اعتماد کو اپنی طاقت سمجھیں۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست صرف عمارتوں دفاتر اور اداروں کا نام نہیں۔ ریاست اصل میں لوگوں کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب اعتماد مضبوط ہو تو اختلاف بھی جمہوریت کا حصہ رہتا ہے، اور جب اعتماد کمزور ہو تو معمولی مسئلہ بھی بحران بن سکتا ہے۔
آج آزاد کشمیر کو ایک دوسرے کو سننے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو عوام کی بات سننی ہے عوام کو قانون کا احترام کرنا ہے سیاسی قیادت کو فاصلے کم کرنے ہیں اور تمام متعلقہ اداروں کو یہ یقین پیدا کرنا ہے
کہ آئینی اور جائز حقوق کے لیے اٹھنے والی آواز کو دشمنی کے چشمے سے نہیں دیکھا جائے گا۔ پاکستان اور کشمیر کا تعلق جذبات تاریخ اور قربانیوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس تعلق کو مزید مضبوط کرنے کا راستہ بھی اعتماد انصاف آئین مکالمے اور عوامی فلاح سے ہی نکلتا ہے۔
بحران گزر جاتے ہیں مگر ان سے حاصل ہونے والے سبق قوموں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔اگر آج ہم نے مسائل کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کی ایک دوسرے کی بات سنی آئینی راستے کو مضبوط کیا عوامی اعتماد بحال کیا اور اختلاف کو دشمنی بننے سے روک لیا تو یہی بحران ایک نئے آغاز کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہےکیونکہ کسی بھی بحران کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ ختم ہو گیا اصل کامیابی یہ ہے
کہ اس کے بعد وہی بحران دوبارہ پیدا نہ ہو۔اور شاید آج آزاد کشمیر کے لیے سب سے بڑی ضرورت بھی یہی ہے کہ ہم ایک ایسا کشمیر تعمیر کریں جہاں حق کی بات کہنے کے لیے سڑک آخری راستہ نہ ہو جہاں حکومت اور عوام کے درمیان مکالمہ قائم رہے جہاں نوجوان کو مستقبل نظر آئے جہاں وسائل کو انصاف کے ساتھ استعمال کیا جائے اور جہاں اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا موقع سمجھا جائے۔ مضبوط کشمیر پُرامن کشمیر ہی دراصل پُرامن پاکستان اور مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے۔