آزاد کشمیر — قدرت کا حسین شاہکار
آزاد کشمیر — قدرت کا حسین شاہکار
کالم: جاوید اقبال بٹ
دنیا بھر میں آج عالمی یومِ سیاحت منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ سیاحت صرف سیر و تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی بھی خطے کی خوبصورتی، ثقافت، تاریخ، معیشت اور قدرتی ورثے کو دنیا کے سامنے متعارف کرانے کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔
جب ہم آزاد کشمیر کی بات کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے اپنی بے مثال صناعی کے تمام رنگ ایک ہی خطے میں سمیٹ دیے ہوں۔ بلند و بالا پہاڑ، سرسبز وادیاں، گھنے جنگلات، بہتے چشمے، آبشاریں، جھیلیں اور دریاؤں کا شفاف پانی آزاد کشمیر کو قدرت کا ایک حسین شاہکار بنا دیتے ہیں۔
فارورڈ کہوٹہ، نکر کوٹ، چڑیکوٹ، دیگوار، نیلفری جھیل، درہ حاجی پیر، لسہ ڈنہ اور بھیڈی جیسے مقامات اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان علاقوں کی پہاڑی ڈھلوانیں، سبزہ، ٹھنڈی ہوائیں اور خاموش فضا انسان کو روزمرہ زندگی کی مصروفیات سے نکال کر فطرت کے قریب لے جاتی ہیں۔
آزاد کشمیر کا حسن صرف ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں۔ نیلم ویلی، اٹھمقام، شاردہ، کیل اور تاؤبٹ کی طرف جائیں تو قدرت کا ایک نیا رنگ سامنے آتا ہے۔ دریائے نیلم کے کنارے آباد بستیاں، بلند پہاڑ، برف پوش چوٹیاں، آبشاریں اور سرسبز ڈھلوانیں ایسا منظر پیش کرتی ہیں جسے دیکھنے والا دیر تک اس کے سحر میں مبتلا رہتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس قدرتی حسن کی قدر کر رہے ہیں؟
سیاحت کو فروغ دینے کے لیے صرف خوبصورت مقامات کی تشہیر کافی نہیں۔ ہمیں وہاں بنیادی سہولیات، بہتر سڑکوں، صاف پانی، صفائی کے نظام، مناسب رہائش، رہنمائی مراکز اور محفوظ سیاحتی ماحول کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی مقامی آبادی کو سیاحت کے ثمرات میں شریک کرنا بھی ضروری ہے تاکہ سیاحت روزگار اور معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکے۔
سب سے اہم بات ماحولیاتی تحفظ ہے۔ اگر ہم خوبصورت وادیوں میں پلاسٹک کی بوتلیں اور کچرا پھینکتے رہیں گے، جنگلات کو نقصان پہنچائیں گے اور دریاؤں و چشموں کو آلودہ کریں گے تو آنے والی نسلوں کے لیے ہماری یہ خوبصورتی صرف تصویروں میں باقی رہ جائے گی۔
سیاحوں کو بھی چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر آئیں، یہاں کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کریں اور صفائی کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ حکومت، مقامی انتظامیہ، سیاحتی اداروں اور عوام کو مل کر ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں سیاحت بھی بڑھے اور قدرت بھی محفوظ رہے۔
آج عالمی یومِ سیاحت پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ آزاد کشمیر کے قدرتی حسن کو دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے، مگر اس کے ساتھ اس حسن کی حفاظت بھی کریں گے۔
کیونکہ آزاد کشمیر صرف پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کا نام نہیں؛
یہ قدرت کی ایک ایسی حسین داستان ہے جہاں پہاڑ خاموشی سے کہانیاں سناتے ہیں، چشمے محبت کے نغمے گاتے ہیں اور وادیاں انسان کے تھکے ہوئے دل کو سکون عطا کرتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس قدرتی سرمائے کو صرف دیکھیں نہیں، محفوظ بھی کریں۔
آئیے عہد کریں:
قدرت سے محبت کریں، سیاحت کو فروغ دیں، آزاد کشمیر کو صاف اور محفوظ رکھیں۔
عالمی یومِ سیاحت مبارک!
آزاد کشمیر پائندہ باد — قدرتی حسن زندہ باد
کالم: جاوید اقبال بٹ
سینئر صحافی و کالم نگار آزاد کشمیر