پٹرولیم لیوی ختم کرو، عوام کو ریلیف دو !
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد ہر تعین اور اضافہ، عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ کررہا ہے،یہ مہنگا پٹرول صرف گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، زرعی پیداوار، صنعت، اشیائے خورونوش، کاروبار اور روزمرہ زندگی کے ہر شعبے پر پڑتا ہے،اس وجہ سے ہی پٹرولیم لیوی کئی برسوں سے عوامی بحث کا ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے،اس پر ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکس عام آدمی پر اضافی بوجھ ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے
کہ ملکی مالی ضروریات، بجٹ خسارے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے اس قسم کی آمدن ناگزیر ہے، اس بحث میں جذبات بھی شامل ہیں اور معاشی حقائق بھی،لیکن اس میں ایک سچائی بالکل واضح ہے کہ عوام قر بانی کا بکرا بنے ہوئے ہیں۔
اگر دیکھا جائے توحکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی کو ریاستی آمدن کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جاتا ہے ،اس رقم سے حکام کے مطابق ترقیاتی منصوبوں، قرضوں کی ادائیگی، مالیاتی خسارے میں کمی اور دیگر سرکاری اخراجات پورے کیے جاتے ہیں،
لیکن دوسری جانب عوام کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب پہلے ہی بجلی، گیس، آٹا، چینی، ادویات، تعلیم اور صحت کی سہولیات مہنگی ہو چکی ہیں تو پھر ایندھن پر اضافی بوجھ ڈال کر عا م شہری کی زندگی مزید دشوار کیوں بنائی جا رہی ہے؟اس پٹرولیم لیوی کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پرہی پڑرہاہے، عام آدمی کی آمدنی محدود رہتی ہے، مگر اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں ،اس میں جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ان کی روزمرہ زندگی کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
اس کے اثرات صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں رہتے ہیں، بلکہ پوری معیشت میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے، ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے، صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے ،یوں ایک لیوی یا ٹیکس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہر گھر کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے ،اس ترقی پذیر ملک میں جہاں لاکھوں نوجوان روزگار کے لیے موٹرسائیکل استعمال کرتے ہیں، آن لائن ڈیلیوری سروسز، کورئیر کمپنیوں اور رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد روزانہ ایندھن پر انحصار کرتی ہے، وہاں پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی ہزاروں خاندانوں کی آمدنی کو متاثر کر دیتا ہے،اس کے باعث ہی پٹرولیم لیوی کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کرتاجا رہا ہے۔
ہر دور حکومت میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے بجائے ا ٓسان ذرائع ہی ڈھونڈے جاتے رہے ہیں ،اس ملک میںبہت سے شعبے مناسب ٹیکس ادا نہیں کرتے اور معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر دستاویزی ہے،اس میں حکومت نسبتاً آسان ذرائع سے آمدن حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ،جو کہ پٹرولیم لیوی کی صورت میں ہے، تاہم معاشی ماہرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اگر ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے، ٹیکس چوری کی روک تھام کی جائے، غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کیے جائیں
اور مراعات یافتہ طبقات کو بھی مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تو عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، لیکن اپنے حواریوں کے ناراض ہو نے کے خوف سے ایسا کچھ نہیں کیا جارہا ہے،اس پر عوام کا ایک اہم سوال بھی پو چھتی ہے کہ اگر حکومت عوام سے اضافی محصولات وصول کرتی ہے تو کیا اس کے بدلے میں عوام کو بہتر ٹرانسپورٹ، معیاری صحت، اچھی تعلیم، محفوظ سڑکیں اور بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں؟ اس پرعوامی ردعمل کسی بھی جمہوری معاشرے کا ایک لازمی حصہ ہوتا ہے، تاہم یہ ردعمل آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے، پرامن احتجاج، ریلیاں، عوامی اجتماعات، پارلیمانی مباحث، عدالتوں سے رجوع اور سیاسی جدوجہد ایسے آئینی ذرائع ہیں
کہ جن کے ذریعے شہری اپنے مطالبات حکومت تک پہنچا سکتے ہیں،تاریخ گواہ ہے کہ جمہوری نظام میں منظم، پرامن اور ذمہ دارانہ عوامی آواز اکثر پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ تشدد، توڑ پھوڑ اور تصادم نہ صرف عوامی مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ اصل مطالبات کو بھی پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں،عوام کو جہاں احتجاج میں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا ہے ،وہاںحکو مت بھی عوامی مطالبات کو سنجید گی سے لے اورپٹرولیم لیوی کے حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کرے، عوام کو بتایا جائے کہ اس مد میں حاصل ہونے والی آمدن کہاں خرچ ہو رہی ہے اور اس کے کیا معاشی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پٹرولیم لیوی کا معاملہ محض ایک ٹیکس کا معاملہ نہیں رہا ہے، بلکہ عوامی اعتماد، معاشی انصاف اور ریاستی ترجیحات کا مسئلہ بھی ہے،اس حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مالی استحکام اور عوامی ریلیف کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرے، جبکہ شہریوں کا حق ہے کہ وہ اپنے مطالبات آئینی، جمہوری اور پرامن طریقوں سے پیش کریں، اگر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد، شفافیت اور مکالمے کی فضا قائم ہو جائے تو ایسے پیچیدہ مسائل کا حل بھی زیادہ مؤثر اور پائیدار انداز میں تلاش کیا جا سکتا ہے،یہ راستہ ہی مضبوط معیشت، مستحکم جمہوریت اور ایک ایسے پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے کہ جہاں قومی مفاد اور عوامی فلاح ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہوں،اس کیلئے حکو مت کو پٹرولیم لیوی کو ختم کرنا ہو گااورعوام کو ریلیف دینا ہو گا۔