نئے بحران کی طرف بڑھتا مشرقِ وسطیٰ !

نئے بحران کی طرف بڑھتا مشرقِ وسطیٰ !

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسی کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے کہ جہاں سفارتی بیانات، فوجی طاقت کے مظاہرے اور معاشی مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی جانب سے امریکا کو دی گئی سخت وارننگ اور ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے بیانات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران نہ صرف امریکی دباؤ کو مسترد کر رہا ہے، بلکہ اپنے دفاعی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا عندیہ بھی دے رہا ہے، کیا یہ صرف سخت بیانات ہیں یا خطے میں کسی بڑے تصادم کی پیشگی علامت ہے؟
امر یکہ ایک کے بعد ایران کو دھمکیاں دیے رہا ہے

 

اور اس کا منہ توڑ جواب بھی لے رہا ہے ،ایک بار پھر امر یکہ کی دھمکی کے جواب میں ایرانی سپیکرمحمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا نے ابھی تک سبق نہیں سیکھا ہے کہ دھونس، دباؤ اور وعدہ خلافی کی قیمت چکانا پڑتی ہے ، یہ بیان گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ایران اور امریکا کے کشیدہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، ایران کی قیادت کا مؤقف رہا ہے کہ امریکا نے متعدد بین الاقوامی معاہدوں، خصوصاً جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی ہے،

جبکہ امریکا ایران پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے، مسلح گروہوں کی حمایت اور جوہری پروگرام کو وسعت دینے جیسے الزامات عائد کرتا رہا ہے ،یہ باہمی عدم اعتماد ہی آج دونوں ممالک کے تعلقات کو انتہائی نازک مرحلے پر لے آیا ہے۔ایرانی قیادت قالیباف کا کہنا کہ اگر حملہ کرو گے تو جواب بھی ملے گا،یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کی جھلک بھی ہے، ایران کئی برسوں سے واضح کرتا آیا ہے

کہ وہ کسی بھی بیرونی حملے کا جواب اپنی دفاعی صلاحیتوں اور علاقائی اثرورسوخ کے ذریعے دے گا، یہ خطے میں کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے،اس تناظر میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی ہے ،آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ جہاں سے گزرتا ہے، اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو صرف خلیجی ممالک ہی نہیں، بلکہ یورپ، ایشیا اور عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل تاثر نہیں رہا ہے کہ یورپی ممالک ایران مخالف شر گرمیوں میں شر یک رہے ہیں لیکن اس بار ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے بیانات کو بنیاد بنا کر مؤقف اختیار کیا ہے کہ بعض یورپی ممالک عملاً امریکا اور اسرائیل کی ایران مخالف پالیسیوں میں شریک ہیں یہ بیان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ایران اب صرف امریکا یا اسرائیل کو نہیں، بلکہ ان کے اتحادیوں کو بھی ممکنہ تنازع کا فریق تصور کر رہا ہے،یہ صورتِ حال یورپی ممالک کے لیے بھی ایک سفارتی آزمائش بن سکتی ہے، ایک طرف نیٹو اتحاد اور امریکا کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھنا چاہتے ہیںتو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کسی ایسی جنگ سے بچنا بھی چاہتے ہیں ،اس لیے ہی یورپی دارالحکومتوں میں سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے، کیونکہ جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔

امریکا کے لیے بھی ایک نیا بحران آسان نہیں ہے، اگرچہ واشنگٹن ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اختیار کرتا رہا ہے، لیکن اس سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ نہ صرف مالی اور عسکری اعتبار سے مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، بلکہ پورے خطے کو ایک طویل عدم استحکام میں بھی دھکیل سکتی ہے،اس لیے ہی سخت بیانات کے ساتھ سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے جارہے ہیں،امر یکہ اور ایران پر جب بھی اندرونی یابیرونی دباؤ بڑھتا ہے تو عموماً سخت بیانات کے ذریعے عوام کو اپنی عوام پیغام دیا جاتا ہے

کہ ملک اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، اس طرح کے بیانات داخلی سیاسی استحکام اور عوامی حمایت کو مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں،لیکن اگر بیانات عملی اقدامات میں تبدیل ہو نے لگیں تو غلط اندازوں یا محدود نوعیت کی کسی فوجی کارروائی سے ایک وسیع علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے۔ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور سفارت کاری تک پھیل جاتے ہیں۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق تحمل، تدبر اور سفارت کاری کو ترجیح دیں،ایک دوسرے کو دھمکیوں، جوابی دھمکیوں اور طاقت کے مظاہروں سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر مستقل امن اور استحکام صرف مذاکرات، اعتماد سازی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام سے ہی ممکن ہے، اگراس موقع پر عالمی برادری نے بروقت مؤثر سفارتی کردار ادا نہ کیا تو آبنائے ہرمز سے اٹھنے والی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ، بلکہ پوری دنیا کے امن، معیشت اور توانائی کے مستقبل کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر سکتی ہے، یہ ایک ایسا لمحہ ہے کہ جہاں دانشمندانہ فیصلے جنگ کے شعلوں کو بجھا سکتے ہیں، جبکہ غلط اندازے پوری دنیا کو ایک نئے اور غیر یقینی بحران میں دھکیل بھی سکتے ہیں۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *