35

بلوچستان میں فتنہ الہندوستان پر کاری ضرب!

بلوچستان میں فتنہ الہندوستان پر کاری ضرب!

بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ مربوط انٹیلی جنس کارروائیاں محض روایتی فوجی آپریشنز نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کے خلاف سرحد پار سے بنے گئے سازشی جال کو توڑنے کی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں ،اس کا آغاز ریاستی سطح پر کیا جا چکا ہے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق گزشتی دنوںکی جانے والی ان پیشگی کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ پراکسی گروہ ’فتنہ الہندوستان‘ کے 8 دہشت گردوں کی ہلاکت واضح ثبوت ہے کہ اب دشمن کو اس کی کمین گاہوں میں ہی نشانہ بنانے کی پالیسی پر سختی سے عمل شروع ہو چکا ہے،

یہ کارروائیاں ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہیں کہ جب ملک کو اندرونی استحکام اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرامن ماحول کی سخت ضرورت ہے، اور ان دونوں مقاصد کے حصول کے لیے بلوچستان میں امن و امان کا قیام سب سے اہم ستون بن چکا ہے۔اس پورے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے ضلع خاران میں ہونے والے آپریشن کا جائزہ لیںتو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس نیٹ ورک اب زمین پر کتنا فعال اور مربوط ہو چکا ہے، فورسز نے دشمن کی نقل و حرکت کا سراغ زمین پر موجود مخبروں اور جدید ترین مانیٹرنگ ٹیکنالوجی کے باہمی اشتراک سے لگایاہے،

اس کے نتیجے میں بھارتی پراکسی سے تعلق رکھنے والے 3 اہم دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے، جبکہ ان کے متعدد ساتھی شدید زخمی حالت میں فرار ہونے پر مجبور ہوئے ہیں،اس خاران کی کارروائی سے ابھی دشمن سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اگلے ہی دن مستونگ میں ایک اور انتہائی حساس آپریشن شروع کر دیا گیاکہ جہاں ایک ممکنہ خودکش بمبار کی موجودگی کی پکی انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی تھیں،سیکیورٹی فورسز نے وقت ضائع کیے بغیر ٹھکانے کو گھیراے میں لیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد خودکش حملہ آور سمیت 5 مزید شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا، اس سے نہ صرف مستونگ، بلکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو بھی ایک بڑے اور ہولناک سانحے سے بچا لیا گیا ہے۔
اگران دونوں کارروائیوں کے تسلسل اور برآمد ہونے والے اسلحہ، گولہ باروداور موٹر سائیکلوں کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ گروہ کسی وقتی کارروائی کے لیے نہیں، بلکہ خطے میں ایک طویل مدتی نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا،یہ دراصل اسی پراکسی نیٹ ورک کا ایک نیا چہرہ ہے کہ جسے پاکستان کے معاشی منصوبوں، خاص طور پر سی پیک (CPEC) اور گوادر پورٹ کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، پاکستان جب بھی معاشی طور پر سنبھلنے کی کوشش کرتا ہے تو ان بیرونی پراکسیز کو متحرک کر دیا جاتا ہے، تاکہ ملک میں خوف اور عدم استحکام کی فضا قائم رکھی جا سکے،

لیکن حالیہ آپریشنز نے دشمن کے ان تمام عزائم کو خاک میں ملا کر ثابت کر دیا ہے کہ اب ریاست کا دفاعی انداز مکمل طور پر جارحانہ حکمتِ عملی میں بدل چکا ہے ،یہ ریاست کا جارحانہ اور بے لچک انداز دراصل قومی عزم کا حصہ ہے کہ جسے وفاقی ایپکس کمیٹی نے قومی ایکشن پلان کے تحت ’وژن عزمِ استحکام‘ کا نام دیا ہے۔
یہ عزمِ استحکام محض کاغذ پر لکھی ہوئی کوئی پالیسی نہیں ہے، بلکہ یہ عسکری طاقت اور سول انتظامیہ کے مابین ایک ایسا مضبوط فریم ورک ہے ،جو کہ دہشت گردی کی جڑوں پر وار کرتا ہے، اس وژن کا سب سے اہم پہلو ہے کہ اب انسدادِ دہشت گردی مہم میں کسی بھی رنگ، نسل، یا نظریاتی وابستگی کا لحاظ کیے بغیر، بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے اور ہر اس ہاتھ کو کاٹا جا رہا ہے، جو کہ بیرونی آقاؤں کے اشارے پر پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرتا ہے ،خاران اور مستونگ کی کامیابی اسی وژن کے عملی نفاذ کی پہلی کڑی ہے

کہ جس نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی بقا اور خودداری پر اب کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا،اگرچہ خاران اور مستونگ میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز اب بھی جاری ہیں، تاکہ ان دہشت گردوں کے بقیہ سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے، لیکن اس جنگ کا سب سے مثبت پہلو مقامی آبادی کا رویہ ہے،
کہ جس کے باعث دہشت گروں کے خلاف کا میابیاں مل رہی ہیں۔
اس وقت بلوچستان کی دشوار گزار جغرافیائی حدود میں درست اور بروقت انٹیلی جنس کا ملنا ،اس بات کی گواہی ہے کہ اب مقامی عوام ان بیرونی ایجنٹوں اور تخریب کاروں سے مکمل طور پر بیزار ہو چکے ہیں اور امن و ترقی کے لیے ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،وہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ پاکستان کی مجموعی ترقی کا راستہ ہی نہیں ،بلکہ بلوچستان کی ترقی کا راستہ بھی بلو چستان کے امن سے ہی ہو کر گزرتا ہے ،

اس کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی مسلسل کارروائیاں بیرونی ماسٹر مائنڈز کے لیے بھی ایک حتمی پیغام ہیں کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی اپنی اس جنگ میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے ،اب فتنہ الہندوستان جیسے نیٹ ورکس کا خاتمہ قریب ہے، پاک فوج کی مربوط حکمت عملی اور قربانیاں اس بات کی ضامن ہیں کہ بلوچستان کا مستقبل سی پیک اور معاشی خوشحالی کا درخشاں باب بنے گا اورملک دشمنوںکی شکستِ فاش دیوار پر لکھی جا چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں