38

مہنگائی کے طوفان میں بقاء کی جنگ !

مہنگائی کے طوفان میں بقاء کی جنگ !

ہم آج کے دور میں جب صبح سویرے اخبار کھولتے ہیں یا ٹی وی آن کرتے ہیں تو خبریں کم اور قیمتوں کے اعداد و شمار زیادہ پریشان کرتے ہیں،اس ٓئے روز کی بڑھتی مہنگائی نے معاشرے کے ہر طبقے کو ہی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، لیکن متوسط اور غریب طبقے کے لیے تو اب سانس لینا بھی مہنگا ہو چکا ہے،اس صورتحال میں جب ہم عالمی منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں، تو مستقبل قریب میں کوئی بڑی ریلیف نظر نہیں آتی ہے ،خاص طور پر جب کہ آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کی صورتحال، جو کہ عالمی تیل کی تجارت کی شہ رگ ہے، سخت کشیدگی کا شکار ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے

کہ اس گزرگاہ کے معاملات جلد حل ہوتے دکھائی نہیں دیے رہے ہیں،یہ جب تک بحری راستہ سیاسی و عسکری تنازعات کی زد میں رہے گا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچے آنے کے بجائے اوپر ہی جائیں گی اور ہم سب ہی جانتے ہیں کہ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتاہے، بلکہ وہ کسان کے ٹریکٹر سے لے کر سبزی منڈی کے ٹرک تک، ہر چیز کو مہنگا کر دیتا ہے،یہ المیہ نہیں کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے، بلکہ اس کا اصل تکلیف دہ پہلو ہے کہ اخراجات کو پر لگ گئے ہیں

اور آمدن کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہیں”۔ایک عام ملازمت پیشہ شخص یا دیہاڑی دار مزدور کی آمدن وہیں کھڑی ہے کہ جہاں دو سال پہلے تھی، لیکن بجلی کے بل، بچوں کی فیسیں، ادویات اور راشن کی قیمتیں دوگنا سے بھی تجاوز کر چکی ہیں، اگر آمدن مسدود ہو اور خرچے بے لگام ہوں تو انسان نفسیاتی طور پر ٹوٹنے لگتا ہے،اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم کریں گے کیا؟اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو معاشرے میں بے چینی اور فرسٹریشن بڑھے گی، ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔

فضول خرچی اور دکھاوے کی ثقافت کو خیرباد کہہ کر سادگی کو اپنانا اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے،اس کے ساتھ ہی حکومتوں کو بھی محض ”عالمی حالات” کا بہانہ بنا کر بری الذمہ نہیں ہونا چاہیے،جب عوام کی قوتِ خرید جواب دے جائے، تو ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسے حفاظتی اقدامات کرے کہ غریب کا چولہا بجھنے نہ پائے،لیکن ریاست چھولہے چلانے کے بجائے بجھانے پر ہی تلی ہوئی ہے۔
یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت ہی بچت کی عادت ڈالیں اور نئے ذرائع آمدن تلاش کریں، لیکن سب سے بڑھ کر، یہ وقت ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا بھی ہے،اگر اس کٹھن گھڑی میں ہم نے اپنے سفید پوش پڑوسیوں اور رشتہ داروں کا خیال نہ رکھا، تو مہنگائی کا جن ہمیں اخلاقی طور پر بھی کچل دے گااور معاشی طور پر بھی سنبھلنے نہیں دیے گا،اس وقت حالات بے شک مشکل ہیں، لیکن مایوسی حل نہیں ہے، ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لا نا ہو گی ، اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی عادت ڈالنا ہو گی اور اس طوفان کے تھمنے تک ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگاتو ہی مہنگائی کے بحران سے نکل پائیں گے۔
اس ملک کے ہر بحران میں عوام نے حکو مت کاساتھ دیا اور سب کچھ برداشت کیا ہے ، مگر حکو مت نے کبھی عوام کا خیال نہیں کیا ہے ،ایک طرف عوام مخالف فیصلے کیئے جاتے رہے ہیں تودوسری جانب عوامی تر جیحات کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی رہی ہے ،حکو مت اور اپوزیشن کی تر جیحات میں کبھی عوام رہے نہ ہی عوام کی مشکلات کو اپنی تر جیحات میں شامل کیا گیا ہے ،حکو مت اور اپوزیشن آج بھی عوام کے مسائل کا تدارک کر نے کے بجائے اپنی ذات کیلئے ایک دوسرے سے دست گر یباں ہے ،جبکہ عوام پر ہی سارا بوجھ ڈالا جارہا ہے ، عوام کو ہی قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔
یہ وقت باہمی انتشار کا نہیں ،قومی یکجہتی و اتحاد کا ہے ، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور صوبوں کے درمیان ملکی یک جہتی کی فضا قائم کرنے کے قومی سطح کے کمشن کے قیام اور ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے،عوام کو مہنگائی کے بحران سے نجات دلانے کی ضرورت ہے ،سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے بھی ایک واضح پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے، تاکہ ریاست مخالف کوئی بیانیہ پروان نہ چڑھ سکے ، اگرقومی معاملات اور مسائل کو پوری ہم آ ہنگی اور مشاورت سے حل کیا جائے

تو شاید ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے ، حکومت جتنے مر ضی سب اچھا ہے کے دعوئے کرتی رہے ، مگر زمینی حقائق بالکل ہی مختلف ہیں ،سیاسی اور عوامی منظر نامے سے پوری قوم میں مایوسی اور بے یقینی پھیلی ہوئی ہے ،اس منظر نامے میںہم سب کو ہی کچھ ایسے رنگ بھرنے ہوں گے ،جو کہ دل و نظر کو بھلے لگیں اور جن کی وجہ سے امید بہار کی نوید سنائی دے،عوام کو مہنگائی سے نجات ملتی دکھائی دیے تو ہی صاحب اقتدار قائم رہ پائیں گے اور عوام کے دل بھی جیت پائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں