50

پٹرولیم بم اور غریب کا کچومر !

پٹرولیم بم اور غریب کا کچومر !

پاکستان کی معاشی تاریخ میں اکثر ایسے موڑ آتے ہیں کہ جہاں اعداد و شمار کی جادوگری کے ذریعے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا جاتاہے، حالیہ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والا 26 روپے 77 پیسے فی لٹر کا ہوش ربا اضافہ بھی ایسی ہی ایک مثال ہے، اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے، جبکہ ڈیزل کی 380 روپے 19 پیسے فی لٹر تک جا پہنچی ہے، اس اضافے کا تعلق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائوسے نہیں، بلکہ پٹرولیم لیوی اور اِن لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن میں نمایاں اضافے کا نتیجہ ہے ، یہ بظاہر ایک حکومتی فیصلہ ہی نظر آتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپے حقائق کہیں زیادہ تلخ اور تشویشناک ہیں۔
یہ کتنی حیران کن بات ہے

کہ اس بار قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عالمی منڈی کے باعث نہیں ہورہا ہے ، بلکہ خود ہماری حکومت نے اپنا بوجھ کم کر نے کیلئے عوام کے ناتواں کندھوں پر ڈال رہی ہے، یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں کیا جارہا ہے ، جب کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں اور ایکس ریفائنری ریٹ (ریفائنری کی قیمت) میں کمی دیکھی جا رہی ہے، حکومت نے پٹرولیم لیوی اور اِن لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (IFEM) میں اضافہ کر کے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا ہے،حکومت کتنے دنوں سے دعوئیدار رہی ہے کہ پٹرولیم کا بوجھ خود اُٹھارہی ہے اور عوام پر بوجھ نہیں ڈال رہی ہے ، جبکہ اب اپنی نا اہلیوں کاسارا بوجھ نہ صرف عوام پر ڈالا جارہا ہے ، بلکہ ایک کے بعد ایک پٹرولیم بم گراکر غریب عوام کا کچومر نکلا جارہا ہے۔

اگراعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت پٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے اور ڈیزل کی 380 روپے 19 پیسے فی لٹر تک جا پہنچی ہے ،اس اضافے کی اصل وجہ پٹرولیم لیوی ہے ،جو کہ اب 107 روپے فی لٹر سے بھی تجاوز کر چکی ہے، اگر پٹرولیم کے تمام ٹیکسوں کو جمع کیا جائے تو حکومت پٹرول کے ایک لٹر پر تقریباً 135 روپے وصول کر رہی ہے ،یعنی ایک عام شہری جب اپنی بائیک یا گاڑی میں پٹرول ڈلواتا ہے تو اس کی قیمت کا ایک تہائی حصہ براہِ راست حکومتی خزانے میں ٹیکس کی صورت میں چلا جاتا ہے

،اس طرح ڈیزل پر فریٹ مارجن کو 7 روپے سے بڑھا کر 37 روپے تک پہنچا دینا انتظامی نااہلی ہے یا ریونیو اکٹھا کرنے کا جنون، جو کہ عام عوام کی خالی جیبوں سے بھی نکلا جارہا ہے اور خود قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔
اس حکومت نے رواں مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1468 ارب روپے جمع کرنے کا بھاری بھرکم ہدف مقرر کر رکھا ہے، اگرچہ نو ماہ میں 1234 ارب روپے اکٹھے کر کے حکومت اپنی ”کامیابی” پر بغلیں بجا رہی ہے، لیکن کیا حکمرانوں نے سوچا ہے کہ اس کامیابی کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ پٹرول اور ڈیزل صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں ہے، یہ پوری معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں ،ملک میںجب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، اس کا براہِ راست اثر سبزیوں، دالوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑتا ہے ،ہمارا کسان پہلے ہی کسان مخالف پا لیسوں سے مرا ہوا ہے ،اس کو ڈیزل مہنگا کرکے مزید مارا جارہا ہے ،کسان کے لیے ٹیوب ویل چلانا اور ٹریکٹر کا استعمال خواب بنتا جا رہا ہے، اس سے زراعت کی لاگت میں جہاں اضافہ ہو گا ،وہاں زراعت مخالف رجحان میں بھی اضافہ ہو گا۔

اگر دیکھا جائے تویہ پالیسی سراسر ”ریونیو شارٹ کٹ” ہے ،جو کہ عوام کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر ختم کر رہی ہے، اس حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ ریونیو کا حصول ضروری ہے، لیکن اس کا بوجھ صرف پٹرولیم مصنوعات پر ڈالنا ،معاشی طور پر تباہ کن ثابت ہو رہا ہے ،ایک طرف مہنگائی کی شرح پہلے ہی آسمان کو چھو رہی ہے

تودوسری طرف ایک کے بعد ایک پٹرولیم بم گرا کر غریب طبقے سے جینے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے،حکو مت عوام پر بوجھ ڈال کر اور عوام کوہی ناراض کر کے کب تک آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرتی رہے گی اورا ٓئی ایم ایف کو ہی خوش کرتی رہے گی ،عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو تا جارہا ہے ، عوام کی برداشت جواب دیے رہی ہے ،عوام کا پور زور مطالبہ ہے کہ عوام کے بجائے اب اشرافیہ کو بھی قر بانی دینا ہو گی۔
اس وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عوام پر ہی بوجھ ڈالتے رہنے کے بجائے اپنے اخراجات میں کمی کرے اور پٹرولیم لیوی جیسے بالواسطہ ٹیکسوں (Indirect Taxes) کے بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے،پٹرولیم لیوی میں فوری کمی کرنا اب محض عوام کی جانب سے ایک پر زور مطالبہ ہی نہیں رہا ہے ،بلکہ ملک کو معاشی جمود اور سماجی بدامنی سے بچانے کے لیے ناگزیر بھی ہو چکا ہے، اگر اس بار بھی عوام کو فوری طور پر ریلیف نہ دیا گیا اور بو جھ در بوجھ بڑھا یا جاتا رہا تو یہ مہنگائی کا جن سب کچھ ہی نگل جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں