31

تنکوں سے بنی ہوئی کمزور مگر بہادر عورت

تنکوں سے بنی ہوئی کمزور مگر بہادر عورت

تحریر: اعجاز شاہ کاظمی
معاشرے میں عورت کو صدیوں سے کمزور، نازک اور محتاج سمجھنے کا رجحان رہا ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عورت بظاہر تنکوں کی مانند نرم اور حساس ضرور ہوتی ہے، لیکن جب یہی تنکے ہمت، شعور، عزم اور خود اعتمادی کے دھاگے میں پروئے جائیں تو ایک ایسا مضبوط وجود تشکیل پاتا ہے جو نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ معاشرے کی سمت بھی متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آج کی عورت محض گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ تعلیم، سیاست، معیشت اور سماجی میدانوں میں اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلا رہی ہے۔آزاد کشمیر میں خواتین کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے حالیہ اقدامات ایک تاریخی پیش رفت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ تبدیلی محض وقتی نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک وژن اور ایک ایسے مستقبل کی عکاس ہے جہاں خواتین کو برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے خواتین ونگ میں ممبرشپ مہم کا آغاز دراصل اس بات کا عملی اظہار ہے کہ خواتین کو قومی دھارے میں باقاعدہ، باوقار اور مؤثر مقام دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف خواتین کو سیاسی شعور ملے گا بلکہ ایک مضبوط، متوازن اور باشعور سیاسی کلچر کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔شاہین کوثر ڈار کو پیپلز پارٹی خواتین ونگ کا صدر مقرر کرنا ایک دوراندیش، دانشمندانہ اور انقلابی فیصلہ ثابت ہوا ہے۔ ایک پڑھی لکھی، باعزت اور باوقار خاتون ہی حقیقی معنوں میں خواتین کی رہنمائی کر سکتی ہے، کیونکہ وہ نہ صرف مسائل کو سمجھتی ہے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے

۔ شاہین کوثر ڈار کی قیادت میں خواتین کو ایک نیا حوصلہ، ایک نئی پہچان اور ایک نیا اعتماد ملا ہے۔ وہ خواتین کو منظم کرنے، ان میں سیاسی شعور بیدار کرنے اور انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا ہنر سکھا رہی ہیں۔یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی خواتین کو بااختیار نہ بنایا جائے۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنے گھر بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے یہ کہنا بجا ہے کہ پڑھی لکھی، باوقار اور خوددار عورت ہی ایک مضبوط اور مہذب معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے

۔پہلی بار خواتین کی ممبرشپ کے باقاعدہ آغاز کی تقریب ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تقریب میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور،چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد اور دیگر اعلیٰ قیادت کی شرکت اس بات کی غماز ہے کہ ریاستی اور قومی سطح پر خواتین کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ خواتین کو اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ انہیں ترقی کے سفر میں برابر کا شریک بنایا جائے گا۔

شاہین کوثر ڈار اور ان کی پوری ٹیم اس کامیاب اقدام پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد کی مستحق ہے۔ ان کی محنت، لگن، عزم اور وژن نہ صرف قابلِ تعریف ہیں بلکہ آنے والے وقتوں میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوں گے۔ ان کی کاوشیں مزید خواتین کو آگے بڑھنے، اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آج کی عورت کمزور نہیں بلکہ ایک مضبوط، باشعور، باوقار اور بہادر ہستی ہے۔ وہ تنکوں سے صرف اپنا آشیانہ ہی نہیں بناتی بلکہ انہی تنکوں سے ایک ایسا مضبوط معاشرہ بھی تشکیل دیتی ہے جو ترقی، خوشحالی اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہو۔ یہی عورت کل کے روشن، مستحکم اور کامیاب معاشرے کی اصل معمار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں