بلوچستان میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس ہیں: سرفراز بگٹی
بلوچستان میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس ہیں: سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے دہشتگردوں کے ساتھ مقابلے میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں۔
کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا دہشتگردوں نے 31 معصوم شہریوں کو شہید کیا، گوادر میں دہشتگردوں نے پانچ خواتین اور تین بچوں کو شہید کیا، شہید ہونے والی فیملی کا تعلق خضدار سے تھا اور وہ بلوچ تھے، یہ خود کو بلوچ کہتے ہیں لیکن یہ بلوچ نہیں دہشت گرد ہیں۔
ان کا کہنا تھا افغان سر زمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اطلاعات ہیں کہ ان دہشتگردوں کے ساتھ افغانی بھی شامل ہیں، آج بشیر زیب، رحمان گل اور اللہ نظر افغانستان میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دہشتگرد حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ موجود تھی، ہم نے ایک دن پہلے آپریشن شروع کردیا تھا، 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں، یہ لوگ ہندوستان کے ایما پر ایسے واقعات کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب پاکستان ٹیک آف کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک سیکنڈ کیلئے بھی سرینڈر کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم ایک ہزار سال تک ان کے خلاف جنگ لڑیں گے، ہمارا خون سستا نہیں ہے، ہم انہیں جانے نہیں دیں گے، ہم بلوچستان کو ان کے لیے جہنم بنا دیں گے،
مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا یہ لوگ بلوچ عوام کو ہندوستان کی ایما پر ایندھن کیوں بنا رہے ہیں، بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ جماعت ہے جس سے مذاکرات کرنے ہیں؟ یہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا اس جنگ اور تشدد کو محرومی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، ہم ایک مارٹر مار کر انہیں ہلاک کر سکتے تھے مگر شہری بھی مارے جاتے، دہشت گرد شہریوں میں آکر مل جل جاتے ہیں، ہمارا عزم ہے کہ ہم دہشت گردی کےخلاف لڑیں گے اور ان کے خلاف انٹیلیجنس آپریشن کریں گے، دہشت گردوں کو بلوں سے نکالیں گے اور ختم کریں گے۔