19

پاک افواج اور عوام کا عزم نو !

پاک افواج اور عوام کا عزم نو !

بلوچستان میں دہشت گردی کی تازہ لہر ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز محض داخلی بدامنی یا مقامی سطح کے انتشار تک محدود نہیں رہے ہیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک وسیع تر علاقائی حکمت عملی، منظم نیٹ ورکنگ اور بیرونی سرپرستی کے عوامل بھی کارفرما ہیں،اس تنا ظر میںڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس نہایت اہم ہے،

اس میں بلوچستان کی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات، دشمن کے اہداف اور ریاستی ردعمل کو واضح انداز میں سامنے رکھا گیاہے،ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا مرکزی نکتہ تھا کہ دہشت گردی کے مختلف واقعات کے اہداف، مقامات اور طریقہ واردات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر ان کے پیچھے کارفرما مقاصد ایک ہی ہے کہ پاکستان کی ترقی کو روکنا، عوام میں خوف پھیلانا، ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانا اور دفاعی قوت کو کمزور کرنے کا تاثر پیدا کرنا ہے ،لیکن اس میں دشمن کبھی کا میاب نہیں ہو پائے گا۔
اگر دیکھا جائے توبلوچستان اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، ساحلی پٹی، گوادر بندرگاہ اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کے باعث پاکستان کے مستقبل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے،اس کے باعث ہی ملک دشمن قوتیں مسلسل نشانہ بناتی رہی ہیں،بلوچستان میں بدامنی پیدا کر کے نہ صرف مقامی آبادی کو عدم تحفظ کا شکار کیا جاتا ہے بلکہ سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے

،دہشت گرد تنظیمیں کبھی مذہبی شدت پسندی کے نام پر، کبھی قوم پرستی کے لبادے میں اور کبھی انسانی حقوق کے نعروں کے پیچھے چھپ کر ریاست کے خلاف بیانیہ تشکیل دیتی رہتی ہیں، مگر معصوم شہریوں، مزدوروں، مسافروں، اساتذہ، سکیورٹی اہلکاروں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے والے کسی سیاسی جدوجہد کے نمائندہ نہیں ہو سکتے ہیں۔
صوبہ بلو چستان میں ہو نے والے دہشت گردی کے واقعات میں جس انداز سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں ،بلکہ نفسیاتی جنگ بھی ہے ،دہشت گرد چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام ریاست سے بدظن ہو جائیں، ترقیاتی سرگرمیاں رک جائیں، سکیورٹی فورسز پر عوامی اعتماد کم ہو جائے اور پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر پیش کیا جائے، یہ ایک ایسامقام ہے کہ جہاں دہشت گردی اور پروپیگنڈا ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں، بندوق سے ہونے والا حملہ چند جانیں لیتا ہے، مگر جھوٹا بیانیہ معاشرے کے ذہنوں کو نشانہ بناتا ہے، اس لیے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں صرف عسکری کارروائیوں کا ذکر نہیں تھا، بلکہ معلوماتی جنگ، بیرونی مداخلت اور عوامی شعور کی اہمیت پر بھی زور نمایاں رہا ہے۔
پاکستان کا موقف رہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی خفیہ اداروں کی سرپرستی اور مالی معاونت کے شواہد موجود ہیں، کلبھوشن یادیو کا معاملہ ایک بڑی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس نے پاکستان کے دعوے کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کیا کہ بھارت صرف سفارتی یا سرحدی سطح پر نہیں، بلکہ خفیہ کارروائیوں کے ذریعے بھی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا آرہا ہے ،تاہم اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس وقت ہی بیرونی دشمن کامیاب ہوتا ہے،

جب کہ اسے اندرونی کمزوریوں، محرومیوں یا انتظامی خلا سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے ،اس لیے بلوچستان کے مسئلے کا حل صرف سکیورٹی آپریشنز تک محدود نہیں رہنا چاہئے ،اس کے لیے سیاسی مکالمہ، معاشی انصاف، مقامی شمولیت، تعلیم، روزگار اور گورننس کی بہتری بھی ناگزیر ہے۔
بلوچستان کے عوام نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں، صوبے کے قبائلی عمائدین، نوجوانوں، طلبہ، علما، صحافیوں اور عام شہریوں کی بڑی اکثریت امن، ترقی اور پاکستان کے ساتھ مضبوط وابستگی کی خواہاں ہے، اس عوامی وابستگی سے دہشت گرد تنظیمیں خوفزدہ ہیں، اس لیے کبھی سڑکوں پر سفر کرنے والوں کو نشانہ بناتی ہیں، کبھی مزدوروں کو قتل کرتی ہیں، کبھی فورسز پر حملے کرتی ہیں اور کبھی ترقیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہیں،ان کا مقصد بلوچ عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں، بلکہ بلوچ عوام کو ہی خوف، غربت اور تنہائی میں دھکیلنا ہے۔
اس چیلنج کا جواب ریاستی سطح پردو جہتوں میں ہونا چاہیے ،پہلی جہت سکیورٹی ہے، جہاں دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور سرحد پار رابطوں کو فیصلہ کن انداز میں ختم کرنا ہوگا، دوسری جہت عوامی اعتماد کی ہے، جو کہ صرف طاقت کے استعمال سے حاصل نہیں ہوتا ،بلکہ انصاف، خدمت اور شفاف حکمرانی سے مضبوط ہوتا ہے،اس کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری کافی نہیں، میڈیا، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اس طرح سیاسی جماعتوں کو بھی بلوچستان کے مسائل پر وقتی بیانات سے آگے بڑھ کر سنجیدہ پالیسی سازی کرنی چاہیے ،صوبے کے نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا، انہیں معیاری تعلیم، ہنر، روزگار اور سیاسی نمائندگی دینا دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دینے کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔
بلوچستان میں امن کا قیام دراصل پاکستان کے معاشی مستقبل، علاقائی رابطوں اور قومی استحکام سے جڑا ہوا ہے،اس وقت ہی گوادر، سی پیک، معدنی وسائل، توانائی منصوبے اور وسطی ایشیا تک رسائی جیسے امکانات حقیقت بن سکتے ہیں ،جب کہ صوبے میں پائیدار امن، عوامی شمولیت اور مؤثر حکمرانی موجود ہو گی،دشمن پا کستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے ہر بے آزمارہا ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ پاکستان دشمن کے عزائم سے غافل نہیں، سکیورٹی ادارے میدان میں موجود ہیں، بلوچستان کے عوام تنہا نہیں اور اس جنگ کوریاست عوام کے ساتھ مل کرمنطقی انجام تک پہنچانے کا نہ صرف عزم رکھتی ہے، بلکہ اس عزم کو پوار کر کے بھی دکھائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں