سیاسی بحران میں اتفاق راے کا ایجنڈا
سیاسی بحران میں اتفاق راے کا ایجنڈا عید آئی اور چلی گئی ،لیکن سیاسی محاذ آرائی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے ، اس سیاسی محاذ آرائی نے نہ صرف اداروں کو سیاسی میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے،
تازہ ترین
سیاسی بحران میں اتفاق راے کا ایجنڈا عید آئی اور چلی گئی ،لیکن سیاسی محاذ آرائی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے ، اس سیاسی محاذ آرائی نے نہ صرف اداروں کو سیاسی میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے،
آڈیو لیکس کا کھیل کب تک؟ ملک انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے ،لیکن حکمران ملک کو گھمبیر صورت حال سے نکالنے کے نجائے آئے روز ایک نیا کھیل تماشا شروع کردیتے ہیں ،پا کستانی سیاست میں انتخابات ہو نے
درست راستے کا انتخاب ! ملک کا آئین اجازت نہیں دیتا کہ الیکشن میں تاخیر کی جائے ،لیکن انتخابات کا انعقاد تا حال ایک معمہ بناہوا ہے ،حکومت کے وزیر ڈاخلہ دو ٹوک پیغام دے چکے ہیں کہ جتنا مرضی زور
ملک نازک موڑ سے گزر رہاہے ! ملک انتہائی نازک دور سے گزرہا تھا کہ جب اتحادی بڑے دعوئوں کے ساتھ اقتدار میں آئے کہ ہم سب کچھ درست کردیں گے ،لیکن سارے دعوئے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ،اتحادی سال بھر
مذاکرات سے ہی مفاہمت کی راہ نکلے گی! اقوام عالم کی تاریخ تنازعات سے بھری پڑی ہے ، دنیا میںکوئی قوم بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ انہوں نے تنازعات سے نکلے بغیر ترقی کی منازل طے
ڈی آئی خان / ٹانک میں ہوئی حالیہ مردم شماری تحریر، “داور خان کنڈی” سابق ممبر قومی اسمبلی،، ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن خیبر پختونخواہ کے انتہاٸی پسماندہ (جنوبی اضلاع) ضلع ٹانک اور ڈیرہ
ہم داعیان اسلام میں بھی، کیا اخلاق و اقدار و کردار کا فقدان موجود ہے؟ نقاش نائطی ۔ +966562677707 حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی علیہ الرحمہ کی قبر اطہر پر، وقت تدفین ڈالا گیا پانی سوکھا بھی گیا
انڈین گرانڈ مسجد کیلیکٹ کیرالہ نقاش نائطی ۔ +966562677707 کانتی پورم استاد مشہور داعی اسلام مفتی اعظم کیرالہ اے پی ابوبکر مصلیار کی محنت و جانفشانی سے تعمیر کالکیٹ کی جامع مسجد مرکز علمی شہر
استحکام کا راستہ کھولنا ہو گا ! ملک میں سیاسی و معاشی بحران کے ساتھ آئینی بحران بھی آچکا ہے،الیکشن کمیشن نے نوے دن کے اند ر انتخابات کروانے کا شیڈول واپس لے لیا ہے ،تحریک انصاف قیادت نے الیکشن
الیکشن سے بھاگ کر جان نہیں چھوٹے گی ! پی ڈی ایم بڑے شوق سے عمران خان کی حکومت ختم کرکے اقتدار میں آئے تھے ،یہ بڑے ُپر جوش تھے کہ حکومت ومعیشت کو سنبھال لیں گے، لیکن اب ہاتھ مل رہے ہیں کہ ہم سے