63

قومی معیشت اور عوام !

قومی معیشت اور عوام !

قومی معیشت کی بحالی کے لئے حکومت کی جانب سے کی گئی کوششوں کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے قوم کو خوش خبری سنائی کہ معیشت کی گاڑی پٹری پر ڈالی جاچکی ہے، ملک دیوالیہ ہونے کے جس خطرے کے دہانے پرکھڑا تھا،اب اس سے کوسوں دور ہے، وزیر خزانہ کے بقول بھی ملک میں مہنگائی کم ہوئی ہے اور معاشی ترقی کی رفتار عالمی اداروں کے جائزوں میں پیش کئے گئے

اندازوں سے زیادہ رہی ہے،لیکن ،اس کے اثرات ملک پر کہیں دکھائی دیے رہے ہیں نہ ہی عام آدمی کی زندگی میں کو ئی تبدلی نظر آرہی ہے ۔ہمارے ملک میں ہر حکومت بس معیشت پر ہی سیاست کرتی آرہی ہے، حالانکہ معیشت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ،معیشت کو انتہائی سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہاں حکومتیں معیشت کو سنجیدگی سے لے کر چلنے پر تیار ہی نہیں ہوتی ہے ،اس کے باعث ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا ہی چلا جاتا ہے،اس ملک میں جو حکومت آئی ہے،

وہ قرضے لیتی ہے اور ملک کو قرض پر ہی چلاتی رہی ہے، اس سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے اقتدار میں تو اپنی باریاں لینے تو آتے ہیں، مگر ان کے پاس ملک کو چلانے کے لیے کوئی پلان ہے نہ ہی کوئی روڑ میپ ہے ، ایک کے بعد ایک نئے بیانیہ کے ساتھ ہی ڈنگ ٹپایا جارہا ہے اور عوام کو بتایا جارہا ہے کہ معیشت کی گاڑی پٹری پر ڈالی جاچکی ہے۔اس پرکس کا یقین کریں اور، کس کا نہ کریں،ایک طر ف وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے دعوے ہیںتو دوسری جانب ماہرین معاشیات تصدیق کر رہے ہیں کہ ملکی خزانے پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا ہے ،

اس حکو مت کے پہلے اکیس ماہ کے دوران قرضوں میں بارہ ہزار سات سو تینتیس ارب روپے کا اضافہ ہوا، نومبر 2025ء تک وفاق کا قرضہ 77 ہزار 543 ارب روپے ہو گیا ، نگران حکومت کے آخری مہینے تک یہ قرض 64 ہزار 810 ارب روپے تھا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق مارچ 2024ء سے نومبر 2025ء کے 21 مہینوں کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضے میں 11 ہزار 943 ارب روپے اور بیرونی قرضے میں 790 ارب روپے کا اضافہ ہواہے۔
اگر ملکی معیشت سے متعلق اعداد وشمار اور دستاویزات کی گواہی سے آگے بڑھیں تو حیران کن طور پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا اعترافی بیان سامنے ا ٓتا ہے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال اطمینان بخش اور حوصلہ افزا نہیں ہے،

انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ کچھ کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ کر جا رہی ہیں اور یہ محض مخالفین کا پروپیگنڈا نہیں، بلکہ حقیقت ہے کہ ٹیکس اور توانائی کی قیمت زیادہ ہے، ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہو گی، وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے، معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، نجی شعبے کو بھی آگے آ کر معیشت میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
ہر حکو مت ہی معاشی ترقی کے زبانی کلامی دعوئے ہی کرتی چلی آرہی ہے ، جبکہ معاشی ترقی کے لیے باتوں سے آگے بڑھ کر ڈلیوی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ،نجی سعبوں کے ساتھ خود بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کر نے کی ضرورت ہے ، ایک جانب وزیر اعظم کے معاشی استحکام، اقتصادی ترقی اور ملک کے خوشحالی کے سفر پر گامزن کے دعوے ہیں تو دوسری جانب ان ہی کی کابینہ میں خزانے کا قلم دان سنبھالے وزیر محترم کے اعترافات ہیںکہ جن کی تردید کوئی نہیں کررہا ہے ،اس لیے بہتر ہو گا کہ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار عوام کو ترقی و خوش حالی اور معاشی استحکام کے غیر حقیقی خواب دکھانے کے بجائے معاشی صورت حال کی حقیقی بہتری اور اصلاح کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات پر توجہ مرکوز کریں،عوام رُل رہے ہیں اور ارباب اختیار ترقی و خوش حالی کا راگ ہی الا پے جارہے ہیں۔
اس ملک میںغریب کی آواز سننے والا کون ہے ؟ کبھی خیال آئے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے، کچھ دن پہلے ہی کی بات ہے کہ سر ے راہ ایک غریب ماں جی سے ملاقات ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک بیوہ خاتون ہیں، کرائے پر رہتی ہیں، ایک بیٹا اچھاپڑھا لکھا ہے، لیکن وہ دماغی طور پر معذور ہے،اس کی وجہ صرف بے روزگاری ہے ، ایک جوان انسان کا جو اپنے گھر کا واحد کفیل ہو،اس کی اچانک نوکری چلی جائے اور پھر کوئی کام نہ ملے تو وہ پاگل ہی ہوجائے گا، ماں جی اپنے پاگل بیٹے کو پالنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، لیکن اس بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے اب دو وقت کی روٹی کھاسکتی ہی نہ ہی گھر کے بلز ادا کر سکتی ہیں، یہ سب بتاتے ہوئے ان کی انکھیں اشکبار ہوگئیں،کیا

ایک غر یب ماں کے ان آنسوئوں کا کو ئی مدوا کر سکتا ہے۔اس پر حکومت وقت سے ایک ہی سوال بنتا ہے کہ ایک طرف معیشت کی بحالی کے دعوئے ہیں اور دوسری جانب کیا ہماری معیشت اس قدر بدحال ہوگئی ہے، جو کسی غریب کے دکھوں کا مداوا بھی نہیں کرسکتی؟ کیا کسی کو ایسی ہزاروں روتی سسکتی مائوں کے آنسو نظر نہیں آتے ؟ کیا یہاں کوئی ایک بھی ایسا حکمران نہیں ،جو کہ ان مائوں کو دو وقت کا کھانا دے سکے؟

کیا پاکستان میں رہنا ایک سزا بن گیا ہے اوراس حد تک نوبت آگئی ہے یا تو غریب مرجائے یا ملک بدر ہوجائے،اگر عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں، اگر علاج اور تعلیم خواب بنتے جا رہے ہوںاور اگر ریاست پھر بھی خود کو کامیاب قرار دے رہی ہو تو پھر یہ صرف وقت کا کھیل ہے ،وقت جو نہ نعروں کو مانتا ہے، نہ بیانیوں کو دیکھتا ہے، بلکہ آخرکار فیصلہ عوام کے ہاتھ میں دے دیتا ہے ،یہ فیصلہ خاموش ہوتاہے، مگر اسکے نتائج بہت بلند آواز میں سنائی دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں