پیپلز پارٹی کی مسلح وارداتیں ہماری مقبولیت سے خوفزدہ ہونے کی علامت ہے۔عمران خان 74

احتساب عدالت میں نوازشریف کے کیس کی براہِ راست کوریج ہونی چاہیے: عمران خان

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ احتساب عدالت میں نوازشریف کے کیس کی ضرور براہِ راست کوریج ہونی چاہیے۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ دہشتگردی کا قانون اس لیے نہیں بنایا گیا کہ کوئی اپنا جمہوری حق استعمال کرکے مظاہرہ کرے تو اس پر دہشت گردی ایکٹ لگایا جائے، مظاہرے کے دوران دہشت گردی کی شق نہیں لگاسکتے، یہ اس شق کا مذاق ہے، کسی نے نواز شریف پر جوتا پھینکا اس پر بھی دہشت گردی کی شق لگادی گئی، اس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں مظاہرہ بنیادی چیز ہے، کسی کو مظاہرہ نہ کرنے دینا جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی بات ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ نوازشریف ٹھیک کہتے ہیں، اگر میں سیاست نہ کرتا تو قوم ان کے بچوں کے بچوں کی غلامی کرتی، ان لوگوں نے ادارے تباہ کردیئے اور لوگوں کو خرید لیا، ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔

عمران خان نے کہا کہ نوازشریف اور شہبازشریف نے قوم کو پاگل بنایا ہوا ہے، بڑا بھائی کہتا ہے فوج اور عدالت سازش کررہی ہے، چھوٹا بھائی جنرل باجوہ کی ایسی تعریف کررہا ہے جیسے انہیں عشق ہوگیا ہو، دونوں بھائی ڈرامہ کررہے ہیں، ایک پریشر ڈالتا ہے دوسرا بات کرنے کی کہتا ہے، ایک بھائی چھپ کر ملنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ جنرل باجوہ نےکوئی این آر او دیں، اب اس ڈرامے سےکوئی پاگل نہیں بن رہا ، قوم سمجھ چکی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا مطلب زرداری ہے اگر اس سے اتحاد کرنا ہوتا تو نوازشریف سے کرلیتے کیونکہ دونوں ہی کرپٹ ہیں، صرف طریقہ کار میں فرق ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کامطالبہ اس لیے ہوا کہ شہباز شریف نے 57 فیصد بجٹ لاہور پرلگادیا، جنوبی پنجاب کے لوگوں میں جائز احساس محرومی ہے، ان کے مطالبات کی حمایت کرتا ہوں۔

شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ عدالت سے بیٹھ کر جھوٹی خبر نکالی جارہی ہیں، جیسے نوازشریف بچ گئے ہیں۔

عمران خان نے مطالبہ کیا کہ نوازشریف کے احتساب عدالت میں کیس کی براہِ راست کوریج ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں