نقاش نائطی 112

خدمت خلق ایک مبارک سفر

خدمت خلق ایک مبارک سفر

۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707

یہاں ہر کوئی مصروف تر ہے کوئی پیسہ بنا رہا ہے تو کوئی پیسہ اڑا رہا یے کوئی قربانی کررہا یے تو کوئی قربانی کا گوشت مزے لے لیکر کھارہا ہے، تو کوئی خود قربان ہو رہا ہےسرکار دو عالم محمد مصطفی ﷺ کا گزر مدینہ کے بازار سے ہوتا ہے۔ایک اچٹتی نظر بازار پر ڈالتے ہیں، یہاں ہر کوئی مصروف عمل ہے۔ ہر کوئی اپنےمیں مست۔ آپ ﷺ کی نظر ایک یہودی بڑھیا پر مرکوز ہوجاتی ہے۔وہ اپنی صحت و استطاعت سے زیادہ بوجھ کندھے پر اور ہاتھ سے اٹھائے خراماں خراماں جارہی ہے۔ آپ ﷺ لپک کر اسکے پاس پہنچتے ہیں۔اسکے کندھے اور ہاتھوں کا بوجھ خود اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں۔ وہ بڑھیا بھی خوش ہوجاتی ہے، کہ تھوڑی اجرت تو جائے گی۔ لیکن خیریت کے ساتھ جلد ہی اپنے گھر پہنچ جائیگی
آپ ﷺ اس بڑھیا کا بوجھا اٹھائے، خاموشی سے اسکےساتھ چلنے لگتے ہیں۔راستے بھر توزیع اوقات کے لئے،بڑھیا بولنے لگتی ہے۔کہتی ہے سنا ہے۔کہ محمد ﷺنام کا کوئی نوجوان مدینہ میں نیا نیا آیا ہے۔باتیں تو اچھی کرتا ہے لیکن اپنے باپ دادا کے دین کے خلاف لوگوں کو متنفر کربھڑکاتا ہے۔ تم سے ملے تو اس سے دور ہی رہنا۔ سنا ہے اس میں جادوئی اثر و طاقت یے جو اس کے قریب جاتا ہے اسی کا ہوجاتا ہے۔

تم اچھے گھر کے لگتے ہو،اس کے قریب بالکل مت جانا دوری بنائے رکھنا۔آپ ﷺ خاموشی کے ساتھ بڑھیا کی باتیں سنتے ہوئے،بوجھا اٹھائے، اس بڑھیا کے گھر کی طرف رواں دواں ہیں۔اسکا گھر آجاتا یے۔آپ ﷺ اس کابوجھا اتار اس کے دروازے پر رکھ واپس جانے لگتے ہیں۔ بڑھیا آپ ﷺ کو سامان اٹھا لانے کے لئے، کچھ آجرت دینا چاہتی ہے،آپ ﷺ اجرت لینے سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ میں نے اجرت کے لئے آپ کا بوجھا نہئں اٹھایا۔ آپ بوڑھی تھیں اور بوجھ بھی زیادہ تھا۔ اس لئے انسانیت کے ناطہ میں نے آپ کی مدد کی تھی۔ یہ کہتے ہوئے آپ ﷺ واپس لوٹنے لگتے ہیںبڑھیا آپ ﷺ کو دعائیں دیتے ہوئے،

آپ کا نام پوچھتی ہے۔ اور جب آپ ﷺ اپنا نام محمدﷺبتاتے ہیں تو بڑھیا بےاختیار بول اٹھتی ہے “لوگ محمد ﷺ کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں۔اس طرح انسانیت کی بھلائی کی سوچ رکھنے والا جھوٹا کیسے ہوسکتا ہے؟ بے شک تو، محمد ﷺ جو نبی ہونے کا دعوہ جو کرتا ہے،تو سچا ہے۔میں یہودی بڑھیا تیرے نبی ہونےکو سچ مانتی ہوں۔

اور تجھ پر ایمان لاتی ہوں” آپ ﷺ کے،انسانیت کے تئین اپنی بے لوث خدمت اور اپنی خوش اخلاق سے، ایک یہودی بڑھیا کو مشرف اسلام کرتے ہیں اس ایکیسویں صدی میں،اس جدت پسند عصری تعلیم یافتہ دنیا میں، جہاں ہر کوئی اپنی اپنی مصروفیت میں مگن مسح جی رہا ہے ،کچھ مخلص سفید ریش بزرگ، کڑیل،اپنی جوان کی عمر چھوٹے بچے بھی،للہ فاللہ بھوکی پیاسی دکھتی انسانیت تک دو وقت کا اچھا کھانا پانی پہنچانے کے لئے جہاں عالم کے کونے کونے میں سرگرداں ہیں۔ دنیا واسیوں سے پوچھ پوچھ کر، انکے انکے حصے کی رقم جمع کئے

اپنے دیش میں اجتماعی قربانی کئے، تازہ قربانی کا گوشت، دیگر ضروریات کی چھوٹی چھوٹی چیزیں، عزت سنبھالے، گھر بیٹھے بیکسوں تک پہنچانے کا انتظام کررہے ہیں۔ پورے عالم کے مسلمان، اس عید قربان پر، انیک اقسام کی قربانی دے رہے ہیں۔ کوئی جانور کی قربانی دیتا ہے، تو کوئی اپنا قیمتی و صلاحیت کی قربانی دیتا ہے۔ کچھ ایسی ہی بہار انجمن والوں کی خدمات بھی لائق تحسین ہیں۔ اللہ ہی سے دعا ہے دکھی انسانیت کی خدمت خلق کرنے والوں کی تو،بھرپور مدد و نصرت کر یا رب۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں