مستقبل کے راستے کا انتخاب ! 18

شفاف انتخابات ،دیوانے کاخواب !

شفاف انتخابات ،دیوانے کاخواب !

انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہو نے جارہے ہیں ،لیکن یہ انتخابات اپنے انعقاد سے پہلے ہی شکوک و شبہات کی حد سے نکل کر اب تنازعات کی زد میں آنے لگے ہیں، ایک طرف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلسل اعتراضات و خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے تو دوسری جانب ایک ہی سیاسی جماعت کیلئے جس طرح میدان صاف کیا جارہا ہے،یہ انتخابات سے قبل ہی ان کا متنازع بنادینے کے لئے کافی ہے، ایک ایسے ماحول میں ہونے

والے انتخابات اور ان کے نتائج کو کس طرح ساری سیاسی جماعتیں تسلیم کر پائینگی،یقینی طور پر بہت سارے اعتراضات کے ساتھ احتجاج بھی ہوگا،جو کہ سیاسی و معاشی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہی کرے گا۔
یہ سب ہی جانتے ہیں کہ ملک میں آزادانہ شفاف انتخابات وقت کی اہم ضرورت ہیں ،لیکن آزاد انہ شفاف منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہوتا دور تک دکھائی نہیں دیے رہا ہے ، الیکشن کمیشن سے لے کر نگران حکومت تک سبھی دعوئے تو بہت کررہے ہیں ،مگر عملی طور پرایسا کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے کہ جیسے دیکھتے ہوئے کہاجاسکے کہ انتخابات آزادانہ منصفانہ ہو پائیں گے ، ایک طرف سیاسی جماعتیں انتخابات میں یکساں مواقع نہ ملنے کے شکوئے کررہی ہیں تو دوسری جانب عام عوام بھی دھونس ،زور زبر دستی کی شکایات کرتے دکھائی دیے رہے ہیں

، اس صورتحال میں آزادانہ شفاف انتخابات کے سارے ہی دعوئے خود کے ساتھ عوام کو بھی دھوکہ دینے کے ہی مترادف ہیں ۔پا کستانی عوام کو ہر انتخابات کے انعقاد سے قبل آزادانہ شفاف انتخابات اور آزادانہ سیاسی عمل کے خواب دکھائے جاتے رہے ہیں ،اس بار بھی دکھائے جارہے ہیں، پاکستان میں ایک آزدانہ شفاف انتخابات اور آزادانہ سیاسی عمل کسی دیوانے کا خواب ضرور ہے، لیکن اس کی تعبیر ایسی ناممکن بھی نہیں ہے

کہ پوری ہی نہ ہو پائے، اس میں اداروں کے ساتھ اہل سیاست اپنا اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں ، لیکن ابھی تک ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیے رہا ہے ، ابھی تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ جیسے سارے آزاد انہ سیاسی عمل کے دعوئوں کے باوجود منقسم مینڈیٹ ہی آئے گا ، یہ سیاسی استحکام کیلئے اس قدر خطرناک نہیں ہے ،جینا کہ قدر مصنوعی سیاسی استحکام لانے کی کوششیں خطرناک ہو سکتی ہے۔
یہ کتنی عجب بات ہے کہ بار بار ناکام تجربات ہی دہرائے جارہے ہیں ، آزمائے ہی آزمائے جارہے ہیں اور عوامی فیصلے ماننے کے بجائے بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جارہے ہیں ، اب بھی وقت ہے

کہ عوام سے رجوع کیا جائے، ادھر اُدھر دیکھنے کے بجائے عوام پر اپنا انحصار بڑھایا جائے ، اہل سیاست حقیقی ایشوز کی سیاست کریں اور سب سے بڑھ کر گالم گلوچ ، الزامات اور نفرت والا سیاسی بیانیہ ختم کریں، اعلیٰ سیاسی اقدار کی بنیاد پر اختلافات کو منطق اور دلائل کی راہ پر لے کر آئیں، اس سے زیادہ اہم بات یہ ہو گی کہ اپنے اپنے منشور میں اپنا اپنا پروگرام دینے کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا ایک با ب بھی منشور میں شامل کریں اور انتخابی مہم اس وعدے پر چلائیں کہ وہ انتقام یا کسی اور کے ایجنڈے کی سیاست نہیں کریں گے ،

بلکہ عوامی سیاست کریں گے ، عوام کے سامنے خود کو پیش کر یں گے اور عوام جو بھی فیصلہ کریں گے ، اس فیصلے کو سب ہی دل سے قبول کریں گے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اہل سیاست کی محاذ آرائی اور اداروں کے غیر ذمہ دارانہ رویئے کے باعث اب تک بہت نقصان ہو چکا ہے ، مگر اب بھی پلوں کے نیچے سے سارا پا نی نہیں گزرا ہے ، اب بھی وقت ہے کہ اس دوبتی نائو کو بچا یا جائے ،اب بھی وقت ہے

کہ اپنے ساتھ ساتھ ملک کی سمت بھی درست کر لی جائے ، اس وقت سب سے زیادہ ذمہ داری مقتدر حلقوں کے ساتھ اہل سیاست کے کندھوں پربھی آتی ہے ،اگر یہ دونوں چاہیںتوملک درست ڈگر پر لایا جاسکتا ہے ،عوام کے شفاف انتخابات کا ادھوراخواب پورا کیا جاسکتا ہے، ملکی سیاست ومعیشت کو بھی ٹھیک کیا جاسکتا ہے، مہنگائی کا جن بو تل میں بندکیا جا سکتا ہے ، عوام کی زندگیوںکو بھی بدلا جاسکتا ہے ،

لیکن اس کیلئے سب کو ہی اپنی اَنائوں کی قربانی دینا ہو گی ،ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہو گا ،ماضی بھول کر آگے کی جانب بڑھنا ہو گا ، شفاف انتخابات کے انعقاد کا خواب پورا کرنا ہو گا، اس صورت میں ہی ملک میں حقیقی سیاسی و معاشی استحکام آپائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں